جذبہ امداد باہمی

جذبہ امداد باہمی

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دیدار علی شاہ

ایک کہاوت ہے کہ اتفاق میں برکت ہے یعنی مل جُل کر کام کرنے سے آسانیا ں پیدا ہوتی ہیں اوروقت بھی کم لگتا ہے۔ قدیم زمانے میں دیہی علاقوں میں یہ روایات زیادہ رہی کیونکہ اُس وقت لوگ اپنے رہن سہن اور خوراک پر زیادہ Didar Ali Shahترجیہی دیتے تھے۔۔ لوگ اجتماعی طور پر یہ مراحل اختتام کو پہنچاتے تھے۔ گلگت بلتستان میں اسی فلسفہ کو مزیدمضبوط بنانے کے لیئے 80ء کی دہائی میں اس پر توجہ دینا شروع ہوا تاکہ یہاں کے لوگوں میں اتفاق اتحاد کا جذبہ مزید مضبوط بنا کر ان کے وسائل کو استعمال کر کے ان کی میعار زندگی کو بلند کریں۔ اُس وقت کی یہ سوچ اور طریقہ کار یہاں پر کامیاب رہا اور لوگوں کی میعار زندگی میں کافی حد تک تبدیلی آئی، ایسی ہی ایک مثال تحصیل گوجال ضلع ہنزہ میں ہے۔

گوجال گلگت بلتستان کے شمال میں واقع ہے۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی پر ناز کرتا ہے اور اس کی سرزمین سے ہوتی ہوئی شاہراہ قراقرم (شاہراہ ریشم) پاکستان کو چین سے ملاتی ہے۔ گوجال رقبے کے لحاظ سے گلگت بلتستان کی سب سے بڑی تحصیل ہے جب 1970؁ء کی دہائی میں حکومت پاکستان نے چین کی مدد سے شاہراہ قراقرمKKHکی تعمیر کی تو یہاں کے لوگوں نے گورنمنٹ اور دوسرے فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیئے اور ترقی کی طرف رواں دوا ہونےکے لیئے محنت سے کام شروع کیا مگر اپنے مخصوص جغرافیائی اور دوسری خصوصیات کی وجہ سے اب بھی موضوع بحث ہیں۔ گوجال گلگت شہر سے 180کلو میٹر دور ہے جو کہ سال کے تقریباً دومہینے برف باری کی وجہ سے دوسرے علاقوں سے ذرائع آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں اور خاص کر جب 2010میں عطاآباد کی قدرتی جھیل بنی اسی وجہ سے آمدورفت ،سماجی و معاشی لحاظ سے خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔

اس علاقے کی آبادی تقریباً 27000 افراد پر مشتمل ہے ،80 کی دہائی سے پہلے یہاں کے لوگ چھوٹے پیمانے پر زراعت اور زیادہ تر مال مویشوں کے ساتھ منسلک تھے اور اسی طرح سے صحت،تعلیم،زراعت اور معاشی سہولیات کا فقدان رہا اور اسی مسائل کو دور کرنے کے لیئے اُس وقت گورنمنٹ کے ساتھ اے کے آر ایس پی اور دیگر فلاحی اداروں نے اس علاقوں میں ایک منظم حکمت عملی سے ان کی زندگی کو بہتر اور آسان بنانے کے لیئے کام شروع کی جو کہ دیہی و خواتین تنظیمات سے لے کر آج لوکل سپورٹ آرگنائزیشن کی شکل اختیار کی ہیں۔ چنانچہ اے کے آر ایس پی نے اپنے تمام اغراض و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس حکمت عملی کو عملی جامع پہنانے کے لئے ایک بنیادی طریقہ کارپیش کیا۔ کیونکہ یہ تمام مقاصد اس وقت پورا ہوسکتے تھے جب ایک اچھا فعال اور افراد کی اکثریت پر بنی تنظیم موجود ہوں۔پروگرام کا آغاز انہی طریقہ کار اور اغراض و مقاصد سے کیاگیا اور اب یہ پروگرام گلگت بلتستان اور چترال کے تمام اضلاع میں کامیابی کے ساتھ رائج ہے۔ بنیادی طورپر اس علاقے میں تبدیلوں کی اصل وجہ AKRSPنے 80کی دہائی میں یہاں پر اپنے کام کا آغاز کیا تھا جس میں گاوں کی سطح کی تنظیم، خواتین تنظیم، زراعت،صنفی اورہفتہ وار بچت کا طریقہ کار وضع کیا تھا۔ یہی تسلسل اثر انداز ہو کر اگر آج ہم گوجال میں یونین کونسل نمبر 2 کی بات کریں تو یہاں پر یہ ادارہ LSO ,گوجال رورل سپورٹ آرگنائزیشن (GRSO)کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ گوجال رورل سپورٹ آرگنائزیشن کلسٹر سطح کی ایک تنظیم ہے جس کی بنیاد 2007میں رکھی گئی اور 15گاوں پر مشتمل ہے جس کے اندر 40گاوں سطح کی دیہی تنظیم اور خواتین تنظیم موجود ہیں۔ یہ ادارہ پندرہ گاوں کی نمائندگی کرتے ہوئے23گھرانوں اور 7850افراد کو اپنا خدمات دیے رہا ہیں۔ گوجال چونکہ رقبے کے لحاظ سے گلگت بلتستان کی سب سے بڑی تحصیل ہے اور یہاں پر 2یونین کونسل ہے۔ GRSOگوجال میں صرف ایک کلسٹر یعنی ایک یونین کونسل نمبر کی سطح پر خبیر سے لے کر مسگر پر مشتمل ہیں۔ اس ادارے کا مقصد اس علاقے میں پہلے سے قائم کردہ VOs, WOs, CSo, کو مضبوط بنانااور دوسرے اداروں کے ساتھ ان کا Linkageبنانا،پائیدار ترقی کیلئے ایسے اندورنی اور بیرونی وسائل کو استعمال میں لانا،جنس صنفی کے پروگراموں کے ساتھ انسانی وسائل کی ترقی اورکیمونٹی کی اقتصادی اور پائیداری ترقی، اورمقامی کمیونیٹز کو معاشی، سماجی اور اخلاقی طورپر تیار کرنا،مقامی وسائل کا مقامی لوگوں کے ذریعے استعمال میں لانااور ہمارے پڑوس ملک چین کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شامل ہے۔

گوجال رورل سپورٹ آرگنائزیشن (GRSO) نے ابھی تک بہت سارے کامیابیاں حاصل کی ہیں جس میں تمام غیر فعال VOs, WOsکو دوبارہ فعال کردیا گیا،اپنے بورڈ ممبران کے لئے مختلف ٹریننگ کرائے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کرسکے ،یورپی کمیشن کی مدد سے 2007؁ میں خواتین کیلئے پولٹری ورکرز ٹریننگ کرائی،محکمہ زراعت حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کسانوں کیلئے جدید زراعت پر تربیت دی،تمامVO/WOsکے صدور اور منیجرز کے لئے مختلف کورسز کروائی،نوجوانوں کیلئے سیروتفریح اور کھیل کا اہتمام کیا۔ گلگت شہر میں لڑکیوں کیلئے ایک ہاسٹل کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا۔ مسگرگاوں میں موجود اسکول کے کلاس رومز کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا۔Agri Support Fund Projectکے ساتھ مل کر خواتین کا ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو میوہ جات کو خشک کرنے کیلئے کام کررہاہے۔ابھی تک 17اسکولوں میں 300سے زائد بچوں کیلئے ذہنی، جسمانی اور تکنیکی تربیت فراہم کررہا ہیں۔اس علاقے میں بیماری سے پاک آلو کے بیچ فراہم کئے گئی،خواتین تنظیم ممبران کیلئے مختلف سبزیوں کے بیچ فراہم کئے۔۔اس علاقے میں پہلا مائیکرو ہیلتھ انشورنس شروع کی۔۔ابھی تک غریب گھرانوں کو آمدن پیدا کرنے کیلئے اور ان کی صحت اور تعلیم کے مقاصد کیلئے 42خاندانوں کو قرضہ مہیا کیاگیا ہے۔

اس ادارے نے حال ہی میں چند خیر ملکی فلاحی اداروں کے مالی تعاون سے بھی کچھ اہم پروجیکٹس مکمل کی ہیں اور کچھ جاری ہیں جس میں مائکروہائیڈل پاور پروجیکٹ جو کہ گرچہ گوجال میں کامیابی کے ساتھ مکمل کی ۔ یہ پروجیکٹ یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے مکمل کی، جس سے 55گھرانوں کو فائدہ مل رہا ہیں۔ CARITASکے ساتھ مل کر تین مختلف جگہوں پر زمین کو سیراب کرنے کے لیئے کوہل کی مرمت اور نئی بھی تعمیر کی جس سے زراعت کے پیداوار پر مثبت فرق پڑا اور 487گھرانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہیں۔ اس ادارے نے مسگر گوجال میں Vocational Training Centreکا قیام عمل میں لایا جہاں پر دستکاری سے متعلق مختلف قسم کی اشیا تیار کی جاتی ہیں، جس کو مارکیٹ تک پہنچا کر آمدن کا ذریعہ بناتےہے۔ ابھی تک اس سنٹر سے چالیس گھرانوں نے فائدہ حاصل کی ہیں۔ اسی سال جاپان کے ایک ادارہ JICAکے ساتھ مل کر اس علاقے میں مختلف پھلوں کو تیار کر کے مارکیٹ تک پہنچانے کے حوالے سے تربیت دیا جس کا مقصد یہاں پر موجود مختلف پھلوں اور سبزیوں کو طریقہ کار کے تحت مارکیٹ تک پہنچا کر روزگار کا ذریعہ بنانا ہیں۔

اس ادارے کی کامیاب ترقیاتی کاموں میں کردار کے جانچ کو پانچ طریقوں سے دیکھا گیا ہیں۔ ان میں جمہوری انتظام، انتظامی صلاحیت، رضاکارانہ انتظامات،موثر طریقہ کار سے اثرانداز ہونااور کمیونٹی میں اس کے اثرات شامل ہیں۔اگر ہم اس ادارے کی جمہوری انتظام کی طریقہ کار کو دیکھے تو اس کی جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز ایک جمہوری طریقے سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنا مقررہ وقت پر تبدیل ہوتے۔ اور تمام ممبران کو ان کی ذمہ داری کا احساس ہیں،اس ادارے کے ساتھ منسلک تمام اداروں کا ریکارڈ بھی موجود ہیں۔ RSOنے نوجوان نسل کو مختلف سطح پر تربیت دیں کر تیار کی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی اس لیئے نوجوان طبقہ اس ادارے کی کارکردگی سے مطمین ہیں اور یہ ادارہ ایک سالہ منصوبہ بندی بنا کر اس کے مطابق کام کرتا ہیں جس سے ان کے کاموں میں تیزی آرہی ہیں۔ ادارے کے تمام حساب کتاب اور مالیاتی پلان جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مشاورت سے ترتیب دیتے ہیں اور ان کی تمام ریکارڈز موجود ہیں۔ اس ادارے نے ترقیاتی کام کو مزید بہتر اور دوسرے کاموں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیئے گورنمنٹ،پرائیویٹ اور ڈونرز کے ساتھ مضبوط تعلقات استوارکی ہیں اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیئے ایسے زرائحے اور وسائل کا بندوبست کیا ہیں کہ آنے ولے وقتوں میں ادارے کی خاص بات یہ ہیں کی اپنے Sustainabilityکو برقرار رکھنے کے لیئے وہاں پر موجود کاروباری زرائع،ڈونرزکے ساتھ روابط اور دوسرے فلاحی اداروںکے تعاون سے آنے والے وقتوں میں بھی اس ادارے کی وجود برقراررہیں۔ ادارے نے اپنے لیئے ذمین کا بندوبست کر کے آفس تعمیر کر رہا ہیں جو کہ تقریباً چھ کمروں پر مشتمل ہیں تاکہ آنے والے وقت میں ادارے کے انتظامات بہتر ہواور ساتھ ساتھ اس ادارے نے گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے ساتھ شجرکاری کے حوالے سے ایک معاہدہ کی ہیں جس میں آنے والے سال میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریںگے۔اسی طرح سے ایک بہتر اور منظم فلاحی ادارے کی خصوصیات یہی ہوتی ہیں کہ اس میں جمہوری انتظام ہو،انتظامی صلاحیت بہتر ہوں،رضاکارانہ خدمات موجود ہوں،ادارے کا ہر کام موثر طریقہ کار سے اثرانداز ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ ادارے کی کارکردگی کو مزید مظبوط بنانے کے لیئے خواتین اور معذور افراد کو بھی ادارے کی انتظام میں شامل کی جائے اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کے لیئے قرضہ اسکیم متعارف کرنی چاہیے اور نئی طریقوں پر کام ضروری ہیں۔ ساتھ ساتھ ادارے کے مسائل کو حل کرنے کے لیئے ایک پالیسی کی بھی ضرورت ہےتاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments