سفرنامہ …… گلگت سے کالا پانی تک (حصہ اول)

سفرنامہ …… گلگت سے کالا پانی تک (حصہ اول)

36 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

امیرجان حقانی 

آغازِسفر

یہ میری ایک افیشل میٹنگ تھی۔ احباب کے ساتھ محفوِگفتگو تھا کہ سیل فون رنگ رنگ بجنے لگا۔ کال ریسو کی تو ایک کڑک دار آواز میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ آج تین بجے(24-08-15)استور کا سفر ہے۔ احبابِ سفر میں آپ بھی شامل ہیں۔ تین دن کا سفر ہے۔ کالا پانی تک جانا ہے۔ مسجد کی افتتاح ہے۔ آپ اپنا سیاحتی ذوق بھی پورا کیجیے اور اس کارِخیر میں حصہ بھی لیجیے‘‘۔ کالا پانی کا نام سن کر میں شش پنج میں مبتلا ہوا کہ کیا پاکستان میں بھی کالا پانی ہے۔میں نے اپنے گھر میں فوری اطلاع کی کہ اسباب سفر تیار رکھے جائیں۔ استور راما کا ایک سفر پہلے بھی ہوچکا تھا تاہم اب کی بار سفر کافی لمبا تھا اس لیے لازمی سفری اسباب تیار کرکے چار بجے گلگت سے استور روانہ ہوئے۔یقیناًسفر مشقت کا باعث ہوتا ہے اس لیے میں سفری دعائیں ضرور پڑھتا ہوں۔ہر مسافر اور سیاح کو ارادہِ سفر کے وقت یہ دعا ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ دعا ترمذی شریف میں ہے۔’’زودک اللہ التقویٰ و غفر ذنبک ویسرلک الخیر حیثُ ماکنتَ‘‘۔اور سفر سے پہلے دو رکعت نماز سفر بھی پڑھنی چاہیے۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت و مروی ہے۔اور بھی بہت ساری دعائیں ہیں جن کا سفر میں اہتمام کیا جاتا ہے۔

ضلع استور کا طائرانہ جائزہ

استور گلگت بلتستان کا ایک نیا ضلع ہے۔ یعنی 2004ء میں ضلع دیامر سے الگ کرکے ضلع بنادیا گیا ہے۔ استور میں سینکڑوں وادیاں اور نالے ہیں، بہتے آبشار ہیں۔ جن میں مشہور وادیاں پریشنگ، گوری کوٹ، گدئی، میرملک، روپل اور کالا پانی شامل ہیں۔اور کئی ایک درے بھی ہیں جن میں برزل، شونٹر، چھچھورکھنڈاور چاچوک عالم وغیرہ سیاحوں کے لیے دلچسپی کے باعث ہیں۔۔استور ضلع کا نام ہے اور ’’استور‘‘ ضلع کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ ہمارے مضیف جناب وزیر اقبال بتارہے تھے کہ ہیڈکوارٹر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ کوریکوٹ اور استورعیدگاہ۔ ہیڈکوارٹر استور سطح سمندر سے 2400میٹر بلند ہے۔استورکا رقبہ(مربع کلومیٹر )8657 ہے۔گلگت اسمبلی میں ضلع استور کی دو نشستیں ہیں۔رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے یہ دو نشستیں ناکافی ہیں۔ کم از کم تین تو ہونی چاہیے۔کسی زمانے میں استور چین ، افغانستان اور کشمیر و ہندوستان کے لیے ایک اہم سرائے کی حیثیت رکھتا تھا۔اور استور میں گھومنے پھرنے سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔استور بونجی سے گریز تک پھیلا ہوا ایک وسیع علاقہ ہے۔تھلیچی کے کے ایچ سے استور روڈ شروع ہوتا ہے۔دریا سندھ کراس کرنے کے لیے ایک آرسی سی بریج بنائی گئی ہے۔ر ام گھاٹ پل بونجی کے ساتھ معلق ہے۔ وہاں سے باقاعدہ استور کی وادیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ہزاروں آبشاروں، ندی نالوں اور گلیشئرزسے بہتا پانی دریائے استور کی شکل میں پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہہ رہا ہے اور دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔رام گھاٹ پل کراس کرتے ہی رائٹ سائٹ پر پہاڑوں اور گھاٹیوں کے ساتھ لپٹی سڑک ایک سیاہ لکیر جیسی نظر�آ رہی ہے۔روڈ کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ٹریفک چلتی رہتی ہے۔گاڑیوں سے بھی ان گھاٹیوں کا نظارہ قابل دید ہے۔کہیں پہاڑ سے آتا پانی آبشاروں کی صورت میں سڑک کے آس پاس گرتا ہے اور ان آبشاروں کی پھوہاریں گاڑیوں اور مسافروں پرپڑتی ہیں تو عجیب سی کیفیت ہوجاتی ہے۔ زندگی میں ایک نئی لہر سی دوڑ تی ہے اور سفر کی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں۔ان آبادیوں میں مکانات، ایک ادھ دوکان اور پھلدار درختوں کے جھنڈ، جن پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے شگوفے ، آلو کے کھیت اور مکئی و گندم کے سبزے انتہائی جاذبِ نظر لگتے ہیں۔

Kala pani ki choti per

احبابِ سفر اور کثرت ازدواج

ہمارے احبابِ سفر میں گلگت سے قاضی نثاراحمدصاحب، مولانا منیر، برادرم حماد اور دیگر محافظین و پولیس عملہ شامل تھا۔ جگلوٹ سے ہمارے ساتھ مفتی شفیع صاحب(خطیب قطر دوحہ) بھی مع فیملی رفیق سفر تھے۔جگلوٹ ان کے دولت کدے پر چائے نوش کی۔ اور فوری پابہ رکاب ہوئے ۔ نماز مغرب تھلیچی کی مسجد میں ادا کی جہاں ہماری ملاقات تھلیچی کی معروف عملیاتی شخصیت ’’موران‘‘ سے ہوئی۔ جو میرے دور کے دادا بھی لگتے ہیں۔عملیات میں انہیں یدطولیٰ حاصل ہے۔ چلتی گاڑی رکوادیتے ہیں۔نماز مغرب کے بعد ہماری گاڑیوں نے فراٹے بھرنے شروع کیے ۔ سیدھا استورہرچو جاکر رک گئیں۔استور ہرچو میں مفتی شفیع صاحب نے ایک مسجد اور مدرسہ بنوائی ہے۔ مدرسہ کے طلبہ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے تاہم ہمیں جلدی سے آگے نکلنا پڑا۔ تھلیچی سے مجھے مفتی شفیع صاحب کی معیت میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ بڑے ملنسار اور باذوق آدمی ہیں۔ 1992ء کو دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ دورہ حدیث کے پوزیشن ہولڈر ہیں۔ آ ج کل قطر دوحہ میں خطابت اور پاکستان ایمبیسی اسکول میں بطور لیکچراراصلاحی و تعلیمی فرائض انجام دے رہے ہیں اور گلگت بلتستان میں کئی دینی مکاتب کے معاون خاص ہیں۔ مفتی صاحب نے تین شادیاں کی ہیں جن سے دس اولاد ہیں۔ ہم نے بھی اپنی دیرینہ چاہت یعنی دوسری شادی کے حوالے سے ان سے گفتگو کی اور ضروری ٹپس لیے۔شادیوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مثنیٰ(دو)، ثلث(تین) اور ربع(چار)ٰ کے الفاظ نازل فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’ فانِکحوا ما طاب لکم مِن النِساءِ مثنیٰ وثلاث ورباع ،فاِن خِفتم الا تعدِلوا فواحِدۃ‘‘ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم(زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں امت وسط‘‘ قرار دیا ہے۔امتِ وسط کا لفظ اس قدر وسیع معنویت رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہ۔ ہمیں تو پوری انسانیت میں عدل قائم کرنے کا حکم ہے۔ شیخ القرآن مولانا طاہر صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ بدبخت ہوگا وہ انسان جو اپنی دو بیویوں کے درمیان عدل قائم نہ کرسکتا ہو‘‘۔تو میں کہتا ہوں کہ وہ خاک انسانیت میں عدل قائم کرے گا۔

سیاحتی و دفاعی حوالے سے استور کی اہمیت

تقریباً رات دس بجے ہم گوریکوٹ میں وزیراقبال کے دولت سرے میں پہنچ گئے۔ ہمارے کالا پانی تک کے مضیف وزیر اقبال ہیں۔یہاں استور کے سابق ممبر اسمبلی قاری عبدالحکیم صاحب، برادرم انجینئر نقشبر صاحب داریلی اور دیگر احباب شدت سے انتظار کررہے ہیں۔مہمانوں کو ایک خوبصورت مزین و مرصع گھر میں بٹھادیا گیا۔فرشی نشست ہے۔کھانے کا دور چلا، کئی قسم کے دیسی و بِدیسی کھانے پیش کیے گئے۔ جی بھر کر کھایا۔ قہوہ کا اپنا مزہ تھا،علاقائی حالات زیر بحث آئیے۔وزیر اقبال کے پاس گلگت بلتستان اور استور کے حوالے سے کثیر معلومات ہیں۔وہ انتہائی جذباتی ہوکر اپنے مہمانوں سے پوشیدہ جذبات شیئر کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ استور سیاحتی اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔استور کا روڈ وسیع اور کشادہ ہونے کے ساتھ ہر وقت کلیر ہوناچاہیے۔میں سوچ رہا تھا کہ دفاعی حوالے سے بلتستان سے زیادہ اہم اور سیاحتی حوالے سے ناران کاغان اور ہنزہ وغذر سے زیادہ دلچسپ اور جاذب النظر استور کویوں نظر انداز کرناکسی طور نیک شگون نہیں۔حکومت کے ساتھ استور کی عوام اور ممبران بھی برابر کے قصور وار ہیں کیونکہ یہ لوگ اجتماعی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے استور کے تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہے۔مجھے استوریوں کی یہ عادت ایک سیکنڈ نہیں بھاتی۔اگر یہ لوگ بھی بلتیوں کی طرح ایک قوم ہوکر سوچتے تو آج استور دنیا کے چند اہم سیاحتی مقامات کا روپ دھارتا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔