متنازعہ انتخابات ۔۔۔!

زندگی ایک عجیب معمہ ہے۔ یہاں ہر وہ شے مفت میں مل جاتی ہے جو ہماری انتخاب نہیں ہوتی اور ہمارا ہر انتخاب متنازعہ ہوتاہے۔گویا ہر دو شے میں کسی ایک کا انتخاب صرف “دکانوں”کی حد تک ہی بھلا رہتا ہے۔ وگرنہ مروت کے دھنی لوگوں کو تو انتخاب کی نسبت جامع اپنائیت میں ہی خیر نظر آتے ہیں۔ انتخابات ہمیشہ منتخب کنندہ اور انتخاب شدہ کو امتحان میں ڈال دیتا ہے۔ انتخاب کے کئی اصول ہوتے ہیں۔تاہم انسانوں کے انتخاب میں رائے دہندگان کی مثبت یا منفی سوچ کسی مفید یا ضرررساں شخص کی وجہ انتخاب ہوسکتی ہے۔ انتخاب کا اصل مطلب یہ ہے کہ جہاں دو یادو سے زیادہ قابل انتخاب افراد موجود ہوں تو وہاں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب ان دونوں کے باہم موازنے کا موجب بن سکتا ہے اور اسی موازنے کے نتیجے میں رائے دہندگان کی ترجیحات سے مطابقت کی شرح اس فرد کے منتخب ہونے یا مسترد ہونے کا سبب بنتی ہے۔یہ اصولی طریقہ انتخاب تب کارگر اور کارفرما ثابت ہوسکتا ہے جب رائے دہندگان کی ترجیحات زیرانتخاب لوگوں پر اثر و نفوز قائم کرے ۔ یعنی زیر انتخاب افراد کو صرف اور صرف رائے دہندگان کی ترجیحات کے مطابق ان کے مقصد انتخاب کے حصول میں اپنی صلاحیتوں سے موافقت ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ رائے دہندگان انہیں کئی ایک آزمائش و امتحان سے گزارے۔ ان امتحانات میں کامیابی کی شرح رائے دہندگان کی طرف سے ان کی اجتماعی حمایت یا مخالفت کی وجہ بن سکتی ہے۔رائے دہی یا ہمہ پرسی کے ایسے طریقہ کار غیر متنازعہ اور تسل بخش نتائج دے سکتے ہیں جن کو بالاتفاق رائے دہندگان قبول کرسکتے ہیں اور یہاں کسی مشکوک یا مبہم شخص کے چناو کا خدشہ سرے سے ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ان اصولوں کے برعکس جب زیر انتخاب افراد خود رائے دہندگان پر اثرونفوز قائم کرتے ہیں تو رائے دہندگان مجبوری، مروت اور بے اعتناعی کے مارے ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ایسے میں رائے دہندگان اپنے زیر انتخاب افرا دکو کسی امتحان میں ڈالنے کی بجائے خود ایک بیجا کشمکش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے زیرانتخاب افراد اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لئے رائے دہندگان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح وہ دین ، ایمان، علاقہ، رنگ ، نسل ، دولت اور خاندان کے بل بوتے پر لوگوں کو اپنا گرویدہ و محکوم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افرا د جبکہ رائے دہندگان پر مکمل حاوی ہوتے ہیں اس لئے وہ فیصلے پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں اس حقیقت سے صرف نظر کہ وہ کس حد تک رائے دہندگان کی حمایت کے حامل ہیں، وہ خود کل رائے دہندگان کا نمائندہ ہونے کا دعویدار بنتا ہے۔ چونکہ رائے دہندگان پر وہ خود حاوی ہوتے ہیں اور خاص کر وہ لوگ جو اس کے حریف ہیں وہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ معاملہ یہاں تک نہیں رہتا بلکہ رائے دہندگان کی طرف سے رائے دہی کے مقاصد اور ترجیحات طے ہونے کے بجائے زیر انتخاب افراد خود اپنے مقاصد لے کر میدان میں آتے ہیں۔ چونکہ وہ مقاصد ٹیلر میڈ یا جامع طورپرترجیحی نہیں ہوتے، یا پھر ان کی بناوٹ یا ترتیب میں عوام کی براہ راست شمولیت نہیں ہوتی اس لئے منتخب ہونے کے بعد وہ مقاصد نہ صرف ناقابل عمل رہ جاتے ہیں حتیٰ کہ ان کا حصول بھی کسی طور مقامی ضرورتوں کا مداوا نہیں کرسکتے۔ یوں رائے دہندگان بیزار اور منتخب شدہ فرد بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے میں منتخب شدہ فرد اپنی نااہلی کو رائے دہندگان کی بے وفائی یا پھر بے مروتی سے تعبیر کرکے انہیں خوب کوستے ہیں۔ایک بار ناکامی کا منہ تکنے کے بعد عموما ایسے لوگ اپنے اثرورسوخ کوبرقرار رکھنے کے لئے معاشرے کے سرکردہ و بااثر افراد کو رام کرنے کی کوششیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک تمام رائے دہندگان کی بھاگ دوڑ انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ انہیں رام کرنے کے لئے اب ان کی خواہشات، ترجیحات اور پسندوناپسند ہی زیرانتخاب افراد کا مطمع نظر بن جاتی ہے۔ یہی کمزوری معاشرے میں تقسیم برائے حکمرانی کاسبب بنتی ہے۔ پھر انہی بااثر افراد میں سے دو چند اپنے بڑے مقاصد کے ساتھ ساتھ دوچند عمومی اور معمولی قسم کے مقاصد بھی پیش کرتے ہیں جس کا مقصد خود کو رائے دہندگان اور زیر انتخاب افراد کے درمیان محفوظ مقام دلانا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسے زیر انتخاب افراد قابل انتخاب یا پھر ایلکٹ ایبلز بن کر ابھرتے ہیں جن کے خلاف رائے دہی کا اکثریتی فیصلہ آنا عین ناممکن بن جاتا ہے۔ گویا جب ایسے افراد جو عوامی مقاصد، عوامی رائے اور عوامی اثرورسوخ سے منتخب نہیں ہوتے اس لئے اپنی رائے دیتے ہوئے بھی وہ اس کی خوب قیمت متعین کرتا ہے۔ یا پھر اپنی رائے کے آگے وہ کوئی بہت بڑا عہدہ، بڑی پیشکش یا پھر اپنا کوئی من پسند شرط رکھ لیتا ہے جسے دوسرے چاروناچار منظور کرلیتے ہیں۔شکست خوردہ عوام باربارکے دباو اور اپنی رائے کی مائیگی سے تنگ آکر رائے کی اہمیت سے بیزار ہوجاتی ہیں۔ ایسے قابل انتخاب افراد کو وہی حلقے مضبوط امیدوار کے نام سے پکارنے لگ جاتے ہیں جوکہ خود اقلیتی حلقوں یا اختلاف رائے رکھنے والوں پر گہرا اثر ثبت کرتا ہے۔ یوں ایسے افراد خود کو مطلق العنان سمجھنے لگ جاتے ہیں اور ان کی نظر میں کسی کی رائے کی اہمیت نہیں رہتی بلکہ اپنی ہارجیت کو ان کی عزت و حشمت سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسری طرف اپنی رائے نہ بدلنے کی روایت کو باضمیری سے تعبیر کرکے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیدو محکوم بنایا جاتا ہے۔ یعنی رائے دہندگان کو اپنی مرضی کی ترجیحات کی بجائے زیرانتخاب افراد کی من پسندترجیحات اور یک طرفہ فیصلہ جات کو ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان سے انکار پر انہیں بے ضمیری کا کلنگ لگایا جاتاہے۔ یوں وہ حقیقی نظریے اورترجیحات کی بجائے روایتی طریق رائے دہی پر کاربند ہوکر ایک مخصوص ٹولے کا “سرگرم کارکن”بن جاتا ہے جس خول سے نکلنا اس کے لئے سماجی دباؤ کے باعث محال ہوجاتا ہے۔ اس کا توڑ صرف اسی بات میں مضمر ہے کہ ایک حلقے کے مخصوص رائے دہندگان اپنی ترجیحات کا تعین خود کرے۔ ہر زیر انتخاب فرد یا باالفاظ دیگر امیدوار کو صرف اور صرف اپنی ریشہ دوانیوں، رشتہ وپیوند اور علیک وسلیک کی بنیاد پر مصلحتا قبول کرنے کی بجائے اسے آزمودہ اورحقیقی عوامی نمائندہ بنانے کے لئے عام عوام کے زیرنگین کردیاجائے۔ اس کے لئے عوامی سطح پر ہم آہنگی، خود اپنی رائے کی اہمیت سے آگاہی اور انفرادی مقاصد کی بجائے اجتماعی سوجھ بوجھ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی جماعت سے لگاو، حمایت یا شمولیت کو روایات سے ہٹ کر بامقصد بنایا جائے اور اگر اس جماعت میں آپ کی شمولیت یاآپ کی رائے سے کچھ فرق نہیں پڑتا تو اس پر باضمیر بن کر اکڑ جانا صریح ہٹ دھرمی سے سواکچھ نہیں اور ایسی جماعتوں سے منہ پھیرنا ہی اصل باضمیری ہے۔ سیاست میں فی زمانہ رائج جو لوٹا کریسی کا نظریہ ہے وہ اپنے اندر ایک سٹگما ہے جسے دورکرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں رائے دہی میں حمایت میں رائے دینا ایک ذمہ داری ہے ویسے ہی مخالفت میں رائے دینا، اختلاف کرنااور جماعت کو چھوڑنا بھی اگر مصلحت، تعصب، ذاتی مفاد کی بجائے با مقصد اور عوامی فلاح میں ہو تو کوئی بری بات نہیں۔ جماعتوں کی مضبوطی عوامی رائے کے احترام اور مکمل جمہوری بنیادوں پر قائم ہونے میں مضمر ہے۔ عقیدت، سماجی تعلق، خونی رشتہ داری یا علاقائیت تنظیم کی کامیابی نہیں بلکہ ناکامی اور کمزوری کی علامت ہے۔ جب انتخاب میں عوامی رائے زیر انتخاب فرد کی زیراثر وقوع پذیر ہوتو ایسے انتخابات بھی غیر جمہوری عمل ہے دوسری طرف عوامی رائے کی تبدیلی سے اپنی روایتی پوزیشن گنوانے والے افراد کو انتخابات پر ہونے والا شبہ دراصل وہ بے یقینی کی کیفیت ہے جو اپنے زیرنگین ، محکوم اور مقید عوام سے کبھی توقع نہیں کرسکتے تھے۔ ایسے میں تنازعہ رائے دہی کے عمل کے درست ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہی نہیں بلکہ وہ غیر متوقع نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جسے کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا۔متنازعہ رائے دہی کا شوشا چھوڑکر وہ شکست کے دھول اڑاتے ہیں جس میں ان کا مضطرب اور شکست خوردہ چہرہ واضح نہ ہوسکے۔ اس کے برعکس اگر اسے اس بات پر یقین ہے کہ جہاں عوام ان کی حمایت میں رائے دے سکتی ہے وہاں ان کی مخالفت بھی کرسکتی ہے تو یہ یقین اسے ایک جمہوری عمل پر اعتماد فراہم کرتی ہے جو نہ صرف اپنے حق میں آئی رائے کا احترا م ہے بلکہ اپنے مخالف امیدوار کا بھی احترام ہے اور آخرالذکر یہی جمہوریت کا احترام ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments