انقلاب اسلامی ایران کا انقلابِ فرانس اور روس سے تقابلی جائزہ

عباس حسینی

انقلاب ِفرانس(۱۷۸۹ء)،نقلابِ  روس(۱۹۱۷ء) کے بعد ایران کا اسلامی انقلاب(۱۹۷۹ء)  تاریخ معاصر کے اہم ترین واقعات میں سے ہیں جن سے نہ صرف یہ ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انقلابِ فرانس کے اثرات پوری دنیا پر، بالخصوص یورپ پر بہت وسیع تھے۔ روس کے انقلاب نے گرچہ نظام سرمایہ دارای کو کچھ مدت کے لیے  ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور روس جیسےپس ماندہ ملک کو کچھ ہی مدت میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا، لیکن یہ انقلاب بہت زیادہ دوام پیدا نہ کر سکا۔آج ہمیں، بقول امام خمینی(رہ)، انقلابِ روس کو تاریخ کے عجائب گھر میں ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔ باقی اس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب دین اور عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والا انقلاب ہے جس نے اڑھائی سو سالہ شہنشائیت کو چلتا کر دیا۔ تمام تر سختیوں، چیلنجز، مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود یہ انقلاب آج بھی قائم و دائم ہے۔

               یقینا یہ بات قابلِ تحقیق ہے کہ ان انقلابوں میں کونسی چیز آپس میں مشترک تھی اور کونسی بات ان انقلابوں کو ایک دوسرے سے جدا اورممتاز کرتی ہے؟ کیوں ایک انقلاب دوام پیدا کرتا ہے اور دوسرا کچھ عرصے بعد ہی اپنی ڈگر سے ہٹ جاتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے؟ اس حوالے سے ایک تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس مختصر تحقیق میں اسی زاویے سے ان کی طرف نگاہ کی گئی ہے۔

انقلاب کا لغوی معنی:

انقلاب کا لفظ “قلب “سے نکلا ہے۔ قلب کے لغوی معنی کسی چیز کو الٹانے او رپلٹانے کے ہے(قلب یقلب)۔ انسانی دل کو بھی اگر عربی زبان میں قلب کہا جاتا ہے تو اسی وجہ سے ہے چونکہ یہ عضو خون کو اپنے اندر سے پلٹا کر صاف خون پورے جسم تک پہنچاتا ہے۔ انقلاب میں بھی یہی لغوی معنی مد نظر ہے۔ ایک فاسد نظام کو پلٹا کر اس کی جگہ نیا صاف نظام کو اس کی جگہ دی جاتی ہے۔

انقلاب کا اصطلاحی معنی:انقلاب کے متعدد اصطلاحی معانی بیان کیے گئے ہیں۔

انقلاب عام طور اس عوامی تحریک کا نام ہے جس میں سختی کا عنصر پایا جاتا ہو اور جو کسی بھی ملک کی رہبریت اور سیاسی اجتماعی نظام  میں بنیادی اور اچانک تبدیلی پر منتہی ہو۔ سیاسی نظام میں تبدیلی کا نتیجہ عام طور اقتصادی، اجتماعی، تعلیمی اور تہذیبی نظام وغیرہ میں بھی تبدیلی ہے۔

انقلاب کی اس تعریف کے ساتھ اس کا اس سے مشابہہ دوسری اصطلاحات جیسے اورٹیک، اصلاح اور بغاوت وغیرہ سے فرق واضح ہوجاتا ہے۔

اسلامی انقلاب اور انقلابِ روس وفرانس میں مشترکات

عمومی حالات:

انقلاب سے پہلے کے حالات میں عوام میں نارضایتی اور شکوہ شکایت کا عنصر عروج پر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات اور نظام سے عوامی غصہ، غیض وغضب ہی انقلاب کی وہ چنگاری ہے جو آگ کی صورت میں پھیلتی جاتی ہے اور آخر کار پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسے بھسم کر دیتی ہے۔

فرانس میں بوربن ، روس میں رومانوف اور ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت تھی ۔تینوں ملکوں میں ظلم  و استبداد اور عوام کو دبانے کی سیاست کار فرما تھی۔ سب کی کوشش تھی کہ اقتصاد سے لے کر ملکی و بین الاقوامی سیاست اور لوگوں کے رہن سہن کے طور طریقےتک سب کچھ  ان کی مرضی کے مطابق ہوں۔ پس ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ ایک خاندان کی رائے تھی جسے جبر اور طاقت کے زور پر لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔

عوامی جدوجہد:

عوام کی شرکت کا اندازہ تینوں ملک میں مختلف ہے۔ کہیں زیادہ عوام بلکہ پورا ملک اٹھ کھڑا ہوا تو کہیں ایک خاص طبقہ اور جماعت اٹھ کھڑی ہوئی جس کے ساتھ باقی لوگ ملتے گئے۔

اختلافات

  • اقتصادی حوالے سے : انقلاب سے پہلے فرانس اور روس کے اقتصادی حالات انتہائی خراب تھے۔ (فرانس کے ملکہ کا قول: لوگوں نے کہا کھانے کو روٹی نہیں: کہا کیک کھا لیں۔) سیاسی حوالے سے بھی شاہ کی قدرت کمزور ہوگئی تھی۔ لیکن ایران میں حالات اس کے بالکل برعکس تھے۔ اقتصادی خوشحالی ملک پر حاکم تھی ۔ تیل کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی تھی۔ ایران مشرق وسطی کا ترقی یافتہ ترین ملک تھا۔کسی قسم کی قحط یا خشک سالی وغیرہ نہیں تھی۔کوئی اقتصادی بحران نہیں تھا۔   کھانے پینے کے حوالے سے لوگوں کو مشکل نہیں تھی۔
  • سیاسی حوالے سے : فرانس اور روس میں انقلاب سے پہلے کی حکومتیں انتہائی کمزور تھیں۔ جبکہ ایران کی پہلوی حکومت سیاسی حوال سے انتہائی مضبوط تھی اور اپنی قدرت کے اوج کو چھو رہی تھی۔ شاہ کو امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اسی لیے انقلاب سے ۴ ماہ پہلے کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ ایران میں انقلاب کے کچھ بھی اثرات نہیں دکھائی دے رہے۔ شاہ کی حکومت کم از کم مزید دس سالوں کے لیے ضمانت شدہ ہے۔
  • اجتماعی حوالے سے: فرانس کا انقلاب در حقیقت ایک خاص طبقے کا انقلاب تھا۔ کچھ کے نزدیک یہ ایلیٹ کلاس تھی جو اپنا حصہ بڑھانے کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور بعض کے نزدیک بورژوازی طبقہ تھا جو اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ روس میں بھی اصل انقلاب مزدوروں کا تھا۔(خصوصا فروری والا انقلاب۔۔ جبکہ اکتوبر میں ایک نیا انقلاب آیا اور عبوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پہلی اشتراکی حکومت کی بنیاد رکھی۔) لیکن ایران میں زندگی کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے انقلاب میں برابر کے شریک تھے۔ شہر، دیہات ، قریے سب اس انقلاب میں شریک تھے۔
  • رہبریت: فرانس اور روس کے انقلاب میں ایک خاص لیڈر نہیں تھا جو اس کی رہبری کر رہے ہوں، بلکہ مختلف مراحل میں مختلف رہبر سامنے آتے رہےاور اکثریت کا تعلق مرفہ یا متوسط طبقے سے تھا۔ (اگرچہ فرانس کے انقلاب میں روسو کے افکار اور روس کے انقلاب میں مارکس اور لنین کے افکار زیادہ موثر تھے۔) لیکن ایران کے انقلاب کے حوالے سے دوست دشمن سب کا اتفاق ہے کہ ایک مشخص رہبرتھے۔ حضرت امام خمینی(رہ) جنہوں نے اول سے آخر تک انقلاب کی رہنمائی کی اور ان کا تعلق معاشرے کے محروم طبقے سے تھا۔
  • نعرے:عوامی مطالبات کا نچوڑ۔ انقلاب کے دوران لگائے گئے نعروں سےثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام کا انقلاب دینی ماہیت رکھتا تھا، جبکہ فرانس کے انقلاب میں آزادی اور مساوات  اور روس کے انقلاب میں  مادی چیزوں جیسے روٹی اور زمین  وغیرہ کا مطالبہ کیا گیا۔
  • فکری پس منظر: ایران کے انقلاب میں رہبران کے ذہن میں صرف موجودہ حکومت کو گرانا مقصد نہیں تھا۔ بلکہ ایک متبادل مکمل نظام رکھتے تھے جس کو نافذ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن روس اور فرانس میں مظاہرین کا اصل ہدف موجودہ حکومت کو گرانا تھا۔ لہذا روس میں نئے نظام کے آنے میں لگ بھگ آٹھ ماہ لگے۔
  • روس اور فرانس کے مقابلے میں ایرانی انقلاب کے پیچھے دینی فکر اور نظریہ کارفرما تھا۔ فرانس کا انقلاب لیبرال ازم اور دین وسیاست کی جدائی کی بنیاد پر ، جبکہ روس کا انقلاب مارکس ازم اور دین سے لڑائی کی بنیاد پر قائم ہوا۔ (مارکس  کا قول: دین قوموں کے لیے افیون کی حیثیت رکھتا ہے)۔ جبکہ ایران کا انقلاب دین اور سیاست کی اکائی اور ولایت فقیہ کے نظریے پر قائم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments