سانحہ فرانس ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ گزارشات

سانحہ فرانس ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ گزارشات

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

فرانسیسی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس کو انقلاب میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے انقلاب فرانس اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے اور یہ انقلاب کوئی ایک یا دو دن میں نہیں آیا تھا بلکہ سالوں کی محنتوں کا پھل تھا جو اس انقلاب کی صورت میں ملا تھا۔ انقلاب فرانس سے قبل دانش وروں کاطبقہ یورپ میں وجود میںآچکا تھا، جو سیاسیات، فلسفہ، تاریخ اور ادب میں نئے نئے اضافے کر رہے تھے جس کی وجہ سے انقلاب کے راہنماؤں کے پاس ریاست کو تشکیل دینے کے لئے افکارر و خیالات کی کمی نہیں تھی۔ اور افکا ر کے علاوہ عملی حصہ پیرس کے عوام نے ڈالا جب عوامی طاقت نے پہلی بار ریاست کی طاقت کے ساتھ ٹکر لی تو اس کے بعد ان کے انقلاب کے راہنما سامنے آئے یعنی پہلے انقلاب آیا اور پھر انقلاب کے راہنما آئے اور انقلاب کے ادوار میں ظالم حکمران ایک ایک کر کے قتل کر دئے گئے تھے اور ایسا انقلاب تھا جس کا نظارہ پہلی بار دنیا کی آنکھوں نے کیا جب غریب اور محروم لوگ حکومت سے ٹکرائے اور حکمرانوں کو گھسیٹ کر محلات سے نکالا اور ایک قاتلانہ احتساب کا آغاز ہوا جس میں محروم ہر کسی کے ہاتھ کو دیکھتے جس کے ہاتھ میں محنت کرنے سے نشان نا ہوتے تھے اس کے ہاتھ کاٹ دئے جاتے تھے لوگوں کے کالروں اور کفوں کو دیکھا جاتا جس کے کفوں اور کالروں پر میل ہوتی تو ان کو چھوڑ دیا جاتا اور جس کی کف اور کارلر سفید ہوتی اس کی گردن کو تن سے جدا کر دیا جاتا ۔
یہاں تک کے نپولین نے آخری راہنما کو قتل کیا اور شہنشاہیت کو قائم کر لیا۔ مگر فرانس کے اندر انقلاب کی روح قائم رہی اور وہ جذبہ قائم رہا اور بلا آخر 1830 اور1848 میں انقلابات سے دوچار ہوا اور بالآخر اس نے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا ۔ اور ایک عدل و انصاف اور پر امن معاشرے کی بنیاد رکھی گئی جہاں انسانی جان کی بہت قدر و اہمیت تھی ۔
اس فرانسیسی معاشرہ کے لوگوں کے ساتھ داعش نے خون کی ہولی کھیلی یورپ میں داعش کے وجود کا آغاز اس وقت ہوا جب شام میں حالات خراب ہوئے تو شامی مہاجرین کی ایک کثیر تعداد نے یورپ کا رخ کیا اور یورپ نے اپنی بانہوں کو پھیلا کر ان شامی لوگوں کو خوش آمدید کہامگر ان شامی مہاجرین کے ساتھ ساتھ داعش کے لوگ بھی یورپ میں آئے جس کی وجہ سے آج یورپ کو بھی دہشت گردی کے شدید قسم کے خدشات کا سامنا ہے ۔ شامی مہاجرین کی آمد کی وجہ سے یورپ ایک بحرانی کیفیت سے دو چار ہوا مگر چونکہ یورپی معاشرہ انسان تو انسان ،حیوانی جان کی بھی اتنی قدر ہے جتنی شاید پاکستان میں انسانی جان کی بھی نہیں ہے ۔ شامی مہاجرین کی حالت زار میں کوئی بھی مسلمان ملک سامنے نا آیا ان شامی مہاجرین کا ہمدرد یورپ بنا جو کہ ہے تو کافر مگر شامی مہاجرین کا وہ واحد سہارا جس نے ان شامیوں کے زخموں پہ مرہم رکھا۔
مگر ان شامی مہاجرین میں داعش کے اہلکار بھی مہاجرین کی صورت میں یورپ میں داخل ہوئے جنہوں نے اپنی سفاکانہ کاروائیوں کا آغاز کر دیا جس کی واضع مثال فرانس کے شہر پیرس جسے خوشبوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اس میں ہونے والے دہشت گردحملے ہیں جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیائع ہوا ہے ۔ حملوں کے بعد سے بہت ساری غیر معمولی باتیں دیکھنے میں آئی ہیں جن میں سے ایک تو یہ تھی کی داعش کے خلاف روس اور امریکہ اور سارا یورپ متحد ہو گیا اور اس بات کا اظہار کیا جانے لگا کہ داعش کے یہ حملے تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ہیں ایک اور بات یہ دیکھی کہ ایک مسلمان نوجوان نے اپنی آنکھوں پر پٹی پاندھی اور ایک چوک میں کھڑا ہو گیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ’’ میں ایک مسلمان ہوں اور میں دہشت گرد نہیں ہوں اور جس کو میری اس بات پر یقین ہے مجھے سینے سے لگا لے ‘‘ اس بات کو دیکھنا تھا کہ دکھی فرانسیسی قوم کے افراد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہر مرد زن اس نوجوان کو کو سینے سے لگا رہا تھا اس نظارہ نے ان لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے ۔
ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ برطانیہ کے شہر آکسفوڈ میں ایک بیوٹی سیلون جس کا نام ’’ بلنکس آف بسٹر‘‘ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’’وہ اب اسلامی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کی بکنگ نہیں لیں گے‘‘۔
اس بات کا اظہار کرنا ہی تھا کہ لوگوں کی طرف سے ان کے اس قدام کی انتہائی سخت الفاظ میں مزمت کی گئی اور بعض نے اس اقدام پر اس سیلون کا نام متعصب سیلون رکھ دیا اور لوگوں کی طرف سے اتنا سخت رد عمل تھا کہ اس سیلون کو اپنے فیس بکس پیچ سے اس پیغام کو ختم کرنا پڑا اور قانون بھی حرکت میں آیا اور نسلی متعصب پیغام کی اشاعت پر ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اور سیلون کے اس اقدام کی مزمت کرنے میں بھی یورپی معاشرہ کے لوگون کی اکثریت تھی جو کہ باوجود دکھ کے سیلون کے اس قدام کی مخالفت کررہے تھے جب مینے یہ واقعہ دیکھا تو میری نظروں کے سامنے پاکستان کے گلی کوچے، سٹورز ،دکانیں، ہوٹلز ، سٹرکوں پر چلنے والی بسیں نظر آئیں جن میں یہ سٹیکرز جا بجا لگے ہوئے ہیں کہ، اس دکان میں شعیوں کا داخلہ منع ہے اس دکان میں احمدیوں کا داخلہ منع ہے،اس دکان میں عیسائیوں کا داخلہ منع ہے مگر نا تو ہمارے معاشرے میں سے کوئی عام انسان اور نا ہی ہماری حکومت ان بینرز اور سٹیکرز پر حرکت میں آتی ہے ۔ اور ہمارے معاشرے کی اسی بے حسی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ پھوٹ کا شکار ہے ۔
جب فرانس میں حملہ ہوا تو سوشل میڈیا پر لوگوں نے اپنی ڈی پیز کو اظہار یکجہتی کے لئے فرانس کے پرچم کے رنگ میں رنگین کرلیا ، مگر بعض لوگوں نے تنقید کی اور کہا کہ فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک میں ہونے والے مظالم پر اپنی ڈی پیز کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے بحر حال اپنے اپنے نظریات ہیں جان کسی بھی کیوں نا ہو سب کی جان کہ اہمیت ہے خواہ وہ فلسطین میں ختم ہو یا فرانس میں ، ہمیں چاہیے کہ کسی انسان کا بھی قتل ہو اس کی مزمت کریں ۔ اور اس کے دکھ میں شامل ہوں۔ اور محبت کے پیغام کو عام کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔