شندور میلہ اور پڑوسی  ملک

شندور میلہ اور پڑوسی  ملک

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:     شمس الحق قمرؔ 
چترال، حال گلگت

شندور فیسٹیول پر آئے دن ایسی خبریں ٹوٹتی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مثال کے طور پر کچھ حلقوں کا یہ کہنا کہ شندور فیسٹول کے پیچھے کسی پڑوسی ملک کا ہاتھ ہو سکتا ہے  اور یہ کہ پشاور میں اس مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کرنے والے رضاکاروں کو کسی غیر ملکی ایجنسی سے منسوب کرنا محب وطن لوگوں کے ساتھ توہین کے مترادف ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف چترال کے کچھ لوگ یہ فرماتے ہیں کہ شندور سے  50   یا 600کلومیٹر  کے  فاصلے  پر آبادلوگوں کا شندور سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ شندور صرف لاسپور کی ملکیت ہے ۔ اگر واقعی یہ بات ہے تو اسے خواہ مخواہ  غیر ضروری ہوا  دینے کی کیا ضرورت ہے؟

بات واضح ہے۔ یہ صرف دو بھائیوں کا جھگڑا ہے اوروہ بھی  مال مویشی چرانے کے چراگاہ پر۔  یہ وہ چراگاہ ہے جہاں صدیوں سے لاسپور اور غذر  کے، شندور سے ملحقہ گاوں کے، عوام  اپنے مال مویشی چراتے رہے ہیں۔ سردیوں میں غذر کے خوش گاو یا لاسپور کے خوش گاوشندور برف سے ڈھک جانے کے باعث بھٹک کر غذر یا چترال میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں کے لوگ ایک دوسرے کے مال مویشیوں کو  بہار کے موسم تک پالتے ہیں اور شندور کھلنے پر ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہیں یہ ان کی محبت کی زندہ مثال ہے۔  اب شندور کی آڑ میں امجد آفریدی کی نیک نیتی پر مبنی کوشش کو کسی ایجنسی کی کارستانی سے منسوب کرنا  اور کوشٹ، بونی کندوجال، مغلاندہ  اور پرواک کو  اس سے الگ سمجھنے کا مطلب کیا یہ نہیں لیا جائے گا کہ  یہاں کے باسی کسی ایجنسی  کے ایمأ پر کام کر رہے ہیں۔لہذا یہ خیال من گھڑت  اور بے بنیاد ہے۔

مفاہمتی یادداشت میں نے پڑھی ہے اس میں کوئی ایسا نکتہ موجود نہیں کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ کوشٹ یا کسی اور جگہے کے کسی شخص کو شندور کے وہ  مالکانہ حقوق دئے گئے ہوں جن حقوق کے اصلی مستحق لاسپور کے عوام تھے. اگر کوشٹ کے کسی شخص نے ایسا کروایا ہے تو وہ بہت بڑا آدمی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس مسئلے پر بات چیت سے پہلےMOU  کی نقل ضروہ  پڑہ لینی چاہیے تاکہ اصل حقیت کا  درست خطوط پر ادراک ہو سکے۔شندور میں یہ فیسٹول صدیوں پرانا دستور بن چکا ہے اسی کی وجہ سے اندون ملک اور بیرون ملک سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں جس سے پورے پاکستان کو فائدہ پہنچتا ہے۔ میں دوبارہ دہرانا چاہتا ہوں کہ گلگت کے لوگوں  کا ہر گز یہ مؤقف نہیں کہ وہ شندور کے مالکانہ حقوق چاہتے ہیں ہاں البتہ فیسٹول کی مد میں صرف ہونے  والی فنڈ میں اُن کا حصہ ہونا یا اس فنڈ سے اپنے حصے کا تقاضا کرنا ہر گز گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ اور نہ  اُن کا یہ کہنا  خلاف دین و دنیا ہے کہ فیسٹول کے دوران اُن کے لئے بھی نشستوں کا اہتمام کیا جائے  اگر یہ بھی مشکل کام ہے تو انتظامی امور میں انہیں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے تماشائیوں کی نشستوں کا خاطر خواہ انتظام کر سکیں۔

اخبارات میں چھپنے والے غیر ضروری اور بے بنیاد  بیانات کی وجہ سے گلگت اور چترال کے سادہ لوح عوام کے درمیان کشید گی کا احتمال نظر آرہا ہے۔ ہم چترال کے تمام لکھاریوں سے یہی گزارش کرتے ہیں کہ ایک حساس خطے کو  حکومت ہی کی  تحویل میں رکھا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ  بجے بانسری۔  ایک چراگاہ کے طور پر شندور کی ملکیت کے حوالے سے غذر کے انتہائی بالائی علاقوں میں خال خال اگر کہیں بحث ہوتی ہے تو ہوتی ہے لیکن پورے گلگت بلتسان کے لوگوں کی شندور کی ملکیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے. یہ لوگ صرف فیسٹول کی حد تک شندور کے بارے میں جانتے ہیں۔

اگر شندور میں دو بھائیوں کے بیچ کوئی غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار یہی لکھاری ہوں گے جو کہ بلاوجہ گلگت اور چترال کے عظیم اور بے مثال رشتے میں پھوٹ ڈال رہے ہیں۔ ہمارے لکھاریوں کے قلم سے بھائی چارگی محبت و اخوت  اور  امن امان کے چشمے پھوٹنے چاہیں نہ کہ فساد، لڑائی جھگڑا، خانہ جنگی اور خون خرابہ۔ گلگت بلتسان کے محب وطن  وزیر سیاحت  اور ایک نامور ادیب کے ساتھ غیر ملکی ایجنسیوں کو مربوط کرنا نہ صرف اس صوبے کے ساتھ توہین ہے بلکہ چترال کے لوگوں کو بھی گمراہ بنانے کے مترادف ہے. ایک اور سوال یہ ہے کہ شندور اگر لاسپور کا ہے تو چند سیاسی جماعتوں کے بچگانہ بیانات یقینی طور پر جمہوری اور سیاسی اقدار کے منافی ہیں۔ ہماررے دو  MPAs   محترمہ فوزیہ اور جناب سردار حسین صاحب اگر مفاہمتی یادداشت پر دستخط  کے وقت  وہاں موجود تھے  تو اس سے بہتر بات اور کیا ہو سکتی ہے یہی تو ہمارے قومی نمائندے ہیں  اور انہی کو ایسے ہی امور کی انجام دہی کیلئے ہم سب لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ چترال کی تاریخ میں اگر کسی سیاسی راہنما نے حق و صداقت کا پرچم بلند کیا ہے تو اُ ن کا سہر ااِن دو رہنماوں کے سر جانا چاہئے کیوں کہ انہوں نے مفاہمت کو اپنی سیاست کا حصہ بنایا ہے  جو کہ دین اسلام  اور پاک نبی ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ سب کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہمارے نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کا بہترین حصہ رہا ہے۔ چترال کے عوام کو ان تمام لوگوں کو سلام پیش کرنا چاہئے جنہوں نے اخوت کے اس سفر میں اپنا وقت دیا اور اپنی زریں خدمات پیش کیں۔

میری آخری گزارش یہ ہے کہ اگر آپ سب محب پاکستا ن ہیں تو اس جشن کو پرامن بنانے میں اپنا اپنا حصہ ڈال دیجئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author