چترالی صحافیوں نے ٹیکسلا میں قائم ہائیڈرو لنک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کا دورہ کیا

چترالی صحافیوں نے ٹیکسلا میں قائم ہائیڈرو لنک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کا دورہ کیا

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد(بشیر حسین آزاد)ٹیکسلاانڈسٹریل زون میں انجینئر فضل ربی کا قائم کردہ ہائڈرولنک نے ترقی کا ایک اور زینہ طے کرلیا اور چھوٹے پن بجلی گھروں کے لئےٹربائن اور دوسرے متعلقہ سازوسامان کے ساتھ اب ٹرانسفارمروں کی تیاری کاکام بھی شروع کردی ہے۔جبکہ ٹیکنالوجی میں جدت لاکرمینوفیکچرنگ کو اپ گریڈ کرنے کی وجہ سے 200کلوواٹ کیپیسٹی کو بڑہا کرایک میگاواٹ تک کیا جارہا ہے۔

ہائڈرو لینک ٹیکسلاکے دورے پر آئے ہوئے چترال کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہائڈرو لنک کے چیف ایگزیکٹیو فضل ربی انجینئر نے کہا کہ ہائڈرولنک چترال،شمالی علاقہ جات اور ملاکنڈ ڈویژن سمیت ہزارہ میں ہائڈرو پاؤر کو مستحکم بنیادوں پر ترقی دینے میں مصروف ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ ہائڈرو لنک ملک کے مختلف انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور انڈسٹریزکو قریب تر لانے اورپسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کوپن بجلی گھروں کی اپریشن اور مینٹینس کی تربیت فراہم کررہی ہیں۔اُنہوں نے کہاہائڈرولنک نے خیبر پختونخواہ پراجیکٹ کے تحت ایبٹ آباد اور بٹگرام کے اضلاع میں اب تک 3مقامات پر پن بجلی گھروں کی تعمیرمیں مصروف ہیں۔

بعد ازان ہائڈرولنک کی توسعی منصوبہ ٹرانسفارمرمینوفیکچرنگ یونٹ کی افتتاحی تقریب ہوئی جسمیں چترال پریس کلب کےصدر ظہیر الدین نے اینٹ رکھکر کام کا آغاز کردیا۔اُنہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فضل ربی انجینئر چترال کے نوجوان طبقہ کے لئے رول ماڈل ہے جس نے اپنی محنت اور لگن سے ثابت کردیا کہ سرکاری ملازمتوں میں کے لئے سرگردان رہنے کی بجائے خود روزگاری کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی روزگار سنبھال سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی روزگارکے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ فضل ربی انجینئر نے یہ بھی ثابت کردیا کی کہ چترال کے نوجوان پسماندہ نہیں بلکہ وہ ہائڈرولنک جیسے قومی سطح کے معروف ادارے بھی قائم کرسکتے ہیں۔اس موقع پرہائڈرولنک کے دیگر زمہ داران فضل خالق اور دیار خان بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔