ضلع چترال کے سیلاب سے متاثرہ آیون نامی گاوں کو اب زلزلے نے تباہی سے دوچار کر دیا ہے، متاثرین امداد پیکج کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار

ضلع چترال کے سیلاب سے متاثرہ آیون نامی گاوں کو اب زلزلے نے تباہی سے دوچار کر دیا ہے، متاثرین امداد پیکج کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) وادی بمبوریت کے دہانے پر واقع آیون گاؤں جو اپنی حوبصورتی کی وجہ سے نہ صرف چترال بھر میں مشہور تھا بلکہ ملک بھر سے آنے والے سیاح بھی اس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکتے۔ اس وادی کو تین ماہ پہلے سیلاب نے تباہ کیا تھا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی ہم اپنی مدد آپ کے تحت خود کو بھی سنبھلا ہی تھا کہ زلزلے نے پھر گاؤں کا نقشہ بدل دیا۔
اس گاؤں میں مشرق کی جانب وادی کا پورا علاقہ زلزلے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا جہاں متعدد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ کئی لوگ زحمی ہوئے اور ایک خاتون کی حالت نہایت تشویش ناک ہے جو سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیر علاج ہے ۔علاقے کے معروف شحصیت جندولہ خان کا کہنا ہے کہ پہلے ہمیں سیلاب نے تباہ کیا اور اب زلزلے نے مگر ابھی تک ان کے ساتھ امداد نہیں ہوا۔
ایک اور مقامی شحص نے کہا کہ آیون گاؤں میں بہت سارے گھر تباہ ہوئے یہاں کے لوگ نہایت غریب ہیں اور وہ اپنے تباہ شدہ مکانوں کو حکومتی امداد کے بغیر ہر گز دوبارہ تعمیر نہیں کرسکتے۔
ایم ایس سی کیمسٹری کی ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر بار زمین اور فصل پہلے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا اس گاؤں میں سیلاب کی وجہ سے ہماری اراضی پر بہت بڑا جھیل بنا تھا مگر ابھی باقی کسر پورا کیا اور حالیہ زلزلے نے تو پورے گاؤں کا نقشہ بد ل دیا۔
ایک اور خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے اوپر چھت سے بلاک اور پتھر گر گئے جس کی وجہ سے اس کا کندھا زحمی ہوا اور گھر بھی تباہ ہوا مگر وہ انتہائی غریب لوگ ہیں اور ان کی بس سے باہر ہے کہ وہ اپنا تباہ شدہ مکان کو دوبارہ تعمیر کرے۔
آیون کے متاثرین زلزلہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ فوری طور پر مالی امداد کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلاب کی طرح وہ حکومت کی چیک ملنے کی راہ تکتے رہے مگر ابھی تک ان کے ساتھ مالی امداد نہیں ہوا اور حکومتی دعویں صرف اعلانات کی حد تک محدود رہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔