الہامی کا آخری پیریڈ۔۔۔ طلباء کاپہلا پیریڈ

الہامی کا آخری پیریڈ۔۔۔ طلباء کاپہلا پیریڈ

40 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حاجی سرمیکی

haji baqir (2)استاد الشعراء ، معلمِ فرض شناس اور حلیم الطبع شخصیت ڈگری کالج سکردو کے سابق پرنسپل پروفیسر حشمت علی کمال الہامی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائرڈ ہوگئے ۔ میں ان کا شاگرد رشید رہنے کا شرف رکھتا ہوں اور ان کی ریٹائرمنٹ پر خوش بھی ہوں اور اداس بھی ، انہی ملے جلے جذبات کااظہار کرتے ہوئے میں ڈگری کالج سکردو کا وہ زمانہ یاد کررہا ہوں کہ جب میں نے اسی کالج میں داخلہ لیاتھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب کالج کے انتظامی امور اور طلباء کا تعلیمی شعور ضیعفی کا شکارتھا۔ یہ زمانے کی بات ہے عنقریب سن ۱۹۹۸ء ماہِ جون کے اریب قریب کے دن تھے ۔نیم آسمانی رنگت کے قومی لباس میں ملبوس بلتستان کے منچلے جوق در جوق ڈگری کالج سکردو کی طرف گامزن تھے۔ ہشاش بشاش، حاضر شناس اور جذبہ حصول علم سے سرشار طلباء ضخیم العظیم قراطیس بغلوں میں دابے کالج کی چاردیواری میں داخل ہوجاتے تھے۔ یہ بات نہیں کہ ان دنوں میں کوئی کام چور طالب علم نہیں تھابلکہ دیر سے پہنچنے والے بھی بہت تھے۔ دیری اس لئے کہ ان میں سے اکثرکو کالج کے لئے تیار ہونے میں ذرا سا وقت لگ جاتا تھا ۔یہ کوئی گرلز کالج تھوڑی تھا جو وہ بہت دیر کرتے تھے ۔ بس یہی وہ آخری گروہ ہوا کرتا تھا جو کالج کا گیٹ کھول کر اندر آتے تھے ۔ باقی تمام حاضر شناس بچے چاردیواری پھلانگ کر پہلے ہی سے اندرموجود ہوتے تھے۔ کچھ منچلے کمروں میں گھس کر نہ صرف اپنی پڑھائی کا اعادہ کیا کرتے تھے بلکہ اساتذہ کرام کی ہوبہو نقلیں اتار اتار کر سیاق وسباق سمیت تمام مضامین خوب ذہن نشین کرلیا کرتے تھے۔ بس آخری گروہ کے اندر داخل ہونے کے آدھ گھنٹہ بعد جذبہ نوکرداری سے معمور چوکیدار کی آمد ہوتی تھی ۔ جو اندر آتے ہی سیدھااپنی چوکی اٹھانے کی خاطروالی بال کے گراونڈ میں جاتے تھے جہاں روز انہ صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف طلباء ان کی چوکی پر چڑھ کر والی بال کے مقابلوں میں ریفری کے فرائض سرا نجام دیا کرتے تھے۔ چوکی دروازے پر رکھ کر جالی دار گیٹ کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھیں بھی اس یقین کے ساتھ موندلیتے تھے کہ ان کے بعد کالج میں داخل ہونے والا کوئی نہیں رہا۔ ان کی یہ عادت ہفتے اور جمعرات سے سوا تھی ۔ جمعرات کو ان کے پاس فال نکالنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اس کی دھوم دوردور تک تھی ۔ پھر کالج کے بچے انگریزی کے پیریڈ میں کلاس چھوڑ کر ان کے پاس بیٹھے انگریزی بول چال کے نسخے لیا کرتے تھے۔ ان کے نسخوں کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ سال پورے اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر جانے والے طلباء جو آتے ہوئے ان صاحب سے اردو میں اپنا تعارف کروا چکے ہوتے تھے جاتے جاتے بلتی زبان میں الوداع کہہ جاتے تھے۔اسمبلی کا مطلب اس دور میں لغت کے عین مطابق جمع ہونا ہی سمجھا جاتاتھا چونکہ طلباء خود جمع ہوچکے ہوتے تھے اس لئے مزید اسیمبل کرنے کی نوبت نہیں آتی تھی اور سیدھے کلاس لگا کرتاتھا۔بچوں کی دلچسپی کا معیار تعلیم سے کہیں زیادہ تدریس اور مہارت تدریس سے مشتق تھااس لئے ہمیں اپنے ہم جماعتوں کی زیادہ کثرت انگریزی اور اردو کے پیریڈ میں نظر آتے تھے۔ انگریزی کے پیریڈ میں کثرتِ حاضری کی وجہ معلم کا دلچسپ طریقہ تدریس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبان ہونے کادباؤ بھی تھا۔ البتہ اردو زبان کو سبھی سہل سمجھتے تھے اور دباؤ بھی کم محسوس کرتے تھے۔ مگر مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ سب سے زیادہ طلباء جس پیریڈ میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے وہ اردو کا ہی پیریڈ ہوتا تھا۔ بائیا لوجی اور فزکس کے پیریڈ میں اول تو حاضری کم ہوتی تھی پھر ستم بالائے ستم یہ کہ کوئی سمجھ آنے نہ آنے کی نہ کوئی شکایت ہوتی تھی اور نہ کوئی تفتیش ، گویا باہمی دلچسپی سے معلم اور متعلم دونوں نہایت خاموشی سے وقت نکال لیتاتھا۔ کیمسٹری کے استاد کی اپنی کیمسٹری کی ہمیں کبھی سمجھ نہ لگی، شکل پنجابیوں کی سی، بولی پٹھانوں کی اور عادتیں وارداتیوں کی تفتیش پرمتعین تھانیداروں کی سی۔ کمال نور ان کا پیارا نام تھا ، خیر یہ ان کے والدین کاپیار تھاجو ان کا یہ نام رکھ دیا وگرنہ ان کاحلیہ دیکھ کر اس گستاخی پر بحضور عدالت دعویٰ دائرکرنا کسی بھی طور مدعی کی جیت سے عاری نہ تھا۔ ان کی موجودگی میں کالج کی چاردیواری میں بھی سکول کا مزہ دوبالا ہوجاتا تھا۔ وہ سکھاتے کم اور یاد زیادہ کرواتے تھے،اس لئے طلباء کویاداشت بڑھانے کے لئے حکیم ہاشمی بھٹو بازار کی بادامی پھکی کا مشورہ بھی دیاکرتے تھے۔ ضیاء علی صاحب صدر معلم ہوا کرتے تھے ۔ ان کے ساتھ ملاقات کا حال کچھ یوں ہوتا تھا کہ یاتو ہم کسی ٹیچر کی شکایت لے کر ان کے پاس حاضر ہوتے تھے یا پھر وہ کسی ٹیچر کی شکایت سن کر ہمارے پاس آتے تھے۔طلباء تنظیموں کے عروج کا دور تھا ۔ ہمارا کالج اول تو زیادہ گرمی اورزیادہ سردی کے صرف ۸۰ دنوں کے لئے بند رہتا تھا ۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو حاصل سالانہ ۲۰ دن کی چھٹی ، اتفاقیہ ۲۰ دن کی چھٹی ، عرس و میلاد کے حوالے سے ۲۸ دنوں کی چھٹی، اس کے سیاسی اورقومی ایام کے اعتبار سے۱۶ عام تعطیلات کے علاوہ تدریسی سال کے بقیہ دنوں میں طلباء تنظیموں کے مظاہروں میں شرکت کی چھٹیاں ہوتی تھی ۔ البتہ طلباء اساتذہ سے منظوری کے بنا کبھی چھٹی نہیں کر سکتے تھے۔ کالج میں نظم کا ضبط کا خاص خیال بھی رکھا جاتا تھا۔ بس کبھی کبھار کسی بد معاش کا منہ بند کرنے کی خاطر نرم خو اساتذہ والی بال میں نو اور کرکٹ میں بارہ کھلاڑیوں کو کھلایا کرتے تھے۔ کالج کی اٹھارہ سیٹر بس میں صرف ۵۲ لڑکے سوار ہوکر جاتے تھے ۔ بس کے ساتھ لٹکنا منع تھا اس لئے ایک گریڈ ون بس کے ساتھ لٹکا ہوتا تھا تاکہ طلباء کو قانون شکنی سے روکا جاسکے۔ 

کالج کا آخری پیریڈ اردو کا ہوتا تھا۔ جو کہ بہت سوں کی طرح ہمارا پہلا پیریڈ ہوا کرتا تھا۔ نہیں جناب ہم لیٹ نہیں آتے تھے ۔ بلکہ سویرے ورزش کا پیریڈ، پھر اسمبلی کی تیاری، پھر ڈرل پیریڈ کے لئے میدان میں پانی چھڑکنا، لیبارٹری کی چابیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے کنٹین ملازم تک کی تلاشی لینا اور پھر بجلی کے میٹر پر ڈھکے ڈبے سے برآمد ہونا ، دوسرے مضامین کے پیریڈ میں متعلقہ طلبا کو اکھٹا کرنا یہ سب ہماری ذمہ واری میں شامل تھا۔ کالج کے کم و بیش ہی کوئی لڑکا ہوگا جو کہ اردو کا پیریڈ چھوڑتا ہوگا۔ اول تو اس پیریڈ میں باقاعدہ حاضری لی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ مضمون معروف شاعر، پروفیسر حشمت کمال الہامی صاحب پڑھا یا کرتے تھے۔ تدریسِ اردو میں انہیں کمال کا غلبہ حاصل تھا۔ انشاء پردازی ہو یا شعرو ادب ، ہر چند گوشے کو مثالوں، سبق آموز واقعات ، بین الاقوامی ادبی سرگرمیوں اور معتبر ادباء و شعراء کے حوالوں کے ساتھ جامع تشریح و تفسیر پیش کیا کرتے تھے۔ اکثر اوقات کتابی باتوں سے ہٹ کر گفتگو ہوتی تھی۔ حشمت صاحب طلباء کی درستگی تلفظ، اصلاحِ اصطلاحات اور طریقہ تقریر پر بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے۔ انہیں ہر ہر طالب علم کے بارے میں مکمل آگہی ہوتی تھی ۔ بطور اردو زبان کے استاد یہ شروع سے ہی ان کا شیوہ رہا ہے کہ آپ شاعری اور نثری ادب میں دلچسپی رکھنے والے طلباء کی خصوصی حوصلہ افزائی بھی کیا کرتے تھے۔ ایسے طلباء کو کالج کے بعد بھی بلا تکلف معاونت فراہم کرتے تھے۔ گوکہ وہ علمی اور ادبی تنظیموں کی سرپرستی میں مگن رہتے تھے ۔ چونکہ اس دور میں علمی اور ادبی تنظمیں بھی اپنی داغ بیل ڈال رہی تھیں ۔ اور بطور استاد الشعراء ان کی موجود گی، تعلق یا حوالہ کسی بھی تنظیم کی کامیابی کی سند سمجھی جاتی تھی، جو بدستور اب بھی ہے۔ انہی دنوں میں آپ کی شاعری کی کتاب بھی زیر طبع تھی۔ اس کے علاوہ قومی و ادبی ایام میں محافل کی نشست وبرخاست کی ذمہ داری بھی آپ ہی کے کندھوں پررہتی تھی۔ کالج کے اندر بھی بطور منتظم ادبی پروگراموں، نعتیہ اور تقاریری مقابلوں میں طلباء کی خصوصی تربیت اور رہنمائی کیا کرتے تھے۔ اردو ادب اور اس کی تاریخ پر مکمل عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کمال کا حافظہ عطا کیا ہے جو اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ فارسی، عربی اور اردو کے مشہور شعراء کے ان گنت کلام ازبر ہے۔ آپ کمال کے حاضر دماغ اور برجستہ مزاج بھی ہے ۔بلتستان میں شاعری کی ترقی ، وسعت اور رواج میں آپ کا کردار بلاشبہ کسی بھی تعریف کا محتاج نہیں ۔ خود شعراء اپنی زبانی ان کے کمالات کے معترف ہیں۔ انہوں نے بطور معلم بہت کامیابی سے اپنے فرائض انجام دئیے۔ان کی ریٹائرمنٹ سے کالج میں تدریس اردو کے شعبے میں دیر تلک کمی محسوس کی جائے گی ۔تاہم وہ اپنے فراغت کے لمحوں میں علم و ادب کی خدمت میں مزید پیش پیش رہیں گے اور اس شعبے سے دلچسپی رکھنے والوں کی سرپرستی اور رہنمائی فرماتے رہیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author