چلاس سے پندرہ کلومیٹر دور پولیس تھانے پر گزشتہ شب دہشتگردوں کا حملہ، جوابی فائرنگ سے فرار ہوگئے

چلاس سے پندرہ کلومیٹر دور پولیس تھانے پر گزشتہ شب دہشتگردوں کا حملہ، جوابی فائرنگ سے فرار ہوگئے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(ابونہال فاروقی سے) چلاس سے 15کلومیٹردور تھک جل کے مقام پر پولیس تھانہ پر دہشت گردوں کا خطرناک حملہ ۔پولیس کے جوابی فائرنگ سے حملہ آور پسپا ہوگئے۔تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز شب ۴ بجے جل تھانہ پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔حملے سے تھانہ کی عمارات کو جزوی طور پر نقصان پہنچ گیا۔پولیس کے مطابق سنتری نے جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں پر فائرنگ کرکے دہشت گردوں کو قریب آنے سے روک دیا ،اور حملہ ناکام بنادیا گیا۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق 8سے 16 دہشت گردوں نے رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تھانہ پر حملہ آور ہوئے،لیکن پولیس کی مذاحمت پر دہشت گرد اپنے مقاصد میں ناکام ہوگئے۔دیامر پولیس کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی دیامر رینج عنایت اللہ فاروقی پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ،اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔سرچ اپریشن کے دوران 7سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے ،اور تھک نیاٹ کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر دئے گئے ہیں ۔میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی دیامر ریجن عنایت اللہ فاروقی نے کہا کہ جل تھانہ پر حملہ ڈوڈشال طرز کا واقعہ تھا ،لیکن پولیس نے ناکام بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تھانہ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خطرناک عزائم تھے ،پولیس کی بروقت کارروائی سے پسپا ہو کر فرار ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تھانہ پر حملے کے بعد تمام سرکاری عمارتوں پر پولیس الرٹ کر دیا گیا ہے ۔اور شاہراہ قراقرم پر بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایچ او جل تھانہ بہرام نے کہا کہ تھانہ پر دہشت گردوں کے حملے کے دوران پولیس نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جل تھانہ کی پولیس بلند عزم و ہمت کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کرے گی۔پولیس کی بہادری پر ڈی آئی جی نے پولیس کو نقد انعام بھی دیا اور سنتری سمیت ایک پولیس کو حوالدار کی رینک بھی لگا دیا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔