ایون میں واقع سنجریت نامی جنگل میں آگ لگنے سے دیودار کے سینکڑوں درخت جل کر خاکستر ہو گئے 

چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال کے خوبصورت گاؤں ایون کے جنگل سنجریت میں آگ لگنے سے سینکڑوں دیودار کے درخت جل کر خاکستر ہو گئے ہیں ۔ اور جنگل میں لگی آگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ چترال شہر سے پچیس کلومیٹر دور ایون کے جنگل میں گذشتہ روز آگ لگی ۔ جس نے بتدریج ایک بڑے علاقےکو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اور کئی درخت جل کر نیچے گرنے سے آگ کے انگارے دور دور تک بکھر کر جنگل کی آگ میں اضافے کا سبب بنے ۔ اور یوں جنگل کا ایک بڑا حصہ اس آگ کی لپیٹ میں آگیا ہے ۔ ایس ڈی ایف او چترال محمد آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ۔ کہ جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں دیودار کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ تاہم متاثرہ درختوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں۔ بلکہ بارہ درخت آگ لگنے سے جل گئے ہیں ۔ محکمہ فارسٹ کے سات اسٹاف اور مقامی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد جنگل میں آگ بجھانے میں مصروف ہیں ۔ اُن کے مطابق آگ قابو میں ہے ۔ تاہم ایک بڑے درخت کے جل کر گرنے کا انتظار ہے ۔ اور آگ بجھانے والوں نے اُن کے انگاروں اور شعلوں کو کنٹرول کرنے کیلئے دائرے کی شکل میں خندق کھود لی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آگ کمپارٹمنٹ نمبر 5جنگل سنجریت میں لگی ہے ۔ جبکہ اس سے دو دن پہلے اسی جنگل کے کمپارٹمنٹ نمبر 2میں بھی آگ لگی تھی ۔ جسے ایس ڈی ایف او کے مطابق بجھا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے آگ لگنے کی ذمہ داری مقامی کمیونٹی کے افراد پر ڈالتے ہوئے کہا ۔ کہ حالیہ دنوں میں علاقے کے افراد چلغوزہ جمع کرنے اور جلانے کی لکڑی کاٹنے کے لئے جنگل سنجریت آتے ہیں اور جنگل میں آگ جلاکر خوراک وغیرہ تیار کرتے ہیں ۔ اور جاتے ہوئے آگ کو بجھانے میں غفلت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آگ بتدریج جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ اور یہ واقعہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غفلت کے مرتکب افراد کی تفتیش کی جارہی ہے ۔ جن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ واضح رہے ۔ اسی جنگل میں اس سے قبل بھی غفلت یا دانستہ طور پر کئی مرتبہ آگ لگ چکی ہے ۔ اور اس جنگل کے ہزاروں دیودار کے درخت اب تک آگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ یہ واقعات مقامی کمیونٹی کی بے حسی اور محکمہ فارسٹ چترال کی نااہلی کی وجہ سے بار بار رونما ہورہے ہیں ۔ اور ایسے قومی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے کوئی کاروائی ابھی تک نہیں کی گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments