ہمارے عوام اور حکمران

ہمارے عوام اور حکمران

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Sher Ali Anjum کہتے ہیں کہ جمہوری نظام میں عوام اور ان کے منتخب کردہ حکمران ریاست کا اہم ترین جزو سمجھے جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ رہنما اور جیالے، حکمران اور جمہور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ایک مضبوط حکومت کی تشکیل اور دنیا میں اثر و رسوخ رکھنے کے لیے صرف ایک زمین کا ٹکرا نہیں بلکہ ایک باشعور، سیاسی طور پر متحرک اور متحد عوام بھی چاہیئے۔ عوام جس قدر تعلیم یافتہ، باشعور اور سیاسی طور پریک سمت ہو گی معاشرہ بھی اتنا ہی مضبوط تصور کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایسے پختہ طرز معاشرت کے حصول میں تعلیم اور صحت مند ماحول دو اہم اکائیاں ہیں۔ تعلیم انسان کے اندر مثبت شعور اجاگر کرنے کے لیے انسان کے دل و دماغ کو سورج کی طرح روشن کر دیتی ہے اور اچھائی برائی، جھوٹ سچ، کھوٹے کھرے کی پہچان جیسی صفات پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشرے میں ان عوامل کے درمیان فرق ختم ہو جائے تو معاشرہ اَن گنت بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جس سے معاشرہ نڈھال، لاغر اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ آج اگر ہم گلگت بلتستان کے عوام اور حکمرانوں کے مابین رشتے کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے عوام نے خود کو حکمرانوں کے حوالے کردیا ہے اور ہماری حیثیت اْن کے بھیڑ بکریوں کی طرح ہے جنہیں جہاں چاہے ہانک دیا جائے۔ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے مفادات پر قربان کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی عقل ہمیشہ سے اسے غلامی سے آزادی کی راہ دکھاتی رہی ہے لیکن ہماری مجال جو ہم اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کی مفاد پرستی کو سمجھیں حد تو یہ ہے کہ ہم ان حکمرانوں کو عقل کْل سمجھ لیتے ہیں اور ان کے کہے سے اختلاف کرنا خودپر حرام خیال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب بھی ایسے کسی موضوع پر بحث ہوتی ہے تویہی جواب ملتا ہے کہ ہمیں حکومت اور سیاست سے کیا لینا ہے دو وقت کی روٹی کما لیں کافی ہے۔ ہم لوگ یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ دو وقت کی روٹی عزت سے کمانی ہے یا ذلت سے، اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا ہے یا انہیں مزید ذلت سے روشناس کرانا ہے؟ ہم بدقسمتی سے آزاد ہوتے ہوئے بھی اپنے حقوق اور آزادیوں سے ناواقف ہیں۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کب تک ڈھول کی تھاپ پر نااہل حکمرانوں کی رضا کے لیے ناچ ناچ کر زندہ باد مردہ باد کے نعرہ لگاتے رہیں گے اور کب تک غاصبوں، ظالموں اور راشیوں کو رہنما مانتے رہیں گے؟ کوئی بتائے کہ ہمارے نام نہادحکمرانوں نے آج تک گلگت بلتستان کے عوام کو سوائے نعروں کے کیا دیا ہے؟ ہم اگر مہذب معاشروں کے رہنماوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لیڈر حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ فلاحی کام کے ذریعے عوامی ردعمل اور نفرت سے خود کو بچا کر رکھیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی ایسا تصور ہی نہیں۔ جس طرح لیڈران ربڑ کا چہرہ رکھتے ہیں بالکل اسی طرح عوام بھی آنکھ بند کیے ہوئے ہے۔ ایک شخص ہر بار عوام سے جھوٹ بول کر ووٹ لے کر چلتا بنتا ہے اور عوام ہر بار اْن کے دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتے ہیں، غلاموں کا کاروبار اور بغاوتیں، انسانوں سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک اور انسانوں کی مسیحائی، نوآبادیاتی دور اور قومی ریاستوں کی تشکیل سے لے کر آج تک انسان نے مساوات اور انسانی آزادی کو یقینی بنایا ہے۔

گزشتہ صدی سیاسی آزادی کی صدی تھی جب تمام قوموں کو سیاسی آزادی اور شناخت دینے کا حق دیا گیا۔ لیکن گلگت بلتستان کے عوام تاحال اپنے اس حق سے محروم ہیں۔ موجودہ حالات میں ہمیں ہرطرف بد امنی، بے چینی، مایوسی اورغیر یقینی کی صورتحال کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ہر کسی کے لب پر شکایت ہے کہ ہمارے حکمران اپنی آنکھیں بندکیے ہوئے ہیں ان کو نہ تو عوام کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں نہ ہی ظلم اور ذیادتی کی انتہاء دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں نہ تو مہنگائی کی چکی میں پسنے والے غریبوں کی خستہ حالی کا خیال آتا ہے اور نہ ہی بے روزگاری، بیماری اور بھوک سے نڈھا ل عوام کی حالت پر ترس آتاہے۔ یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ان حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک کس نے پہنچایا؟ انہیں اپنے ووٹ سے منتخب کس نے کیا؟ کیا اس سے پہلے عوام ان لوگوں کو نہیں جانتے تھے؟ ان سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کہ عوام سب جانتے تھے اس کے باوجود انہوں نے ان کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ لہٰذا جب تک عوام اپنے اندر شعور پیدا نہیں کرتے معاشرتی ترقی، سیاسی شناخت اور اقتدار میں جمہوری شراکت داری کے بارے میں سوچنا بھی فضول ہے کیونکہ جن لوگوں کو عوام ووٹ دے کر ایوان اقتدار میں پہنچاتے ہیں وہ عوام کی خدمت کے لیے منتخب ہوتے ہیں لیکن عوامی فلاح ان کا مقصد نہیں ہوتا۔ اقتدار کے ان ایوانوں میں عوام کے حق میں فیصلے کرنے کی بجائے عوام کا گلہ دبانے کے لیے نت نئے طریقے دھونڈے جاتے ہیں، حکمران اپنی مراعات کے لیے گھنٹوں بحث کرتے ہیں مگر غربت میں کمی، شرح تعلیم میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی دستیابی جیسے موضوعات نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی اور معاشی حقوق کی بجائے ہر برس وفاقی بجٹ میں مختص محدود حصے پر ٹرخا دیا جاتا ہے اور اس رقم سے بھی عوامی فلاح کے منصوبوں کی بجائے حکمران کوٹھیاں بناتے ہیں۔ اور غریب عوام کو اْس وقت کا انتظار ہے جب کوئی مسیحا آ کر ان کے دکھ درد سنے اور مداوا کرے۔ کسی مسیحا کے انتظار کی بجائے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنی مسیحائی خود کرنی ہے، اختیار اور وسائل میں اپنا حصہ حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی ہے اور اپنا استحصال کرنے والوں سے نجات پانی ہے۔ معاشرے سے استحصال کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ عوام خود کو بے بس اور بے اختیار سمجھنے کی بجائے اپنی طاقت کا ادراک کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔