بین الاقوامی ڈونر ایجنسی کے عہدیداروں اور چئیر مین نے چترال کا دورہ کیا، محتلف ترقیاتی سکیموں کا معائنہ کیا

بین الاقوامی ڈونر ایجنسی کے عہدیداروں اور چئیر مین نے چترال کا دورہ کیا، محتلف ترقیاتی سکیموں کا معائنہ کیا

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

DSC02899

چترال(گل حماد فاروقی) جرمنی کے KFW ڈونر ادارے اور پاکستان افغانستان تاجکستان علاقائی مربوط پروگرام کے بورڈ چئیرمین اور دیگر عہدیداران نے چترال کا دورہ کرکے ان کے ادارے کی مالی تعاون سے چلنے والے محتلف ترقیاتی سکیموں کا معائنہ کیا۔

اس ٹیم میں اولف زیملکا ہیڈ افغانستان پاکستان KFW اور PATRIPکے بورڈ کے چئیرمین، جن کلاسعن ہیڈ گورننس اینڈ پیس پروگرام، مس ڈیانا ہیڈریچ پراجیکٹ منیجر، مارشل کنسلٹنٹ، وولف گینگ کنٹری ڈائریکٹر آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل منیجر عبد المالک، شاہد ندیم اور شہزاداہ خالد سعید کنسلٹنٹ موجود تھے۔انہوں نے چترال کے محتلف علاقوں کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے معائنہ کرتے ہوئے چیو ڈیک میں واٹر سپلائی سکیم کے تکمیل پر لوگوں کے تاثرات اور اس منصوبے سے ان کو فائدے کا بھی جائزہ لیا۔ 

چیوڈوک میں ڈھائی ہزار آبادی کیلئے 2.5 ملین کی لاگت سے 23000فٹ کے فاصلے سے پائپ لائن لایا گیا ہے اور مقامی لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے عبد الجلیل نے کہا کہ پہلے لوگ دور سے پانی لانے پر مجبور تھے بچے سرو ں پر پانی لاتے تھے اور ان کا پڑھائی متاثر ہورہی تھی اب یہ مسئلہ حل ہوا۔

نذیر خان نے کہا کہ پہلے لوگ گندہ پانی پی کر محتلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے تھے اور زیادہ پیسہ علاج پر خرچ ہوتا اب آغا خان رورل سپورٹ پروگرا م کے ذریعے پاکستان غربت مکاؤ فنڈ اور کے ایف ڈبلیو جرمنی کی مالی تعاون سے اس گاؤں میں صاف پانی کا پائپ لائن لا یا گیا ہے اور اب ہماری جانوں کو کوئی حطرہ نہیں ہے۔

DSC02904 (1)

میر عبا داللہ کا کہنا ہے کہ اس پانی سے نہ صرف لوگوں کو پینے کی صاف پانی مل گئی بلکہ اس سے ہم سبزیاں بھی اگاتے ہیں اور پودوں کو بھی پانی دے سکتے ہیں۔

سمیرا بنت ایوب نے کہا کہ مجھے اس منصوبے کے تحت چھوٹے کاروبار کیلئے امداد ملا جس سے میں نے چھوٹا سا کاروبار شروع کیا پیکو مشین وغیرہ ملنے کے بعد گاؤں میں مشین سے کام شروع کروایا جس سے میں اتنی آمدنی حاصل کرتی ہوں کہ میں صبح کے وقت کالج میں پڑھتی ہوں اور دوپہر کے بعد اپنا کاروبار کرکے خود اپنی خرچہ کما لیتی ہوں۔

نازیہ حسن نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ہم نے محتلف قسم کے ہنر کے میدان میں کام کیا اور کئی لڑکیوں کو تربیت دی ان کے ساتھ مدد کی اور ان کو چیزیں بھی مفت فراہم کرکے ان کو اس قابل بنایا کہ اپنے گھر پر بیٹھ کر عزت کے ساتھ رزق حلال کماسکتی ہیں۔ تیس خواتین کو فائدہ پہنچ چکا ہے۔ 

بشریٰ اکبر کا کہنا ہے کہ ہم نے 473 خواتین کو ہم نے مشین وغیرہ فراہم کرکے ان کو اس قابل بنایا کہ وہ گھر بیٹھ کر روزی کما سکتی ہے۔ بشریٰ نے مزید بتایا کہ ہمارے معاشرے میں جو خواتین کچھ کما کر لاتی ہے ان کی عزت بھی ہوتی ہے اور جو خواتین کچھ نہیں کماتی ان کو اتنی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔