سی پیک میں گلگت بلتستان کا حصہ ( قسط اول)

چین پاکستان اقتصادی راہداری جو ماضی میں شاہرہ ریشم کے نام سے مشہور تھا ایک لمبی تاریخ ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ گلگت بلتستان کی اہمیت تاریخ میں دفاع اور تجارت کے غرض سے اہمیت کے حامل رہی ہے۔ یہاں پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ انگریزوں کی حکومت کے بعد ڈوگروں نے بھی یہاں حکومت کی ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کے ساتھ الحاق اور پھر کشمیر تنازع کے بعد اقوام متحدہ میں متنازع علاقہ ٹھرا۔ اسی طرح یہ علاقہ پہلے ہی سے اہمیت کے حامل رہی ہے اور موجودہ سی پیک کی وجہ سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ انگریزوں نے یہاں پر اپنی موجودگی اس لئے ضروری سمجھا کہ اُنھیں اس بات کا ڈر تھا کہ کہی روس یا چین ہنزہ اور چترال کے دروں سے یہاں پر حملہ آور نہ ہوں ۔ اسی خوف سے انگریزوں نے ۱۸۹۱ میں ریاست ہنزہ و نگر کے ساتھ نِلت کے مقام پر جنگ لڑی گئیں اور ہنزہ و نگر پر قابض ہو گئے کیونکہ چین اور روس کی سرحدیں ریاست ہنزہ سے ملتی ہے۔

موجودہ دور میں جنگیں لڑنا آسان نہیں بلکہ تمام ممالک اپنے معاشی مضبوطی چاہتے ہے ، معاشی برتری کے اس دوڑ میں چین نے ون بیلٹ ون روڑ کے نام سے ایک جامع منصوبہ بندی کر کے اس پر عملدرآمد نہایت ہی دانائی کے ساتھ شروع کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اسی جامع منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔

اس منصوبے کا عالمی معیشت میں اہم کردار رہے گا، کیونکہ کچھ سالوں کے اندر عالمی سیاست میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہے ۔ یعنی ایک نئی بلاک کی تشکیل ہورہا ہے۔ جیسا کہ کئی دہائیوں بعد روس اور سعودی عرب آپس کے تعلقات کو استوار کر رہے ہیں ۔ ساتھ ساتھ پاکستان اور روس، چین اور انڈیا، سنٹرل ایشیا کے ممالک ۔ یہ سب ممالک اپنے ملک کی معاشی مضبوطی کے لئے سر توڑ کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ معاشی و دفاعی ضروریات کے تحت دنیا میں نئی معاشی بلاکس وجود میں آرہے ہیں۔

گلگت بلتستان دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان میں اہمیت کے حامل اس کی سرحد چین، افغانستان، انڈیا اور واخان کوریڈور کے چند کلومیٹر پر روس واقع ہے۔ اس کے علاوہ سنٹرل ایشیا کے تمام ممالک کے ساتھ زمینی رابطے کے لئے بھی یہاں سے آسان اور چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اب چونکہ سی پیک بڑے زور و شور سے جاری ہے ۔ بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان ہوچکے ہے، فائبر آپٹکس گلگت بلتستان میں بچھایا گیا ہے اور شاہرہ ریشم کی دوبارہ تعمیرمکمل ہوچکے ہے ۔ مگر گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے اعتراضات اور قیاس آرائیاں بھی اپنی اُروج پر ہے۔ جس میں مشرقی اور مغریبی روٹس پر تینوں صوبو ں کے اعتراضات کے ساتھ گلگت بلتستان کو کیا ملے گا شامل ہے۔

گلگت بلتستان میں اگر ہم ترقی کو سی پیک کی نظر سے دیکھیں، تو ہمیں سی پیک کی ہر پہلو کو سمجھنا ضروری ہے۔

چین کے صدر نے 2013 میں ون بیلٹ ون روڈ (OBOR)کا اعلان کیا، ون بیلٹ ون روڈ کے تین حصے ہے۔ پہلا ناردرن کاریڈور ہے جو بیجنگ سے لندن تک بذریعہ ٹرین ہے ، دوسرا سنٹرل کاریڈور ہے جو شنگھائی سے شروع ہو کر پیرس جاتاہے ، اور تیسرا سی پیک ہے جو کاشغر سے شروع ہو کر پاکستان میں بلوچستان کے شہر گوادر پہنچتا ہے۔ اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جولائی 2013 میں چین کا دورہ کر کے چین کے ساتھ سی پیک معاہدے طے پایا۔ پھر چین کے صدر نے 2015 میں پاکستان کا دورہ کر کے سی پیک کے مختلف شعبوں کے 51 یا داشتوں پر دستخط کئے۔

سی پیک Long Term Plan کو چین ڈیولپمنٹ بنک اور نیشنل ڈیولپمنٹ ریفارمز کمشن نے تیار کیا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کے پلان کو خفیہ رکھا گیا ہے، شاید اس کی کوئی خاص وجوہات ہو سکتے ہے۔

سی پیک میں پہلا اور بنیادی حصہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کا ہے۔ جس میں ریلوے نیٹ ورکس، سڑکیں اور موٹرویز نیٹ ورک بنائے جائیں گے۔ دوسرا اہم حصہ انرجی انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے جس کے مطابق سی پیک کے شاہراوں پر مختلف مقامات پر بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹس لگیں گے۔ اس کے ساتھ تیل اور گیس کی لائینز بچائی جائیں گی۔ اور پلان کے مطابق یہ لائنیز روس ، ایران، سنٹرل ایشیا اور قطر تک جائیں گی۔ تیسرا حصہ گوادر پورٹ کی ڈیولپمینٹ ، توسیع اور مکمل آپریشنل ہونا ہے۔ اور امید کر رہے ہیں کہ یہ دبئی سے زیادہ تجارتی مرکز بن جائے گا۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں اقتصادی، تجارتی اورصنعتی سرگرمیاں بڑھیں گے۔ اس کے ساتھ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی چینی کمپنیوں کو لیز پر دی جائے گی، جہاں پر بیجوں کی اقسام سے لے کر زرعی ٹیکنالوجی کے منصوبے تشکیل دئے جائیں گے۔ پشاور تا کراچی کے سڑکوں میں سکیورٹی کا نظام متعارف کرائیں گے۔ فائبر آپٹکس کا کام گلگت بلتستان میں جاری ہے۔

سی پیک میں گوادر کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ گوادر پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی پٹی صوبہ بلوچستان میں واقع ہے۔ گوادر اکیسویں صدی کی جدید سہولیات سے آراستہ بندرگاہ بننے جارہا ہے اور کچھ سال پہلے اسے چین کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے بحری، تجارتی راستے کے ساتھ اپنے شاندار محل وقوع کی وجہ سے عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ بندر گاہ اپنے جغرافیائی اعتبار سے سٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہونے کے ساتھ تین خطوں کی ضروریات پوری کریں گا ۔ جس میں مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور افریقہ شامل ہے۔ اس لئے چین نے اس بندرگاہ اور بحر ہند تک رسائی کے لئے قراقرم ہائی وئے KKH کی دوبارہ تعمیر کی گئی ہے جو کہ خنجراب، ہنزہ، گلگت اور چلاس سے ہو کر ایبٹ آباد پہنچتی ہے۔ اسی راستے کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے۔

چین اسی منصوبے کے تحت قراقرم ہائی وئے KKH (شاہرہ ریشم) اور گوادر بندرگا کے ذریعے تجارتی اور دفاعی لحاظ سے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ کئی ہزار کلومیٹر قریب آئے گا۔

اس منصوبے کے حوالے سے بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان کئی دورے اور میٹنگز ہوچکے ہے اور خاص کر بیجنگ چائنہ میں پاک چین تعاون کمیٹی کا چھٹا مشترکہ اجلاس دسمبر 2016 میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان کے وفاقی وزراء کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی تھیں۔ جس میں پاکستان کے اندر مختلف پروجیکٹس اور صنعتی زونز کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھیں۔

سی پیک منصوبہ جس کا مجموعی حجم 46 ارب ڈالر سے تجاوز کر کے 55 ارب ڈالر ہوگیا ہے اور مزید کہنا ہے کہ یہ بڑھ کر 60 ارب تک پہنچ جائے گا۔اس حوالے سے مشہور اقتصادی مگیزین دی اکانامسٹ کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے پر چائنہ کی مجموعی سرمایہ کاری ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، آبادی کے لحاظ سے ساڑھے چار ارب افراد اس منصوبے سے مستفید ہونگے اور تقریباََ65 ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔

پاکستان میں سی پیک پلان کے مطابق مختصر منصوبے 2020 ، درمیانی مدت کے منصوبے 2025 اور طویل مدتی منصوبے 2030 تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ اور اسی طرح وژن 2025 کے تحت پاکستان دنیا کی 25 بہترین معشیتوں میں شامل ہوگااور وژن 2047 کے تحت 10 بڑی معشیتوں میں شامل ہوگا۔

اب اگر ہم سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف طبقے کے لوگ اور ادارے اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں، اور یہاں کے لوگ ان باتوں پر یقین بھی کرتے آرہے ہیں۔ یہاں کے ہر طبقہ اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اور خصوصاََ سیاسی نمائندوں کو اس حوالے سے کچھ نہیں پتہ۔ اگر ان سے سی پیک کے حوالے سے پوچھا جائے تو ان کو چند روایتی الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں معلوم، اور یہ چند الفاظ بھی ٹیلی ویژن کے ذریعے ان تک پہنچتی ہے، باقی اصل حقائق سے یہاں کے لوگ نا آشنا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے معلومات اور خصوصاََ اس میں گلگت بلتستان کے حوالے سے بنیادی معلومات حاصل کیا جائیں۔ اور انہی کو بنیاد بنا کر اس علاقے کے مفاد کے لئے اقدامات کریں جس میں کاروباری ادارے اور جی بی ایل اے گلگت بلتستان اسمبلی کا کردار اہم ہوگا۔

سی پیک میں گلگت بلتستان کو کون کون سے پروجیکٹ یا حصہ ملیں گے یہ الگ بحث ہے، مگر اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ پہلے سے یہاں پر کون کون سے مواقعے موجود ہے۔ جس پر بہتر انداز میں کام کر کے یہاں کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے یا سی پیک کے پروجیکٹس میں شامل کرسکتے ہے۔

گلگت بلتستان میں بے شمار قدرتی وسائل موجود ہے اور ابھی تک اسے استعمال میں نہیں لایا گیا ہے۔ اگر اسے استعمال میں لایا جائے تو نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ کسی حد تک پاکستان کی معشیت میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ان تمام قدرتی وسائل کے لئے اگر سی پیک کے تحت کوئی طریقہ کار یا اسکیم ترتیب دیا جائے تو ان سے بے تحاشہ فائدہ حاصل کئے جا سکتے ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کے پہاڑوں میں معدنیات ہے۔ اور اسے استعمال میں لا کر لوگوں کو خوشحال بنا سکتے ہے۔

دوسری چیزاس علاقے میں سیاحت کا فروغ ہے ۔ گلگت بلتستان اپنے قدرتی خوبصورتی میں پوری دنیا میں مشہور ہے ، مگر پچھلے چند سالوں سے یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں سیاح آرہے ہیں اس کی وجہ ٹیلی ویژن پر سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان کانام بار بار استعمال ہونا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو ایک سال میں جتنے سیاح یہاں پر آتے ہیں ان کے لئے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہے، اس کی وجہ یہاں کے مقامی لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ سارے انتظامات کر سکیں۔ اس لئے اگر حکومت (سی پیک کے تحت) بنکوں کے ذریعے آسان شرائط پر قرضہ دینا شروع کریں تو یہاں سیاحت کے شعبے میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔

تیسری چیز یہاں پر خشک میوہ جات کو بہتر انداز میں مارکیٹ تک پہنچانا ہے۔ یہاں کے خشک میوہ جات کے اعلیٰ کوالٹی پروڈیکٹس یہاں پر تیار کئے جاتے ہے اور پہلے بتا چکا ہوں کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اب اس میں بہتری لانے کے لئے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے بنجر ذمینوں میں پھل دار درخت زیادہ سے زیادہ لگایا جائے اس کے بعد اسے تیار کرنے کے لئے ٹرینگز اور پروسسنگ کے لئے فیکٹری ضروری ہے۔

چوتھی اور اہم چیز یہاں کے دریاوں سے کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور پوری پاکستان اس سے خود کفیل ہوسکتا ہے۔ ان تمام کاموں کو سرانجام دینے کے لئے سی پیک ایک بہترین موقع ہے۔ ۔۔ (جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments