چترال، ایون کے سیلاب سے متاثرہ باسیوں نے حکومتی بے حسی پر انتہائی افسوس کا اظہارکیا ہے

چترال، ایون کے سیلاب سے متاثرہ باسیوں نے حکومتی بے حسی پر انتہائی افسوس کا اظہارکیا ہے

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( نذیرحسین شاہ نذیر) چترال کا خوبصورت ترین قصبہ اور کالاش ویلیز کے گیٹ وے کی حیثیت رکھنے والے علاقہ ایون کے باسیوں نے حکومتی بے حسی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ کہ ماہ جولائی کے سیلاب سے ایون کے مقام پر دریائے چترال ڈیم کی صورت اختیار کرکے درجنوں مکانات اور سینکڑوں ایکڑ آراضی کو ملبے میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ابھی تک اُس کی نکاسی کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ شدید اضطراب اور پریشانی کا شکار ہیں ۔ کیونکہ مارچ میں گلیشئر کے پگھلنے اور بارش کی وجہ سے ندی نالوں اور دریائے چترال میں پھر سے طغیانی کا عمل شروع ہو گا ۔ اور یہ ڈیم مزید کئی گھروں کی تباہی کا باعث ہو گا ۔ اور ہزاروں ایکڑ قابل کاشت زمینات مزید دریائی ملبے سے بھر کر بنجر ہو جائیں گے ۔ ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ایک متاثرہ شخص واجب الدین نے بتایا ۔ کہ اُس کے تمام آراضی اُس ڈیم میں ڈوب گئے ہیں ۔ اُن کے پاس کاشت کیلئے ایک مرلہ زمین بھی نہیں بچا ہے ۔ جبکہ وہ متاثر شدہ زمین سے سال بھر کی خوراک حاصل کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا میری طرح سینکڑوں لوگ اپنے زمینات سے محروم ہو گئے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے ۔ کہ حکومت زمین متاثرہ لوگوں کو نہ امداد دیتی ہے ۔ اور نہ دریا کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ڈیم کو صاف کرتا ہے ۔ جبکہ سیلاب کے دوران متاثرین کو یہ یقین دھانی کی گئی تھی۔ کہ پانی کی سطح کم ہونے پر ڈیم کی صفائی کی جائے گی ۔ لیکن ابھی تک اُس کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ اور اُن جیسے ایون گاؤں کے سینکڑوں لوگ مہاجر بن گئے ہیں ۔ اور نوبت فاقوں پر آئی ہے ۔ کیونکہ یہی زمینات آمدنی کا ذریعہ تھے ۔ ایک اور متاثرہ شخص سردار احمد نے بتایا ۔ کہ اُس کی زمینات اور تین مکانات سب اس ڈیم میں متاثر ہوئے ہیں ۔ اور مزید تباہی کا خد شہ ہے ۔ حکومت متاثرین پر کوئی توجہ نہیں دیتی ۔ سب زبانی جمع خرچ پر لوگوں کو ٹر خایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت گاؤں ایون کو بچانے کیلئے ڈیم کی نکاسی اور کالاش ویلی سے آنے والے نالہ ایون کی صفائی کو ممکن بنائے ۔ بصورت دیگر پورا گاؤں تباہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سیلاب کے دوران یقین دھانی کرائی گئی تھی ۔ کہ ڈیم کی صفائی کی جائے گی ۔ تاکہ لوگوں کی زمینات اور مکانات مزید تباہی سے بچ سکیں ۔ اور مقامی لوگ انتہائی اضطراب ڈیم کو کھولنے اور نالہ ایون کی صفائی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں جب ایس ڈی او ایریگیشن چترال محمد علی سے رابط کیا گیا۔ تو انہوں نے ایکسپریس کو بتایا ۔ کہ نالہ ایون کی صفائی حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور ڈیم کو کھولنے کے حوالے سے پی سی ون تیار ہو چکی ہے ۔ جسے چند دنوں میں سیکرٹری ایریگیشن کو پیش کیا جائے گا ۔ اور توقع ہے ۔ کہ ایک مہینے کے اندر کام شروع کیا جائے گا ۔ اور بھاری مشینریوں کے ذریعے مختصر وقت میں کام مکمل کرنے کی کو شش کی جائے گی ۔ تاہم مقامی لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں ہے ۔ کہ یہ ادارہ پانی کی دوبارہ طغیانی سے پہلے نالے کی صفائی اور ڈیم کو کھولنے کا کام انجام دے سکے گا ۔ کیونکہ سروے پر جب چھ مہینے صرف کئے گئے ۔ تو کام پر بھی ضرور چھ مہینے کا وقت لگے گا ۔ جبکہ اس کام کیلئے صرف دو مہینے باقی ہیں اُس کے بعد پانی کے بہاؤ میں پھر سے اضافہ ہوگا ۔ جو کام میں خلل ڈالنے کا سب ہو گا ۔ مقامی لوگوں نے یہ کام بروقت انجام نہ دینے کی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔