چچا ادل بدل خان اور لوٹے کی تاریخ

چچا ادل بدل خان کا خیال ہے کہ دنیا کی ترقی کا عمل پہئے کی ایجاد سے نہیں لوٹے کی ایجاد سے شروع ہواہے ،پہیہ ایجاد ہوا تو زندگی چلنے لگے لیکن لوٹا ایجاد ہوا تو زندگی دوڑنے لگ گئی ،اقتدار کے ایوانوں سے لے کر غریب کی کٹیا تک لوٹے نے طرز زندگی ہی بدل ڈالا ،لوٹے کئی دھاتوں اور اقسام کے ہوتے ہیں ،دنیا جب کسی اور دھات سے واقف نہیں تھی تو مٹی کے لوٹے بننے لگے ،مٹی کے لوٹوں کے دور میں لوٹے کی حفاظت کی جاتی تھی اور ایک ہی جگہ اس کے لئے مخصوص تھی کہیں ٹوٹے نہ،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مٹی کے لوٹوں کے فورا بعد ہی بادشاہوں نے سونے کے لوٹے اس لئے ایجاد کئے کہ عام رعایا اور حکمرانوں میں فرق ہو ۔

چچا ادل بدل خان کے نام میں کیا رکھا ہے ان کے کام کی بات کی جائے تو ستر برس کی عمر میں بھی ایسی پھرتی ان کے انگ انگ میں بھری ہے کہ صبح اک طبقے کی دعوت میں مہمان خاص بنتے ہیں تو شام کو دوسرے طبقے کے دستر خوان پر ، یقین سے ان کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا ہے کہ خیر سے چچا ادل بدل کی وفاداریاں آخر ہیں کس کے ساتھ،، ان کی خاصیت ہی ایسی ہے کہ سب کو یہ باور کرانے میں مکمل کامیاب ہوتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں ، چچا کی پیدائش والے دن ہی شاید ان کے والدین کو ان کی آنیاں اور جانیوں کا علم ہو چکا تھا اور انہیں ادراک تھا کہ مستقل مزاجی اور وفاداری کبھی انہیں چھو کر بھی نہیں گزرے گی اس لئے ان کا نام بھی ادل بدل خان رکھ دیا گیا۔

اک دن میں نے چچا سے پوچھا کہ چچا کچھ تو احساس کرو روز روز وفاداریاں بدلنے کو تو لوٹا کریسی کہا جاتا ہے ،مسکراتے ہوئے کہنے لگے ،بیٹے جہاں ہر طرف کریسی ہی کریسی ہو ،کہیں بیورو کریسی ،کہیں ڈیمو کریسی تو کہیں شاہی کریسی وہاں لوٹا کریسی ہی ایک ایسا فن ہے جس سے ان سب کو رام کر کے اپنا مطلب نکالا جا سکتا ہے ،آج کے اس دور میں سب سے کامیاب فن ہی لوٹا کریسی ہے ،چچا ادل بدل خان پھر لوٹا کریسی کی تاریخ بیان کرتے ہیں توگمان ہونے لگتا ہے کہ آج کے دور کیلئے ایٹم بم سے زیادہ اہم لوٹا ہے ۔چچا کہتے ہیں کہ لوٹے کی تاریخ لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ۔

،،،،منقول،،لوٹے کی تاریخ ڈائنوسارس کے زمانے کے فوراً بعد سے شروع ہوتی ہے۔ ڈائنوسارس کے ہاتھ اگر چھوٹے نا ہوتے اور انہیں حاجت کے بعد نارسائی کا شکوہ نا ہوتا تو شاید وہ خود ہی لوٹا ایجاد کر لیتے۔، لوٹے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ کسی بھی رنگ شکل مادے اور سائز کا ہوسکتا ہے مگر خامی یہ ہے کہ ایک بار لوٹا ہوگیا تو پھر نا بدلا جا سکتا ہے اور نا ہی بڑھ یا گھٹ سکتا ہے۔

صلائے عام ہے یارانِ لوٹا دان کیلئے

جب چاہو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لو مجھ کو

لوٹا اوپر سے جیسا بھی نیچے سے ہمیشہ گول رہتا ہے جسکی وجہ سے اسکاسٹانس ایک نہیں رہتا۔ گھومتا لڑھکتا پھرتا ہے۔ سب کو زعم ہوتا ہے کہ لوٹا اسکا ہے مگر لوٹا جس کو چُست اسکو مفت کے مصداق صرف صاحب خانہ یا صاحب غسلخانہ کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اسکی رفاقت ہمیشہ کم مدتی ہوتی ہے۔لوٹے کا اصل مقصد دھیان بٹانا ہوتا ہے چونکہ اسکا پیندا چھوٹا ہوتا ہے اسی لئے ذرا سی ٹوٹی کھولنے پر یہ شور کرنا شروع کردیتا ہے اور اندر کی اصل شکست و ریخت کی بجائے باہر والوں کا دھیان صرف اسکے شور پہ رہتا ہے، جاننے والے جانتے ہیں کہ شور سے دھیان بٹانے والی خوبی کے سامنے کیئے کرائے پہ پانی پھیرنا فقط ایک ثانوی فائدہ ہے۔ 160نیک لوگ وضو کیلئے بھی لوٹا استعمال کرتے ہیں۔ نماز پڑھی کس نے دیکھی مگر وضو والا لوٹا سب دیکھتے ہیں،،،

۔ مندرجہ بالا خصوصیات کی وجہ سے لوٹے کی میدانِ سیاست میں بھی کافی مانگ ہے۔ سیاست میں لوٹے کا کردار کتنا اہم ہے اس کیلئے پرانی سیاسی تاریخ سے لے کر نئے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا ،خیر سیاست میں لوٹے کا کردار کیا ہے یہ ہماراّ ج کا موضوع نہیں ،اگر کسی کو لوٹوں کی سیاسی تاریخ کے ادراک کا شوق ہے تو برصغیر پاک ہند کی سیاسی تاریخ کو پڑھیں ،اگر تاریخ کے بالا خانوں میں جانے کا وقت نہیں تو ماضی قریب میں جب نیا پاکستان بن رہا تھا ایک جہاز دن رات شہر شہر لوٹوں کی خرید و فروخت کے لئے پرواز کرتا ہوا تو یاد ہوگا ،بس اتنا سمجھ لو یارو کہ ،لوٹے کا کردار گھر سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک تسلیم کیا جا چکا ہے ۔،،

چچا ادل بدل خان سے میں نے کہا چچا آپ لوٹے کو جتنا بھی اہم ثابت کرنے کے جتن کرو لوٹا لوٹا ہی ہوتا ہے ،چچا کھل کھلا کر ہنسے ،او کہنے لگے اومیرے بھولے ،تجھے کیسے سمجھاوں کہ تم جس دور کا سوچ رہے ہو اس دور میں ضمیر زندہ تھا تو لوٹے کی اہمیت نہیں ہوتی تھی آج کے دور میں جب ضمیر کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہیں تو لوٹے کا راج ہے ،اس لئے لوٹے کی اہمیت تسلیم کر کے لوٹا بننے میں ہی عافیت ہے ،چچا کی تقریر سے تنگ آکر میں نے کہا چچا آپ کا نام ہی ادل بدل خان ہے اس لئے پل دو پل میں بدل سکتے ہو،یہ لوٹا کریسی سے عشق آپ کو مبارک ہو ،ہم توگئے چچا ضمیر کی تلاش میں اور نہیں تو ضمیر کی قبر میں جا کر دو آنسو ہی گرائیں گے تو دل کو تسلی ملےگی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments