تھری جی ،فور جی اور ایس سی او۔۔

تھری جی ،فور جی اور ایس سی او۔۔

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محترم قارئین جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ عصر حاضر میں انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت اورانسانی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ پہلے زمانے میں انسانوں کے درمیان رابطے کیلئے خط لکھے جاتے تھے مگر زمانے نے ترقی کرکے کاغذ کی جگہ کیSher Ali Anjum بورڈ اورکتاب کی جگہ ای بُک خط کی جگہ ایمیل نے لے لی انہی ضروریات کے پیش نظر گزشتہ سال پاکستان میں بھی تھری جی اورفور جی ٹیکنالوجی متعارف کرایا۔ یوں تو ترقی یافتہ ممالک اس دور سے بھی آگے نکل کرفور جی ایڈوانس تک پونچ چکی ہے لیکن ریاست گلگت بلتستان کو ہمیشہ کی طرح کے اس سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ہے لہذا سوچا کیوں نہ ارباب اختیار کا توجہ ایک بار پھر اس اہم مسلے کو مرکوز کراوں کیونکہ جس طرح ملک کے دوسرے شہروں میں رہنے والے اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں بلکل اسی طرح سرزمین بے آئین کے عوام کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ بھی جدید دنیا سے متصل ہوجائیں۔ قارئین کی معلومات کیلئے گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کے نظام کے حوالے سے چند باتوں پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اس خطے میں ٹیلی کام سیکٹر براہ راست پی ٹی اے کے زیر نگرانی نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی ٹیلی کام کی ترقیوں سے یہ خط اثرانداز نہیں ہوتا۔ اس خطے میں ٹیلی کام کا ادارہ افواج پاکستان کے ماتحت ہے جسے ایس سی اوکہا جاتا ہے یہ ادارہ گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کی سطح پر عسکری مواصلاتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اُنیس سو چھتر میں قائم کیا تھا جسکا دائرہ کاروقت کی ضرورت کے مطابق سولین تک بڑھا کر آج اس خطے میں ایس کام کے نام سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس فراہم کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کچھ کرنے کے بجائے پولو میچ کرانے سے کم ہی فرصت ملتے ہیں۔یہاں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ ادارہ اس خطے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے واحد سرکاری گواہ بھی ہے کیونکہاس خطے کیمتنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کاٹیکس نافذ نہیں ہوسکتایہی وجہ ہے کہ ایس کام اورایس سی او اس وقت ریاست کے باشندوں کو ٹیکس فری خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اس نظام میں جہاں اچھائیاں ہے وہاں اس نظام کو بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ آج دنیا اکسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کے کئی مراحل طے کر چکے ہیں لیکن اس خطے کے باشندے ملک میں ہونے والی آئی ٹی کی ترقی سے استفادہ نہیں ہو پا رہے ہیںآج جہاں ایک طرف آئینی صوبوں کے عوام تھری جی اور فور جی کے مزے لے رہے ہیں تو دوسری طرفغیرآئینی صوبے کیباشندے آج بھی ٹیلیفون اور موبائل فون کی سہولیات سے محروم ہیں اگر ہم ایس سی او انٹرنیٹ کی بات کریں تویہ سہولت ابھی تک صرف شہری آبادیوں تک محدود ہے اور غیر معیاری سروس میں کوئی مثال نہیں۔اسی طرح نجی کمپنیوں کے حوالے سے بات کریں تو تمام نجی موبائل کمپنیاں موبائل سروس کے نام پر غیرقانونی طریقے سے کڑوروں روپے ٹیکس کی مد میں وصول کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے مقامی حکومت کو اس حوالے سے بلکل ہی بے خبر ہیں جس کی واضح مثال خطے ابھی تک آئی ٹی منسٹری کا نہ ہونا ہے۔ جس طرح دوسرے شہروں کے عوام کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق ہے بلکل یہی حق یہاں کے عوام کو بھی ملنا چاہئے کیونکہ اس خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اندرونی اور بیرونی ممالک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے کر غیر ملکی زردمبالہ کے ذریعے ملکی معاشی ترقی کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔لہذا ایس سی اوکے حکام بالاکو اس حوالے سے نوٹس لیتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو شہری علاقوں کی طرح کر بالائی علاقوں میں بھی فراہم کرنے کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور تمام نجی کمپنیوں کو بھی خطے کی متازعہ حیثیت کے پیش نظر ٹیکس فری تھری جی سروس مہیا کرنا چاہئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت خطے میں پچاس کے قریب ایس سی او فرنچائیز موجود ہیں جس میں صرف بیس کے قریب سنٹرز انٹرنیٹ کی سہولت سے لیس ہیں جوکہ آبادی کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے لہذا ادارے کو چاہئے کہ ترجیحی بنیادوں پر تمام فرنچائز میں ڈی ایس ایل کی سہولیات فراہم کریں کیونکہاس طرح کے سہولیات سے محروم رکھنا یہاں کے باشندوں کے ساتھ زیادتی ہے یہاں کے عوام پہلے ہی دوسرے اہم شعبوں میں نظراندازی کے سبب احساس محرومی کا شکار ہے کیونکہ جب دفاع کی بات آتے ہیں تو اس خطے کے لوگ سب سے آگے کھڑا ہوکر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی کی دیوار بن کر دشمن کو زیر کرتے ہیں جب پاکستان کا نام روشن کرنے کی بات آئے تو بھی سرزمین بے آئین سے تعلق رکھنے والے خودمختار صوبوں سے کہیں ذیادہ ملک کا نام روشن کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے جب یہاں کے مسائل اور سہولیات کی بات آئے تو متنازعہ خطہ ہونے کا بہانا بنا کر یہاں کے باشندوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے لہذا اس روش اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام تر قربانیوں کے باوجود عوامی جذبے کو غلامی میں تبدیل کرکے اس خطے کو دیوار سے لگائے رکھنا انصاف کا تقاضا نہیں کیونکہ یہاں کے عوام نے مملکت پاکستان کے خلاف کبھی بھی ایک نعرہ بھی بلند نہیں کیا حالانکہ پاکستان کے آذاد اور خود مختار صوبوں میں تمام تر سہولیات کے باوجود آج بھی کہیں سندھو دیش، تو کہیں پنجابی گریٹ ،تو کہیں آذاد بلوچستان کے نعرے لگ رہے ہیں۔لہذا اس خطے کی دفاعی جعرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کشمیر کی سولی سے نکال کر خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے راستے ڈھوندنے ہونگے کیونکہ یہاں کے عوام جب باہر کی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی سولات جنم دیتے ہیں ۔ حاکم وقت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس خطے میں جہاں آپ کی حاکمیت ہے اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریاں صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدودرکھیں بلکہ اس سرحد پر رہنے والوں کی معاشی معاشرتی ضروریات کوپورا کرنا بھی بطور نگران وفاق کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں کیونکہ یہاں کے عوام بھی ایک طرح سے ملک کا پاسبان ہے ۔آج گلگت بلتستان کے عوام اپنی تمام تر وفادریوں کے باوجود اقتصادی راہداری میں میں شرکت سے محروم رکھنا، تعلیم ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ،انٹرنیٹ کی جدید سہولیات سے محروم ہونا اس خطے کے عوام کے ساتھ کھلی ذیادتی ہے لہذا امید کرتے ہیں کہ ارباب اختیار اس حوالے سے بہت جلد کوئی ٹھوس قدم اُٹھاتے ہوئے اس خطے کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے جامع پالیسی مرتب کرکے عوام کو خوشخبری سُنائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔