ترقی اور اِسکل فُل تعلیم

حمزہ گلگتی

پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے بہت سارے معاملات میں خودمختار بن گئے۔ماسوائے چند ایک کے تعلیم جیسے حساس معاملات تک کے اختیارات آئین میں اس ترمیم کی بدولت صوبوں کو منتقل ہوگئے۔اس سے انکار ممکن نہیں اور نہ ہی اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ صوبے خودمختار ہوں ترقی کرے،اپنے اخراجات خود پیدا کرے اور اپنی مرضی سے اپنے ریونیوز کوترقیاتی کاموں پر لگا دے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس ترمیم کے بعد تعلیم کے شعبے میں کوئی تبدیلی آگئی؟ تعلیمی معیار بہتر ہوا؟ صوبے سب کے لئے یکساں نظام تعلیم کی تشکیل میں کامیاب ہوسکے؟ ایک نصاب ایک نظام کا کوئی قابلِ عمل فارمولا بنا یا گیا؟کیا تعلیم کے شعبے کا صوبو ں کو منتقل کرنے کا اقدام مثبت اور بارآور رہا؟ اس کی خاطرخواہ نتائج سامنے آئے؟ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق اُن چند حساس معاملات کی طرح اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بھی وفاق کے پاس رہنے دینا چاہیے تھا۔اور پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئے تھے۔اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کی اہمیت پر کتنا زور دیا گیا اور اس فرض کے نبھانے کی ذمہ داری کس کے کاندھوں پر ڈال دی گئی اس کے لئے آرٹیکل 25(A) کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا ضروری ہے۔

مذکورہ آئینی ترمیم کے آرٹیکل پچیس اے کے مطابق ’’پانچ سال سے لیکر سولہ سال تک کے ہر شہری کو مفت سیکنڈری تعلیم فراہم کرنا ،اس کے لئے اقدامات کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے’’۔ آج آٹھاویں سال، اس ترمیم کے ،پورا ہونے کو ہیں اور ہم اس شق کے مطابق تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے مکمل ناکام نظر آ رہے ہیں۔ہمارے ریاستی اقدامات اور دعوؤں میں ہمیشہ آ سماں زمیں کا فرق رہا ہے۔اگرچہ کچھ علاقوں میں اس کے لئے سنجیدہ کوشش کی گئی ہوں مگر اجتماعی سطح پر کسی بھی طرح کے مثبت اقدام کے لئے مشترکہ کوشش نہیں کی گئی ۔دعوے ہر تعلیمی پالیسی میں ہوتے رہے ہیں،1947،1959،1970،1972،1979،1992،1998-2010اور اسے طرح نیشنل ایجوکیشن پالیسی2017-25 جیسے سارے تعلیمی پالیسیوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے اچھے اور بہترین تجاویز دئیے گئے تھے تعلیمی اقدامات کے لئے۔ مگر ان پر عمل ہوا اور نہ اپنے دعوؤں کے مطابق ہم نے سب کے لئے یکسا ں نظام تعلیم کی تشکیل و تنظیم کر سکے ۔نہ ہی ہر پانچ سے سولہ سال تک کے شہری کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے کماحقہ اقدمات کر سکے ۔ اس ناکامی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ناکہ صرف ریاست ۔

آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اس کا ہر گزیہ مطلب نہیں کہ دوسرے شعبوں کی اب ضرورت نہیں رہیں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیں ان دوسرے سوشل شعبوں میں آگے بڑھنے کی جتن نہیں کرنی چاہیئے۔اُن سب کی افادیت اپنی جگہ موجود ہیں۔مگریہاں بتانا یہ مقصودکہ ریاستی معاملات کے حل کے لئے سائنسی بنیادوں پر سوچنا ،سائنس کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ،نئی نسل کو سائنس کی دنیا سے �آگاہ کرنے کے ساتھ ان کے سکل کو بڑھانا بہت ضروری ہوچکاہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم آج بھی ستاون سے آٹھاو ن فیصد لٹریسی ریٹ کے حامل ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ دنیا کے بہت ہی پسماندہ ممالک کے لٹریسی ریٹ کے قریب تر ہے۔اور اس لٹریسی ریٹ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف اپنانام لکھنا جانتے ہیں اور اخبار کے تراشے کو اٹک اٹک کرپڑھ سکتے ہیں۔ اگر ان کی فہرست نکال دی جائے تو پتہ چلے ہم کس کٹیگری میں شامل ہیں۔ ہم اپنے ہمسایہ چھوٹے ممالک سے بھی بہت ہی کم لٹریسی ریٹ کے حامل ہیں۔ ان سب کے تذکرہ کامقصود مایوسی پھیلانا قطعاََ نہیں بلکہ حقائق سے آگاہ کرنا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ہم سب اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔اسباب پر غور کر نے کے لئے جذبہ پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ مستقبل میں بہتر اقدامات کے لئے راہیں کھل سکے۔

مغربی ممالک کی ترقی کا آج حوالہ دیا جاتا ہے۔ان کی ترقی کا راز سائنسی شعبوں میں ترقی اور نئے ٹیکنالوجی سے آگاہی اور اس کی ترویج ہے۔ترقی کے زینوں پر براجماں ہونے کے باجود ان ممالک کو ایک اہم مسئلے کا سامنا ہے اور آنے والے سالوں میں اس سلسلے میں مزید مشکلات ان کے منتظر ہیں ۔ان کے ہاں آج افراد ی قوت کی کمی ہے اور جو ہیں ان کے پاس بے تحاشہ سِکل ہیں۔وہ ڈٹ کے کام کرتنا جانتے ہیں اور مسائل کے حل کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے میں مستعد ہیں،موجود وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانے کا گُر جانتے ہیں۔افرادی قوت کے سلسلے میں ہم ایشیاء کے کچھ ممالک بشمول پاکستان خوش قسمت ٹھہرے ہیں۔ہمارے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں۔ہمارا ستر فیصد تک کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اس سرمائے کی ہمارے پاس بہہتات ہے۔آنے والے عشروں میں اس سرمائے کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے گا،اور یہی لوگ ہمارے ملک کی ترقی کے مینار ثابت ہونگے۔اس لئے سب کو مل کر نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی ہے۔ اس حوالے سے ایک بات کی اہمیت کا اندازہ لگا نا نہایت ضروری ہوچکا ہے کہ صرف ڈگریا ں کافی نہیں،ہر ہر شعبے میںِ سکل کی ضرورت ہے اور ہوگی۔اس کے لئے ٹیکنکل اداروں کی تعمیر و تشکیل ہر ہر علاقے تک بڑھانے کے لئے سوچنا ہے۔

اِن حقائق سے ہم سب آگاہ ہیں کہ پاکستان سے لاکھوں لوگ سالانہ دوسرے ممالک جاکر روزگار حاصل کرتے ہیں اور جو رقم اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں ان سے ملک کی معیشت کو بہت بڑا سہارہ ملتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق نوے لاکھ سے ایک کروڑ تک پاکستانی دوسرے ممالک میں رہ رہے ہیں۔ان افراد میں سب سے زیادہ تعدادایسے لیبرز کی ہیں جو بوجھُ اٹھانے اور اتارنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے(بتانے کا مقصد محنت کشوں کی تنقیص نہیں)۔اگر یہ لوگ بھی سکل فل ہوکر ان ممالک میں چلے جائے تو ان کی اپنی آمدنی کے ساتھ ساتھ ملک کی آمدنی میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔آنے والے دنوں میں ایسے افراد کوِ سکل فل بنانا بھی ریاست کے ساتھ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔عام طور پر ہم سب ریاست کی ذمہ داری کا راگ الاپ کر اپنی ذمہ داریو ں کو یکسر بھول جاتے ہیں۔بچوں کی تعلیم و تربیت ریاست کے ساتھ اساتذہ اور والدین کی بھی اتنی ذمہ داری ہے۔میری رائے تو یہ ہے کہ بچے کی تربیت و تعلیم کا فریضہ سب سے پہلے والدین کی ذمہ عائد ہے۔پھر اساتذہ اور ریاست و دوسرے شہریوں کے۔ اگر ریاست سارے وسائل مہیا کر بھی دے، اساتذہ اپنے پورے فرائض کی بجا آوری کر بھی دے ،مگر جب تک والدین بچوں کی ذہن سازی نہیں کریں گے اور انہیں تعلیم کے حصول کی اہمیت کی طرف راغب نہیں کرینگے سارے وسائل کے بعد بھی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔اس لئے سب سے پہلے والدین کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے مقامی انتظامیہ سے بڑھ کر کسی کا کردار نہیں ہوسکتا۔مخلص مقامی انتظامیہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور والدین کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ علاقائی سطح پر سیمینارز منعقد کر کے والدین کو تعلیمی اہمیت کا شعور دلانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیئے کہ چھوٹے چھوٹے دیہات میں پرائمری اور مڈل تک کے تعلیمی اداروں کا قیام یقینی بنائے۔بعض والدین بچیوں کو کو ایجوکیشن کے حامل اداروں میں نہیں بھیجنا چاہتے ہیں ان کے لئے الگ اداروں کے قیام کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ دیہاتوں میں گرلز اداروں کو نہ ہونے سے ہماری بڑی تعداد میں بچیاں سکول نہیں جا سکتیں ہیں اس کے لئے سنجیدہ اقدامات کی از حد ضرورت ہے۔ترقی کے لئے سکل فل تعلیم کی اب انتہائی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔جب تک ہم تعلیم وتربیت میں دوسرے اقوام سے آگے یا ان کے برابر نہیں ہونگے تب تک ان کا مقابلہ مشکل ہی نہیں ناممکن دیکھائی دیتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments