سکردو انتظامیہ کا شگر اور دیگر علاقوں سے آنے والے مسافر گاڑیوں کو سکردو شہر سے باہر روکنا غلط پالیسی ہے

سکردو انتظامیہ کا شگر اور دیگر علاقوں سے آنے والے مسافر گاڑیوں کو سکردو شہر سے باہر روکنا غلط پالیسی ہے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری) سکردو انتظامیہ کا شگر اور دیگر علاقوں سے آنے والے مسافر گاڑیوں کو سکردو شہر سے باہر روکنا اور مسافروں کو ٹیکسیوں کے ذریعے شہر میں داخل ہونے دینا ٹیکسی مالکان کو نوازنے اور لوگوں کو تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ سکردو انتظامیہ کی اس اقدام سے مسافروں خصوصا خواتین و بچوں اور مریضوں کو سخت مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ٹیکسی ڈرائیور حضرات مسافروں کو لوٹنے میں مصروف عمل ہے۔ شگر سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد اور ڈرائیوروں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سکردو انتظامیہ کی جانب سے شگر اور دیگر علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو سکردو شہر میں د اخلے سے روکنے کی عمل انتہائی غلط اور ٹیکسی مالکان کو نوازنے اور لوگوں کو تنگ کرنے کی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔ا

نتظامیہ کی اس اقدام کی وجہ سے مسافروں خصوصا خواتین و بچوں اور مریضوں کو سخت مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا رہا ہے۔جبکہ ٹیکسی ڈرائیور حضرات مسافروں کو لوٹنے میں مصروف عمل ہے ۔شگر سے پچاس روپے میں سکردو پہنچنے کے بعد ٹیکسی والے تین سو روپے لیکر سکردو شہر پہنچا دیتا ہے۔جبکہ مریضوں کو بار بار گاڑیاں تبدیل کرنے پر مزید طبیعت بگڑ جاتے ہیں۔ شام کے وقت واپسی پر مسافر گاڑیاں خالی لوٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ مسافر شہر سے ٹیکسی لیکر اڈے پر آنے کے بجائے چھوٹی گاڑیوں میں سیدھا واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔جس سے مسافر گاڑی مالکان کی معاشی قتل ہورہا ہے۔لوگوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ مسافر گاڑیوں کو روکنے کے بجائے ایک طریقہ کار وضع کرکے شہر میں چھوڑا جائیں تاکہ مسافروں کو تکالیف سے بچایا جاسکیں ورنہ عوام سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔