ہنزہ: سانحہ عطا آباد کو چھ سال مکمل، متاثرین بے یار مدد گار عارضی شیلٹرز میں مقیم ، میاں محمد نواز شریف کا 2010 میں اعلان کردہ 10کروڑ اب تک جاری نہ ہو سکا

ہنزہ: سانحہ عطا آباد کو چھ سال مکمل، متاثرین بے یار مدد گار عارضی شیلٹرز میں مقیم ، میاں محمد نواز شریف کا 2010 میں اعلان کردہ 10کروڑ اب تک جاری نہ ہو سکا

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) سانحہ عطاآباد کو پانچ سال مکمل ہو گیا مگر متاثرین عطاآباد کے مسائل حل نہ ہوپا ئے۔4جنوری 2010ء عطاآباد میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سانحہ میں 19جانوں کا ضیاع جبکہ تقریباً 28کلومیٹر شاہراہ قراقرم اس کے زد میں آکر عطاآباد جھیل وجود میں آگئی۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے چین کے تعاون سے شاہراہ قراقرم کے متبادل 7کلومیٹرٹنل بنا کر گزشتہ سال اکتوبر میں شاہراہ قراقرم جو کہ پاک چین تجارت کا واحدزمینی راستہ ہے واہ گزار کر دی ہیں ۔ سانحہ عطاآباد نے457خاندانوں کو بے گھر کر دیا تھا جو کہ پانچ سال مکمل ہو گیا مگر حکومت کی جانب سے اب بھی وہ بے یار مدد گار عارضی شیلٹرز میں مقیم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں 457خاندانوں کے لئے ایک خصوصٰی پیکج گرانٹ 6لاکھ کا اعلان کیا تھا اور دوسالوں کے اندر متاثرین عطاآباد کو وہ رقم ملی تھی تاہم متاثرین کو ہونے والی نقصان اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بھی متاثرین کے داد رسی کے لئے 2010میں خصوصی طور پر ہنزہ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کا چیک تقیسم کیا جبکہ دیگر متاثرین کے آبادی کاری کے لئے 10کروڑ روپے کا اعلان کیا مگر میاں محمد نواز شریف جو کہ 3سال قبل پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے مگر ان کے وعدے وفا نہیں ہوئے ۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے حکومت نے بھی متاثرین کے آبادی کاری کے لئے مختلف دلاسے اوروعدے کئے مگر ان کی حکومت کے خاتمہ ہونے کے بعد متاثرین کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے حکومت خصوصاً میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان سے متاثرین عطاآباد نے درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کے آباد کاری کے لئے اعلان کردہ 10کروڑ روپے کے علاوہ متا ثرین کی مکمل بحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں جائے تاکہ عارضی شلیٹرز سے متاثرین کو نجات ملے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔