یہ کھیل تماشا۔آخر کب تک۔؟؟

یہ کھیل تماشا۔آخر کب تک۔؟؟

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Sher Ali Anjum پاکستان اور چائینہ ایک تاریخی منصوبے کی بنیاد رکھنے جارہے ہیں لیکن اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ چین نے گلگت بلتستان سے گزر کر گوادر پونچنا ہے،اس اہم منصوبے کی صدر دروازے کا کہیں ذکر ہی نہیں۔اس اہم پروجیکٹ پر ایک اہم فریق سے رائے نہ لینااور بین الاقوامی میڈیا کااکنامک کوریڈور کے روڈ میپ سے گلگت بلتستان کا نام ہی حذف کرکے اس خطے کو آذاد کشمیرنام سے دکھانا کئی سولات کو جنم دیتے ہیں۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھی مقامی حکومت کا اس حوالے سے لوکل اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیکر یہ عہدکرنا کہ ہم پہلے بھی مفادات کے غلام تھے اورمستقبل میں بھی رہیں گے، ایک المیے سے کم نہیں مجھے نہیں معلوم ہماری حکومت کو کیا لقب ملنا چاہئے لیکن اتنا ضرورکہوں گا کہ جو عناصر خطے کا سودا ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی خاموش رہے اُنہیں بے غیرت کہیں تو بے ادبی نہیں ہوگی۔ آج اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلے بیس لاکھ کے لگ بھگ آبادی میں سے صرف چند ہزار لوگ اس حوالے سے مقامی پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر احتجاج کر رہے ہیں ملکی میڈیا تک ہماری رسائی نہیں الیکٹرونک میڈیا ہمیں گھاس نہیں ڈالتے لیکن ایک ہم اتنے وفادار ہیں کہ ہماری اس وفاداری پر خود وفا کو بھی شائد رشک آجائے۔ عجیب صورت حال ہے قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ جو دفاعی اعتبا رسے خاص اہمیت رکھتے ہیں، شاہراہ قراقرم کی اپنی ایک الگ اہمیت ہونے ساتھ پاک چین تجارت کے حوالے سے بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں صرف یہ نہیں بلکہ اس شاہراہ کوپاک چین دوستی کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو ،ننگا پربت،شندور ،سوست اور دیوسائی بھی اس خطے کی ایک عظیم پہچان ہے صرف یہ نہیں بلکہ دنیا کا مہنگا ترین جنگی محاذ سیاچن بھی یہاں پر واقع ہے یعنی اس خطے کو سنٹرل ایشاء کی عین سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے مگر اسلام آباد سرکار مفاد کی حد تک خطے کو پاکستان کا حصہ تصور کرتے ہیں ۔آج پاکستان کے زیرانتظام ہونے کے آٹھاسٹھ سال بعد بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم یہاں کے باشندے آئینی و قانونی طور پر پاکستانی ہونے کی تمناکررہے ہیں ۔اب سوال اُٹھتا ہے کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ لہذا قارئین کی معلومات کیلئے چند باتیں تاریخ کے دریچوں سے نکال کر بند قلم کرنا ضروری سمجھتا ہوں،تقسیم برصغیر کے وقت گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا اور یہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی مگر تقسیم کے بعد آذادی ایکٹ 1947کے تحت متفق طور پر ریاست کے حکمران کو حق دیا کہ وہ جس کے ساتھ شامل ہونا چاہیں انکی مرضی ہے یوں مہاراجہ نے ریاست جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو ایک طرف کشمیری عوام خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے تو دوسری طرف ریاست گلگت اور بلتستان کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت کاعلم بلند کرکے دونوں ریاستوں کو ڈوگروں سے آزاد کرکے ایک نئے ریاست کی بنیاد رکھی لیکن نہایت قلیل وقت میںیہ ریاست الحاق کے نام پر سازش شکار ہوا جسے آج بھی یہاں کے باشندے بھگت رہے ہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ28اپریل 1949 کو بدنام زمانہ معاہدہ کراچی کے ذریعے ریاست کے عوام سے کسی بھی قسم کا مشورہ کئے بغیرکشمیری حکمرانوں نے خطے کا سیاسی طور پر مستحکم نہ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مکمل طور پر پاکستان کے حوالے کر دیا،حالانکہ اس معاہدے سے صرف تین مہینہ پہلے 5جنوری 1949کو اقوام متحدہ نے ایک قراداد کے ذریعے ریاست جموں کشمیراور گلگت بلتستان کی حق خود ارادیت کو الگ الگ حیثیت میں تسلیم کیا تھا مگر بدقسمتی سے اس قراداد کی سیاہی خشک نہیں ہوا تھا خطے پر مستقل قبضہ جما لیا اُس وقت سے لیکر آج تک اس خطے کے تمام تر وسائل مکمل پاکستانی کہلاتے ہیں لیکن جب عوام کو حق دینے کی بات آتی ہے تو متنازعہ قرارا دیا جاتا ہے۔ آج جب کبھی یہاں کے عوام اپنے حقوق کیلئے اُٹھ کھڑے ہونے کی کوشش کریں تو ریاستی پالیسی کے تحت فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دہائیوں سے یہاں کے عوام کی جان مال محفوظ نہیں۔اب اگر ہم داخلی خود مختاری پیکج کا ذکرکریں اس کی قانونی حیثیت ایک مسلط نظام سے بڑھ کر کچھ نہیں سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں آئینی طور پر صرف چار صوبے ہیں اور پانچویں صوبے کا آئین اور دستور میں کہیں بھی ذکر نہیں ہمارے نام نہادحکمران صرف اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ انکے نام کیساتھ ٹائیٹل استعمال ہو رہے ہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈوگرہ طرز حکومت اور موجودہ نام نہاد صوبائی نظام میں کوئی واضح فرق نہیں کیونکہ ہم سنتے تھے کہ ڈوگرہ راج میں ریاست کا دارمدارپولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں ہوتا تھا بلکل اسی طرح آج بھی ایک غیر مقامی غیر منتخب وفاقی وزیر خطے پر مسلط ہے مگر بدقسمتی سے مراعات یافتہ طبقہ جنکے ہاتھ میں تمام سرکاری فنڈز ہوتے ہیں جو عوام کی فلاح کیلئے خرچہ کرنے کے بجائے اسلام آباد میں کوٹھیاں بنارہے ہیں ،سمجھتے ہیں کہ ہم ایک جمہوری نظام کے تحت کام کرتے ہیں حالانکہ جمہور اور جمہوریت کاخطے کی سیاست سے دور کا بھی رشتہ نہیں ۔ہمارے لیڈران اسی بے حسی کے سبب اطلاع یہ ہے اکنامک کوریڈور کے راستوں کو قانونی شکل دینے کیلئے گلگت بلتستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے اللہ کرے یہ بات خبر کی حد تک درست ہو، کیونکہ اُس پلان کے مطابق اقتصادی راہداری کو قانونی حیثیت دینے کیلئے گلگت کو کے پی کے میں شامل کرکے باقی ماندہ علاقوں کو آذاد کشمیر کی جولی میں ڈال کرعوام اور عوامی مسائل متازعہ حیثیت پر چھوڑنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ کچھ ماہرین قانون کے مطابق اگر وفاق چاہیں تو آئین میں ترمیم کرکے یہاں کے باشندوں کو مسلہ کشمیر کی حل تک عبوری طور پرپاکستانی شہری کا درجہ دیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کیوں کریں سب کچھ تو انکی مرضی کے مطابق تو چل رہاہے ،سوائے عوامی حقوق کے، جو کہ اتنا بڑا مسلہ بھی نہیں کیونکہ ارباب اختیار کے نزدیک عوام کی کوئی حیثیت نہیں جبکہ مہذب معاشروں میں عوام کو ریاست کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔آج یہ خطہ غیرآئینی ہونے کے باوجودیہاں غیرقانونی طور پر تمام قسم کے ٹیکسز لاگو ہیں موبائل کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپیہ ٹیکس کی مد میں وصول کر تے ہیں لیکن 3Gکی سہولیات دینے کے لئے تیار نہیں ، آبی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے یہاں پر ڈیمیں بنائے جا رہے ہیں جس سے اس خطے کے کثیر علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے واضح امکانات ہیں لیکن نام اور رائلٹی دوسرے صوبے کو دینے کی سازش ہو رہی ہے، تعلیم کے حوالے سے بات کریںیہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں سٹیٹ پالیسی کے تحت تعلیم کا فقدان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں کی آبادی کے ایک لاکھ لوگوں کیلئے ایک سیکنڈری سکول موجود ہے اسی طرح اگر ہم گرلز سکولز کے حوالے سے بات کریں تو خطے میں آج بھی ایسے گاوں دیہاتہیں جہاں لڑکیوں کیلئے اسکول کی سہولت موجود نہیں جس کے سبب مقامی باشندے نقل مکانی کرکے شہروں کی طرف رخ کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو بہتر تعلیم دلا سکے۔اس پورے ریجن میں گزشتہ68سالوں میں ایک ہی یونیورسٹی قائم ہوئی وہ بھی ایسی جگہ بنائی گئی ہے جہاں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اسٹودنٹس کیلئے علم حاصل کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ صحت کے مسائل بھی کچھ کم نہیں یہاں مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شرح اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہے ہیں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا فقدان ہے تو کہیں دوائی موجود نہیں ہوتے یعنی یہاں کے عوام کیلئے بیماری کا مطلب موت کا پیغام سمجھا جاتا ہے۔ آخر کب تک اور کیوں ؟۔

نوٹ:تمام قارئین سے ممتاز قوم پرست رہنما حیدر شاہ رضوی مرحوم کی ایصال ثواب کیلئے سورہ فاتحہ کی خصوصی گزارش ہے
از ۔شیرعلی انجم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔