فری سٹائل پولو کی سرپرستی 

فری سٹائل پولو کی سرپرستی 

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
عنایت اللہ فیضی

عنایت اللہ فیضی

بعض اوقات نااُمیدی کی جگہ اُمید جنم لیتی ہے اور اُمید کے مقام پر نا اُمیدی کا سا منا ہوتا ہے2002 ؁ء میں متحدہ مجلس کی حکومت آئی تو کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہوئے مگر اکرم خان درانی کی حکومت نے کھیلوں کی سرپرستی کی دیگر کھیلوں کے ساتھ پولو کے فری سٹائل کھیل کے لئے فنڈ مختص کئے ہرسال چیف منسٹر کپ پولو ٹورنمنٹ کروایا 2013 ؁ ؁ ؁ء میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کھلاڑیوں کو حوصلہ ملا امید پیدا ہوئی کہ عمران خان خو د کھلاڑی ہیں کھیلوں کی سرپرستی کرینگے مگر یہ اُمید خاک میں مل گئی روایتی کھیلوں کے لئے گنجائش کہاں سے آتی ، کرکٹ ایسو سی ایشن اور کرکٹ کلبوں کی سرپرستی بھی نہیں ہوئی اگلے 3سالوں کے اندر خیبر پختونخوا کی حکومت کو کھیلوں کی ترقی پر تھوڑی بہت توجہ دینی ہوگی صوبائی اسمبلی میں کھیلوں کے ساتھ د لچسپی رکھنے والے اپنے کسی ممبر کو کھیلوں کے لئے معاؤن خصوصی یا مشیر مقر ر کر نا ہوگا ضلع چترال کا روایتی فری سٹائل پولو خیبر پختونخوا کی پہچان ہے دُور دور سے سیاح پولو کا قدیم روایتی کھیل دیکھنے کے لئے ،منگولیاجانے کے بجائے خیبر پختونخو ا کا رُخ کرتے ہیں کیونکہ افغانستان اور تاجکستان میں فری سٹائل پولو کا کلچر ختم ہو کرصرف بزکشی کا کھیل رہ گیا ہے یہی حال قزاکستان ،کرغیز یا ور ترکمنستان کا ہے سنگیا نگ میں بھی فری سٹائل پولو کا کھیل نہیں کھیلا جاتا صرف بزکشی ہوتی ہے منگو لیا میں چترال اور گلگت بلتستان کی طرح فری سٹائل پولو کا کھیل روایتی انداز میں کھیلا جاتاہے ہمارے ہاں گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو اپنی صوبائی حکومت کی پوری سرپرستی حاصل ہے چترال خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اور چترال کے لوگ صوبہ میں نسلی اقلیت کہلاتے ہیں اس وجہ سے پولو کے فری سٹائل کی سرپرستی کا دارمدار صوبائی حکومت کے سر براہ کی خوشنو دی ، صوابدید اور پالیسی پر ہوتاہے گذشتہ دوسالوں سے صوبائی حکومت کی پالیسی منفی رہی ہے اس لئے فری اسٹال پولو کے کھلاڑی بد دلی کا شکار ہیں مایوس ہوکر اپنے گھوڑی بیجنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں فری سٹائل پولو قدیم کھیل ہے اس میں ریفری نہیں ہوتا سیٹی نہیں ہوتی ،ہینڈی کیپ اور چکر نہیں چلتا ان کا شمار نہیں ہوتا کھیل قدیم زمانے کے جنگ کی طرح کھیلا جاتاہے فری سٹائل پولو کی میچ دیکھتے ہوئے تماشائیوں کا اندازہ ہوتاہے کہ چنگیز خان کی فوج کس طرح لڑتی ہوگی ،الپ ارسلان کے جنگجوکس طرح میدان جنگ میں داد شجاعت دیتے ہونگے چترال کے حوالے سے پولو کی تین نمایاں خصوصیات ہیں ایک خصوصیت یہ ہے کہ چترال میں پولو صرف دو لتمندلوگوں کا کھیل نہیں عام لوگ ، متوسط طبقہ ، سفید پوش اور غریب طبقہ بھی پولو کھیلتا ہے ریاستی حکمران مہتر چترال کی مخالف ٹیم میں اُس کا دربان ،چوپ دار اور نانباتی بھی پولو کھیلتا تھا ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی مخالف ٹیم میں اُس کا ڈرائیور اور سپاہی بھی اپنا گھوڑا لیکر میدان میں اترتا ہے اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر یا ایس پی اپنے ڈرائیوار یا سپاہی سے شکست کھاتاہے دوسری خصوصیت یہ یے کہ مختلف قوموں اور قبیلوں کی دُھنیں مخصوص ہیں اُس قوم اور قبیلے کے کھلاڑی کے لئے شہنائی اور ڈھول پر مخصوص دُھن بجائی جاتی ہے چترال کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ پشاور ،پنڈی اور لاہور کے برعکس یہاں 10 ہزار، 20 ہزاراور 50 ہزار کا مجمع پولو دیکھنے کے لئے جمع ہوتاہے گویا چترال کا فری سٹائل پولو انگلینڈ ،آسٹریلیا اور دیگر ملکوں کے کرکٹ کی طرح عوامی مقبولیت کا درجہ رکھتا ہے اور مجمع کو اپنی طرف کھینچتا ہے اس بناہ پر حکمرانوں نے مختلف ادوار میں اس کھیل کی سرپرستی کی ہے ۔فری سٹائل پولو کا گھوڑا دولاکھ روپے سے لیکر 3 لاکھ روپے تک قیمت رکھتاہے گھوڑا پالنے پر ہرسال ڈیڑھ دولاکھ روپے کا خرچہ آتاہے اچھی حکومتوں میں کھلاڑیوں کو ہارس الاؤنس ملتا تھا سال بھر میں تین بڑے ٹورنمنٹ ہوتے تھے ڈسٹرکٹ کپ پولو ،چیف کپ پولو ،اور شندور پولو فیسٹیول پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی کلبوں او رٹیموں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی 2013 سے یہ سلسلہ رُکا ہوا ہے شائقین پولو کی آ نکھیں صوبائی حکومت کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ اکرام درانی اور امیر حید ر خان ہوتی کے ادوار کی طرح چترال میں فری سٹائل پولو کی سرپرستی کی جائے اکتوبر کے مہینے میں روایتی چیف منسٹر کپ پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایاجائے اس میں گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو بھی چترال آنے کی دعوت دیجائے پاکستان تحریک انصاف کا چےئر مین عمران خان خود کھلاڑی ہے اُن کی پارٹی نے اپنی حکومت میں چترال کے اندر فری سٹائل پولو کی سرپرستی نہیں کی تو عوام اورکھلاڑی کی بڑی مایوسی ہوگی ۔

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments