مجھے کو ن سنے گا

مجھے کو ن سنے گا

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عنایت اللہ اسیر

اے آمدانت با عث شاد مانی ماء

تا جکستان کے صدر کے پا کستان آمد کے مو قع پر ہم اہلیاں پا کستان بالعموم و باشندگان چترال و خیبر پختونخوا بالخصوص دل کی گہرائیوں سے ان کو خوش آمدید کہتے ہیں یقیناًان کی تشریف آوری پا کستان و تا جکستان جن میں صر ف پ اور ت کا فرق ہے اس مختصر سے حرف کے فاصلے کو بھی مٹاکران کے برادرانہ تعلقات کے مظبو ط استوار کر کے ان دو نوں ملکو ں کیلئے با عث خوشحالی باعث ترقی ،با عث اطمینان و سکون اور راحت و آسانیاں پیدا کر نے کا سبب ہو گا۔خوشحالی اس لئے کہ لواری ٹنل اور وادئی چترال سے گوادر تک کا مختصر ترین راستہ سینٹرل ایشیاء کے ممالک کو دستیاب ہو گا ترقی کا سبب یوں ہو گا کہ ہر قسم کے سامان کی رسدپا کستان سے تاجکستان قلیل وقت میں زمینی راستے سے پہنچا نا ممکن ہو گا اطمینان و سکون اس لئے کہ مسلمان ممالک کا آپس میں مضبوط رشتہ پا کستان اور تا جکستان کے باشندوں کے لئے محبتوں کا ذریعہ پر انے تہذیبی روابط کی بحالی اور مو سیقی سے لے کر مہمان داری و ادب و احترام کے مراسم بحال ہو کر ایک دوسرے کی مضبوطی کا سبب بنیں گے ۔

راحت و آسانی اس لئے کہ سینٹر ایشیاء کے ہمارے بھائی اپنے ہی برادر ملک کے زمینی راستے شب و روز استفادا کر کے پو ری دنیا سے منسلک ہو جائیں گے ۔دونو ں ممالک کے مختلف شعبوں کے ہنر مند باشندوں کے ہنر سے دو نوں ممالک استفادا کر کے اپنے وسائل کو بہتر استعمال کر سکیں گے ۔

زراعت کی ما ہرین اور پا کستان کے محنتی کسان سینٹرل ایشیاء کے وافر زرعی زمینات سے گندم ،چاول اور دیگر زرعی اجناس اُگا کر پو ری ایشیاء اور دنیا کے مختلف ممالک کو اشیا ئے خوردنوش کے شعبے میں خود کفیل کر نے کا سبب ہو نگے ۔

چشم ما روشن دل ما شاد 

گوادر سے تاجکستان مثل گوادر سے کاشغر شاہراہ کی تعمیر کے لئے تمام سینٹرل ایشیا ء کے نو آذاد ممالک افغانستان ،ترکی ،ایران اور پا کستان کے نمائندوں پر مشتمل کنسور شیم اور ورکنگ گروپ کا قیام اس دورے کا اہم حصہ ہو نا چائیے تا کہ دونوں شا ھر اھو ں کی تعمیر کا کام ایک ساتھ شروع ہو سکے اور مخالفین کا منہ بند کیا جا سکے ۔جس طرح چائینہ اربوں روپے کی سر ما یہ کاری سے گوادر کا کا شغر کو ریڈور کی تعمیر کا معاہدہ اور تکمیل کا ذمہ لیا ہے اسی طرح سینٹرل ایشیاء کے ممالک پا کستان کی جغرافیائی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہو ئے سمندر تک رسائی کے اس عظیم منصوبے کی تعمیر ،تکمیل اور استفادے کی راہیں استوار کر نے میں دیر نہ کر یں ۔

فی الحال کر نے کے کام 

1۔ وقت ضائع کئے بغیر سیر و تفریح اور تجارتی غرض کے لئے ویزوں کی اجراء کو نہایت سحل اور آسان بنا یا جائے ۔قلیل معاد کے ایک ہفتے سے لیکر دس دن کے ویزٹ ویزے صرف شناختی کارڈ پر تاجرون اور سیاحوں کے لئے خیبر پختونخوا سے جاری کر نے کا اہتمام کیا جائے ۔

2۔ دو نو ں ممالک میں تجار تی اور سیاحتی سیمیناروں کا انعقاد کرا نے کے بندوبست کیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔