چلاس کی ڈائری

چلاس کی ڈائری

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:مجیب الرحمان

11147038_851591718241623_1132338952496760453_nراقم کو 1998میں صحافت سے وابستگی ایک عوامی مسئلے کو منظر عام پر لانے کے سلسلے میں ہوئی۔جس کے بعد مختلف ہفتہ روزوں اور آہستہ آہستہ روزناموں، میگزین اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستگی بلا تعطل رہی جو اب بھی ذمہ دارانہ انداز میں جاری ہے۔ بعد ازاں راقم دیامر پریس کلب کی رکنیت سے اب اہم منصب پر بھی فائزہے۔عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام کی آواز کو ارباب اختیار تک پہنچانے کی غرض سے شبانہ روزمحنت کے ساتھ ساتھ سرکاری، نیم سرکاری اور ذاتی طور پر ملک کے دیگر شہروں میں بھی جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے۔ رواں سال ملک کے اہم ترین میگا پراجیکٹ دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں متاثرین ڈیم اور حکومت کے مابین بہترین روابط پیدا کرنے کے سلسلے میں اپنی ٹیم کے ہمراہ واپڈا کی جانب سے منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ دوران سفر تما م راستوں اور سڑکوں سمیت انفراسٹرکچر کا بغور جائزہ لینے کا بھی موقع ملا۔ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے سمیت تمام سہولیات اور ان علاقوں کی ترقی دیکھ کر مجھے اپنے اندر کی احساس محرومی مزید بڑھنے لگی۔ بعد ازاں تربیلا ڈیم گئے وہاں کے متاثرین ڈیم سے ملنے کے لئے واپڈا کی جانب سے قائم دو مختلف میٹنگ ہال گئے۔ چونکہ ہمارے ہمراہ واپڈا کے حکام بھی تھے، موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے وہاں کے عوام کی نمائندگی ایک سابقہ یونین کے ممبر نے کی۔ سابقہ یونین ممبر جاوید نامی شخص نے جس انداز میں اپنے علاقے کے عوام کی نمائندگی کی کہ ہمیں اپنے نمائندوں کی بے رخی اور لاپرواہی پر افسوس ہوا۔سابقہ یونین ممبر کی مخلصی کو دیکھتے ہوئے واپڈا حکام بھی انکے مسائل فوری حل کرنے پر راضی ہوئےاور جلد ہی عملی طور پر مسائل حل کرنے کے احکامات بھی صادر کئے۔ مجھے اس یونین کے سابقہ ممبر کی اپنے عوام کی بہتر اور مخلصانہ نمائندگی پر اپنے سیاسی حکمرانوں کا رویہ بھی یاد آیا۔خیال آیا کہ وہ یونین کا ایک ممبر جبکہ ہمارے قانون ساز اسمبلی کے ممبران مشیران اور وزراء سیاہ و سفید کے مالک بیوروکریسی انکی غلام ،وزیر اعلیٰ اور گورنر بھی ہمارا ملک کا وزیر اعظم بھی اپنا کوئی بھی انکی بات رد نہیں کر سکتا ہے مگر پھر بھی سیاسی طور پر ہم یتیم ہیں۔کوئی بھی ہماری آواز کو سننے والا نہی۔ جبکہ ان وزراء اور ممبران کی کامیابی کے لئے عوام جس محبت اور خلوص سے الیکشن میں اپنی جان و مال کی قربانی دیتے ہیں اور انکی کامیابی کے لئے کتنی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ اسی وجہ سے کل کو یہ وزراء اور ممبران عوام کی نمائندگی کریں، انکی بات اسمبلی تک پہنچے۔

مجھے افسوس ہوتا ہے کہ آج تک دیامر سے منتخب ہونے والے ممبران نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔ صرف ایک آنجہانی مشیر مرحوم حاجی عبدالقدوس، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اللہ انکی قبر کو نور سے بھر دے، انہوں نے ہمیشہ عوام کی حقوق کی بات کی اور عوام کی نمائندگی کا نہ صرف حق ادا کیا البتہ عوام کو سہولیات کا ایک بیش بہا اسٹرکچر بھی دیا اور ترقیاتی سکیموں کا جال بچھا دیا۔ مگر بد قسمتی سے وہ سکیمیں کام چور محکمے اور ٹھیکیداروں کی بھینٹ چڑھ گئے۔جو آج تک نامکمل اور وجود تک ختم ہونے جا رہا ہے۔

مرحوم حاجی عبدالقدوس نےعوام کو دئے گئے سکیموں کو بروقت مکمل نہ کرنے پر اپنے سیاسی سپورٹر کو بھی خیر باد کہ۔ا ہمیشہ عوام کے ساتھ نا انصافی کرنے والوں کے خلاف ہر فورم پر برستے رہےمگر کہتے ہیں اچھے لوگوں کو اللہ میاں اپنے پاس جلد بلاتے ہیں۔ یہی ہوا قدرت نے نہ صرف حاجی عبدالقدوس کو اپنے پاس بلا لیا بلکہ دیامر کے عوام کو ہمیشہ کے لئے یتیم بھی کر دیا۔ حاجی عبدالقدوس کی خدمات اور عوام کے لئے کئے گئے اقدامات کو گننا شروع کر دوں تو قلم کی سیاہی اور قرطاس ختم ہو جائیں۔ مرحوم حاجی عبدالقدوس کی الیکشن کمپین کے دوران کی گئی ایک تقریر کا جملہ ضرور دہراونگا کہ اسمبلی میں عوام کے لئے نوزشریف نے نہیں لڑنا ہے،بینیظیر بھٹو اور دیگر نے نہیں لڑنا ہے۔ دیامر کے لئے صرف حاجی عبدالقدوس نے لڑنا ہے۔ خیرمیری تحریر کا مقصد حاجی عبدالقدوس کی تعریف نہیں البتہ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے۔ کسی اور تحریر میں حاجی عبدالقدوس مرحوم کے احسانات اور اقدامات کا ذکر ضرور کرونگا تاکہ مغرور اور متکبر حکمرانوں کو شرم آئے۔

ضلع دیامر جغرافیائی لحاظ اور اس وقت میگا پراجیکٹ دیامر بھاشہ ڈیم اور اکنامک زون کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کی سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہےے۔007 میں باب چلاس سے ریسٹ ہاوس تک تین کلومیٹر سڑک کی کشادگی اور میٹلنگ منصوبے پر کام کا آغاز ہوا۔یہی منصوبے کی منظوری بھی مرحوم حاجی عبدالقدوس نے اپنے مشیری کے دور میں اس وقت کے وزیر اعظم اور امور کشمیر کو دورہ دیامر کے موقع پر لی تھی۔ تاحال سڑک کا تعمیراتی کام مکمل تو درکنار کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اور سڑک پر نالوں کا گندا پانی راہ گیروں کے لئے وبال جان سے کم نہیں۔ اب تو سردی سے پانی میں ککر بھی جمنے لگی ہے جس سے حادثات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ کئی سال قبل اس سڑک سے متعلق عوام کی آواز کو الیکٹرانک میڈیا میں اجاگر کیا تو متعلقہ ادارے اور ٹھیکیدار کے چاہنے والوں کی طرف سے گلے شکوے بھی سننا پڑای۔ ہماری بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی سیاسی لیڈر یا پارٹی سے وابستگی انتہاء کی حد تک رکھتے ہیں۔ اس لیڈر یا پارٹی کے کردار اور اقدام کو حرف آخر اور درست حق سچ سمجھتے ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود اور علاقے کی تعمیر و ترقی کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی حق کی صدا بلند کرنے سے پہلے تمام مسائل، گلے شکوے انجام سہنے کے لئے خود کو تیار رکھنا پڑتا ہے۔007سے تاحال اس سڑک کی ایک پٹی نصف کلومیٹر پختہ کی جاتی ہے پھر سالہا سال کوئی کام نہیں کیا جاتا۔ محکمے کی اس مجرمانہ غفلت کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

اب اس تین کلومیٹر سڑک سے نکل کر مین بازار شاہراہ قائد اعظم کی جانب بڑھتے ہیں۔ مجھے لکھتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی ہے کہ اس سڑک پر روزانہ محترم جج صاحبان،محترم ڈپٹی کمشنر صاحب ،محترم ایس پی صاحب،عسکری حکام اور بذات خود محکمہ تعمیرات عامہ کے آفیسران گزرتے ہیں۔گزشتہ الیکشن میں تو تحریک انصاف کے قائد عمران خان صاحب بھی اس سڑک پر سے گزر کر جلسہ گاہ آئے اور وزیر خوراک صاحب ،وزیر جنگلات صاحب کا بھی اسی سڑک پر آنا جانا رہتا ہے۔خود موجودہ وزیر اعلیٰ صاحب نے بھی جب الیکشن کمپین میں چلاس آئے اسی سڑک پر سفر کیا۔ چلاس شہر کا دل جسے سمجھا جاتا ہے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہی۔سڑکوں کی خستہ حالی سے ٹرانسپورٹرز کو ہونیوالے نقصان کے علاوہ ٹریفک مسائل روزانہ ٹریفک جام لڑائی جھگڑے بھی معمول بنے ہوئے ہیں۔ سڑکوں میں بڑے کھنڈرات ایک فٹ کی جگہ صیح سالم نہیں ہے۔

اس سے ذرا اور آگے بڑھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چوک کی جانب آتے ہیں۔ اللہ خیر یہاں تو چلاس کی سڑک نہیں بلکہ افغانستان میں امریکن بی باون بمبار طیاروں کی کلسٹر بموں کی بمباری لگتی ہے۔ سڑک کے کھڈے اور اس پر مزید ظلم یہ کہ بارش، نا لوں اور نلکوں کےپانی ڈپٹی کمشنر آفس چوک میں جمع ہو کر تالاب کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ گاڑیاں گزرتے ہی پانی کی چھینٹیں شہریوں پر ،پیدل چلنا بھی ناگوار ہو چکاہے۔ چلاس شہر میں سڑک کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جو صیح اور سالم ہو۔سالوں سال سےسڑک کی مرمت نہیں ہو سکی ہے۔اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ حکمرانوں کی جانب
سے سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ کہیں بھی عوامی فلاح و بہبود اور فائدے کے منصوبے پر عملی کام نظر نہیں آرہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید آئندہ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔