گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سردار عتیق کے بیان کی شدید مذمت

گلگت (نامہ نگار) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پانچویں اجلاس میں کشمیری رہنما سردار عتیق کے گزشتہ روز کے اخباری بیان کو گلگت بلتستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوے اس کی شدید مذمت کی گئی۔ ممبران قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ جب بھی گلگت بلتستان کے آئینی محرومیوں کے خاتمے کا وقت آتا ہے تو سردار عتیق جیسے خودساختہ رہنماوں کے پیٹ میں مروڈ شروع ہوجاتا ہے۔ ممبران اسمبلی نے کہا کہ کشمیری رہنماوں کے منفی رویے نے گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کو ان سے متنفر کر دیا ہے اور یہاں کے لوگ اب ان کشمیری رہنماوں کو اپنے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتے ہیں۔ 

 ممبران اسمبلی کی شدید مذمت کے بعد سپیکر فدا محمد ناشاد نے بھی اس بیان کی مذمت کی اور کہا کہ بیرونی عناصر کو کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ گلت بلتستان کے منتخب نمائندوں کے متفقہ موقف کی مخالفت کر کے یہاں کے عوام کے جذبات سے کھیلیں۔

 یاد رہے کہ سردار عتیق نامی کشمیری رہنما نے گزشتہ روز گلی کوچوں میں پھرنے والے بدمعاشوں کی زبان میں بات کرتے ہوے دھمکی دی تھی کہ وہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے والوں کا “قبر تک پیچھا کریں گے۔”

مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سے گلگت بلتستان کے عوام میں کشمیریوں کے لئے ہمدردی ختم ہورہی ہے۔ اس بیان کے خلاف تعلیم یافتہ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر زبردست تنقید کرتے ہوے اسے گلگت بلتستان کے معاملات میں بیرونی عناصر کی مداخلت قرار دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments