گلگت بلتستان میں حالیہ زلزلہ،اور حکومتی کارکردگی

گلگت بلتستان میں حالیہ زلزلہ،اور حکومتی کارکردگی

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پڑوسی ممالک اور پاکستان سمیت گلگت بلتستان اور آزادجموں و کشمیر میں گزشتہ 26اکتوبر کو ایک ہولناک اور تباہ کن زلزلے سے جہاں بڑے پیمانے پرمالی نقصانات ہوئے، وہاں سینکڑوں قمیتی انسانی جانیں اس لرزہ خیز زلزلے نے نگل لیا ۔ملک میں حالیہ زلزلے میں سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا ہ کا علاقہ شانگلہ میں ہوا جہاں اب تک مرنے والوں کی تعداد 55سے زیادہ ہوگئی ہے ،جبکہ مجموعی طور پر پورے ملک میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 3 سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں ،اور ہزاروں لوگ زخمی ہوگئے ہیں ۔حالیہ زلزلے سے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں زمین تھرتھرانے ،اور پنگوڑے کی طرح جھولنے لگی ،جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلنے لگا ،اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل گئے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان،افغانستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.5شدت کا زلزلہ آیا ہے اور زلزلے کا مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ماہرین کے مطابق 2005کی ہولناک زلزلہ کی شدت زیادہ گہرائی میں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔ تاہم حالیہ دنوں آنے والی زلزلہ کی شدت زیادہ گہرائی میں ہونے کی وجہ سے نقصان زیادہ نہیں ہوا ۔گلگت بلتستان کے اندر آنے والی تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں 13 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوگئے ،جبکہ زلزلے سے سینکڑوں گھر مکمل تباہ اور ہزاروں مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کے ساتھ ساتھ جزوی نقصان بھی پہنچا ،اس کے علاوہ شاہراہ قراقرم کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند رہا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان سے راولپنڈی جانے والے ہزاروں مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہا ۔گلگت بلتستان میں زلزلے سے سب سے زیادہ ضلع غذر متاثر ہوا ،جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے سے اب تک 6 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے ،جبکہ زلزلے میں سینکڑوں مکانات ،گھر گر کر تباہ ہوگئے ہیں ،اور ضلع غذر کی تمام رابطہ سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مختلف ایریاز میں کچھ دنوں تک بند رہی ،اور ذرائع ابلاغ کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ۔دیامر میں میں گزشتہ روز آنے والی ہولناک زلزلے سے سینکڑوں گھر اور مکانات تباہ ،ہزاروں گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑھ گئی۔سب سے زیادہ نقصان داریل تانگیر میں ہوا جہاں اب تک 3 افراد کی جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے,ا س کے علاوہ تانگیر میں 2 درجن سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں ، اورداریل میں ایک درجن سے زائد مکانات منہدم ہونے کی اطلاع ہے ،جبکہ گونر فارم اور چلاس میں بھی درجنوں مکانات کی دیواریں گر گئی ہیں ،اس کے علاوہ ہڈور،تھور،تھک نیاٹ اور کھنر میں سینکڑوں گھروں ،اور سکولوں کی دیواروں میں بھی دراڑیں پڑچکی ہیں ۔ضلع غذر اور ضلع دیامر کے علاوہ ضلع سکردو،ضلع استور،ضلع گلگت،ضلع ہنزہ نگر،اور ضلع گانچھے میں بھی زلزلہ سے درجنوں مکانات کو جزوی نقصان اور کئی سکولوں اور گھروں میں خطرناک قسم کی دراڑیں پڑنے سے وہ مکانات اور سکول اب ناقابل استعمال ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اور اب ایسے گھروں میں رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔گلگت بلتستان میں حالیہ زلزلے کے فورا بعد وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ اور گورنر گلگت بلتستان محمد برجیس طاہر متحرک دیکھائے دئے ،دنوں زمہ داروں نے ہنگامی بنیادوں پر تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافظ کروا دی،اورخود گلگت بلتستان کے زلزلے سے متاثرہ اضلاع کا ہنگامی دورے بھی کئے،اور زخمی افراد کی عیادت کی۔وزیر اعلی کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کی وجہ سے24گھنٹوں کے اندر اندر شاہراہ قراقرم کے متاثرہ حصے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے واگزار کرادیاگیا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے زلزلہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو پانچ ،پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ،شدید زخمیوں کو ڈیڑھ،ڈیڑھ لاکھ اور معمولی زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ،اورساتھ ساتھ زخمیوں کی علاج کیلئے تمام تر اخراجات بھی صوبائی حکومت کی طرف سے برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا جو کہ لائق تحسین ہے ۔اس کے علاوہ وزیر اعلی نے تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو زلزلہ زدگان سے متعلق جلد نقصانات کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے کران متاثرین تک ریلف پہنچانے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔وزیر اعلی کی جدجہد اور کوشیشں اپنی جگہ درست ہیں ،لیکن محکمہ موسمیات نے الارم بجا دیا ہے کہ آئندہ ہفتے زلزلہ سے متاثرہ بالائی علاقوں میں بارش اور برف باری کا امکان ہے لیکن زلزلہ سے متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ متاثرین کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے میں تاخیر کرہی ہے ،اس لیئے وزیر اعلی حفیظ الرحمن اس حوالے سے نوٹس لیکر بالائی علاقوں میں برف باری سے پہلے امداد پہنچانے کے احکامات جاری کریں تاکہ متاثرین کی مشکلات میں کمی آسکے۔دیامر میں داریل اور تانگیر کے متاثرہ علاقوں میں ہنوز امدادنہیں پہنچائی گئی ہے۔اس لیئے حکومت کا یہ اولین فرض بنتا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد کی فراہمی یقینی بنائیں ۔زلزلے کے بعد گلگت بلتستان کے متاثرین اب ایک نئے امتحان کا سامنا کررہے ہیں ،پہلے سروں پر موجود چھت اُکھڑ گئیں ،اب سرد اور دل دہلا دینے والی سردی نے متاثرین کو گھرے میں لے لیا،متاثرین اپنے تباہ شدہ مکانات کی اپنے مد دآپ کے تحت تعمیر کرنے میں مصروف ،حکومتی امداد کے منتظر ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔