گانچھے، پاکستان کا ایک ایسا ضلع جس میں پورے سال کے دوران 13 ٹریفک حادثات ملا کر صرف 24 ایف آئی آر درج ہوے

گانچھے(اے ۔آر۔ رینگ چن )گلگت بلتستان میں واقع ضلع گانچھے میں سال 2015 کے دوران قتل ،اقدام قتل ، چوری ، اور زنا کا کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہوا، اور نہ ہی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا۔ پورے ضلعے میں سال 2015 کے دوران صرف 24 ایف آئی آر درج ہوئے، جن میں انسداد دہشت گردی کا ایک ، بلوہ کے پانچ ، مہلک ٹریفک حادثات کے تین ، غیر مہلک حادثات کے دس ، اغواہ کا ایک ،منشیات فروشی کے تین اور ایک دیگرآیف آئی شامل ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ان 24 ایف آئی آرز میں سے دو خارج ہوئے جبکہ 22 ایف آئی آر کے چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیاگیا ۔ عدالت میں آٹھ مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ سات مقدمات میں فریقین میں صلح ہوگئی،اور پانچ ملزمان کو بری کردیا گیا۔ دو کیسزمیں مجرموں کو سزا ہوئی۔

ضلع میں سال 2014 میں کل 30 ، سال 2013 میں بھی تقریبا اتنے ہیں جبکہ سال 2012 اور سال 2011 میں بالترتیب 25،25 ایف آئی آر درج ہوئے تھے۔ضلع میں قتل ،اقدام قتل ، چوری ، اور زنا کے کوئی بھی ورادات نہ ہونے میں ضلع کے عوام ، علماء ، عمائدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ضلعی انتظامیہ کا اہم کردار ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments