ڈاکٹروں کی غفلت سے میرا پوتا موت کے منہ میں چلا گیا، محکمہ جنگلات کے چوکیدار کی دہائی

چلاس(ڈسٹرکٹ رپورٹر)گلگت ڈی ایچ کیو اسپتال کے ڈاکٹر اور سٹاف کی لاپرواہی کی وجہ سے میرا اکلوتا پوتا موت کی منہ میں چلا گیا ہے وزیر اعلی ،وزیر صحت اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نوٹس لیں اور متعلقہ ڈاکٹر اور عملہ کے خلاف سخت ایکشن لیں جو انسانی جان کو اہمیت غریب ہونے کی وجہ سے نہیں دے رہے ہیں ان خیالات کا اظہار محکمہ جنگلات دیامر کے غریب چوکیدار عمر فاروق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 6مارچ 2015کوچائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر رفیع نے میرا دوسالہ اکلوتابیٹامحمد افتخار کو گلگت ڈی ایچ کیو اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایڈمٹ کیا رات گئے میرے بیٹے کی تکلیف میں اضافہ ہوا لیکن ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث کچھ نہیں کر سکے لیکن صبح ڈاکٹر منظور وارڈ کے راؤنڈ پر آئے تو ہم نے بیمار کی تکلیف سے آگاہ کیا جس پر وہ غصے میں آپے سے باہر ہوگئے اور وہاں پر موجود عملے نے بھی ڈاکٹر کے ہاں میں ہاں ملادیا اور ڈاکٹر نے میر ا بیٹا چیک کئے بغیر نکل گیا انہوں نے کہا کہ اسکے بعد بیٹے کو مذید تکلیف ہوئی تو بچے کو وارڈ سے نکالا اور ہم داکٹر رفیع کے پہنچے۔جنہوں نے دوبارہ ٹیسٹ وغیرہ کرائے لیکن ٹیسٹ کے رپورٹ آنے سے قبل ہی بچہ انتقال کر گیا انہوں نے کہا کہ 7مارچ کی صبح ڈاکٹر منظور اور عملہ کی لاپرواہی کی وجہ سے میرا بیٹا اس دنیا سے چلا گیا ہے انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانیت کے بجائے شخصیات کو دیکھ کر علاج کرنے والے مسیحا نہیں بلکہ انسانیت کے قاتل ہیں ایسے ڈاکٹراور عملے کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ورنہ ہم فیملی سمیت بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت