ا دب نامہ 

ا دب نامہ 

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

علی فرزاد شگری

پو رے ا رد و ادب کو موضوع سخن بنا نا میری منشاء ہے، نہ اس وسیع وعریض موضوع کے تقاضے پورے کرنا میری قبضہ قدرت میں ہے ۔ اس وقت میرا مقصد بلتی اور اردو ادب کے ان گم نام پہلو وں کو اجاگر کرنے کی ایک معمو لی کوشش کرنی ہے ۔جن پہلووں پر مقامی اور ملکی لکھاریوں نے جزوی اور کلی طور پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔اس تکرار سے شاید آپ بوریت محسوس کرے،اس بوریت کا مجھے احساس اگرچہ ہے،کچھ ہونا نہ ہونے سے بہر ہال بہترہے۔کیا کر وں امتداد زمانہ اور مدو جزر معا شرت انسانی نے ایسا ماحول اور موقع فرا ہم کیا۔ اس مو قع سے فایدہ اٹھا نا بھی ضروری تھا۔ہمارا معا شرہ ایک ایسا معاشرہ ہے،جسمیں ہر طرف تجاوزات کی بھر مار ہیں۔ معاشرے کا ہر طبقہ ہر گروہ یا تو شعوری طور پر یا لا شعوری طور پر تجاوزات سے منسلک ہے۔اور یہ رشتہ روز افزوں مظبوط سے مظبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ہم اس لعنت کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہم تجاوزات سے ہاتھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ظاہر ہے جب تجاوزات بھی اپنی مقررہ حد سے گزر جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کیے ایسے نیے اور خطرناک تجاوزات جنم لینے لگتے ہیں، چنانچہ میری اس قلمی کاوش کو بھی آپ انہی تجاوزات کی ایک نیےء پیداوار یاعالی قدر ادیبوں کی شان بے نیازی میں ایک بڑی جسارت سمجھیں۔

سماج میں موجود دیمک جیسے ان تجاوزات سے چھٹکارا حاصل کرنا یا اس ہدف کے حصول کیلیے سنجیدہ اقدامات کرنا اہل سماج کا حق ہے۔چنانچہ ان تجاوزات کے سدباب کیلے دنیا کے کونے کونے میں شعبہ ہاے انسانی اپنی اپنی حدود کے دایرے میں سرگرم عمل ضرور ہیں،لیکن کماحقہ اپنے مقصد کے حصول میں ان اداروں کو انتہایےء مشکلات درپیش ہورہی ہے۔لیکن زبان وادب سے مربوط افراد اس معاملے میں نسبتا مطمئن دکھایء دیتے ہیں۔کیونکہ مذکورہ تجاوزات کے خلاف اہل ادب کے اقدامات علمی وساینسی وفکری بنیاد پر استوارہے۔ بشمول اس مسلے کے دوسرے تمام مسایل کے حل کیلے اہل ادب کی تجویز کردہ متفقہ راہ حل یہ ہے، کہ افراد معاشرہ علمی وفکری لحاظ سے مستطیع ہوں،محض علمی اعتبار سے بہرہ مند ہونا بھی نہ صرف نا کافی ہے ایک لحاظ سے یہ لمحہ فکر یہ بھی ہے،ماہر ین عمرا نیات کے بقول ہر لحاظ سے ایک خالص معاشرے کی تشکیل صرف تحصیل علم سے ممکن نہیں جب تک افراد معاشرہ فکری طور پر بھی تر بیت یافتہ نہ ہوں۔چنانچہ اہل زبان ادب نے نہ فقط متمدن تہذیبوں کو صفحہ ہستی کی نوید سنایے بلکہ ان کی زلف گرہ گیر کی علمی فکری بنیاد آرایش و زیبایش میں بھی کویے کسر نہیں چھوڑی۔

اہل ادب نے جہاں دنیا کی تہذیبوں کی خوب پرورش کی بندو بست کی وہاں خود زبان و ادب کے اندر بھی کافی وسعت پیدا کی ہے۔زبان وادب کوپہلی فرصت میں نظم وثر جیسی دو خوب صورت ھیتیں عطا کی،پھردو سری فرصت میں نظم و نثر کو بھی مزید مو زون سے موزون تر موضو عات میں تقسیم کی گیں۔ تاکہ تہذیبوں اور اس کے باشندوں کے خدوخال اور طرز بودوباش،افکارو نظریات عقایدورسومات کے عروج و زوال کی داستانوں کو ضبط تحریر میں لا نے آسانی پیدا ہو۔

ادب نے ان ہیتوں اور موضوعات کی مدد سے دنیا کی تہزیبوں کی از سر نو خوب تربیت کی۔صنف نظم ونثر دونوں محراب ادب کے ایسا توانا بے بدل خطیب ہیں ، جس کے ذریعے ادب باشندگان تہذیب سے مخا طب ہے۔ یہ ونوں خطیب تہذیبوں کے اندر گھل مل کر اپنے فرایض منصبی بہ طریق احسن نبھا نے کی صلا حیتوں سے سر شار ہیں۔

اردو میں نثری قصوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ،یہ قصے صرف غیر معمولی ،خیا لی ،اور مافوق الفطرت واقعات پر مبنی نہیں ہیں،بلکہ ان واقعات میں اہل ادب نے بڑی مہارت اور باریک بینی کے ساتھ باالوا سطہ یا بلا واسطہ اپنے عہدکی تہذیب وتمدن کے عروج و زوال کی حقیقی داستانیں رقم کر کے قو موں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ماضی کے ان حالات و واقعات کو ضبط تحریر میں لا نے کیلے اہل ادب کو بڑ ی بڑ ی سختیا ں جھیلنا پڑی۔ راست گویے ،حق گویے اور بے با کی کے جرم میں انہیں قید و بند کی کی سعو بتوں سے نوازا گیا۔ ان واقعات میں قوموں کی آزادی کی تحریکوں اور غلامی سے آزادی تک کی در میا نی کیفیتوں کو زیر بحث لانے میں بڑی احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ چنانچہ برصغیر کے مشہور و معروف افسانہ نگار و ں ،ناول نگاروں اور شعرا کی بیشتر ادبی تخلیقات انہی واقعات پر مشتمل ہیں۔ بیسو یں صدی کے سن چالیس اور پچاس کے عژ وں کی ادبی تخلیقات آزادی کے پیشرو ،دوران آزادی اور اس کے نتیجے میں رونما ہو نے والے واقعات وحوادث کی غماز ہیں۔

با الکل اسی طرح صنف نظم اور شاعر بھی اس میدان میں کسی دوسرے فن اور فنکار سے پیچھے نہں ۔ اصناف نظم محض شاعر کی لفا ظی جادوگری یا تخیل وتصور کی ہذیان گویے نہیں بلکہ ان ا دبی تخلیقات کے پس منظر میں رنگین تہذیبوں کے زمان و مکان کے تلخ و شیر یں حالات و وا قعات رقم ہیں۔الغرض ادب کی ان ہیتوں اور اصناف نے میراث انسانی کی فطری ،علمی،اور فکر ی امنگوں کی تکمیل اور فعالیت میں تسلسل اور اس اس تسلسل کو تحفظ فراہم کر نے میں بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اردو شعری ادب خصو صا غزل گویے مں میر، غالب،حالی اور مومن کے شعری آثار یقیناًعہد رفتہ کی تہذیب و تمدن اور ان کی توا ریخ کے حوا دث سے تشنگا ن حق کو مطلو بہ حقا یق سے ضرور روشنا س کراتے ہیں۔ با الخصوص غالب کی شاعر ی کو شعری روا یتو ں کے امین قرار د یے جانے کے علا وہ معنی آ فرینی ، صنعت الفا ظ و ترا کیب ،تشبیہات و استعا را ت و تلمیحات کا بحر بے کراں قرار دینے میں کو یے قبا ہت محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ان کی شاعری کو ان کے دور سے لے کر دور حاضر تک سماج کی ایک موثر اور توانا آواز تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ غالب نے نہ صرف اپنے ذاتی حالات و واقعات کو ترجیحی بنیاد پر اپنے مو ضو عات کا حصہ بنا یا ،بلکہ اپنے عہد میں رو نما ہو نے والے دیگر قومی مسا یل سے بھی چشم پو شی اختیار کرنے سے گریز کیا ہے ۔

چند معتبر ماہرین ادب اور دانشو روں کے بہ قول غالب کے دور کی شاعری مجمو عی طور پر جما لیاتی خو بی کے محور کے گرد گھومتی رہی ۔فیض احمد فیض اپنے کسی مضمون میں شعر کی خوبی بیان کرتے ہوے لکھتے ہیں ،کہ شعر کی مجموعی قدر میں جمالیاتی اور سماجی افادیت دونوں شامل ہیں ،اس لیے مکمل طور پر اچھی شاعری یا اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار پر نہیں زند گی کے معیار پر بھی پورا اترے۔ان ماہرین کے مطا بق علامہ اقبال کی شاعری ان دونوں صفات سے بھر پور ہے۔کیو نکہ ان کی شاعری صرف فن کے معیار پر ہی نہیں بلکہ زندگی کے معیار پر بھی اترتی ہے ۔ اقبال نے اردو شاعری کے رخ کو موڑ دیا شاعری کو زندگی کے حقا یق کا وسیلہ بنایا اس میں درماندگی ،بیچار گی رچی بسی ہوی تھی ،اس کی جگہ ایک توا نا یے ،امنگ اور ولو لہ پیدا کیا۔ انہی خصو صیات کی بنا پر ناقدین ادب نے اقبال کی شاعری کو زند گی کے معیار سے ہم آ ہنگ قرار دیا۔

میری ذاتی راے بھی اقبال کے بارے میں وہی ہے جو اردو ادب کے مذکورہ صف اول کے ناقدین کی ہیں۔صف اول کے ان معتبر اردو تنقید نگاروں کی ان تاییدی بیا نات کی تکرار شاید ہمارے چند خاموش دیسی ادبی نقاد حضرات پر گراں گزرے گی ۔ان کی ادبی خاموشی یا تومزیدشدید تر ہو جاے گی ،یا ان کا ادبی جمود شاید ٹوٹ جایگا۔اس امکانی کیفیت کی پیش گویے کی نوبت اس لیے آیے ہے کہ ہمارے ہاں صرف نیم ملا اور نیم حکیم کی بہتات نہیں،بلکہ اس حا لت سے ہمارے معاشرے کا ہر ادارہ دوچار ہے۔مثلا نیم ادیب ،نیم شاعر ،نیم استاد،نیم کر کٹر،نیم سیا ستدان اور نیم تاجر وغیرہ۔یہ حضرات خود بھی اپنے شعبے میں نیم مہارت کے حامل ہیں چنا نچہ دوسروں کو بھی نیم مہارت کا حامل بلکہ زندہ ہو تو نیم زندہ دیکھنے کے خوا ہشمند ہیں۔وطن میں عزیز شروع سے لیکر اب تک جمہو ریت بھی نیم فعا لیت سے دو چار ہے۔ معاشرے کی بھاگ دورڑ عام طور پر انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں جو اصول و ضوابظ کے جملہ رموز و اوقاف سے بے بہرہ ہو تے ہیں۔زبان وادب ہی وہ واحد بہتر ین وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے افراد معاشرہ کو ان انحرا فات کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔اگر چہ ان انحافات سے نمٹنا تمام افراد مواشرہ کی ذمہ داری ہے ،لیکن ارباب اختیار کی یہ او لین ذمہ داری بنتی ہے کہ معاشرے میں بیدا ری کی بھر پور انداز میں مہم چلا یے جاےَ ۔اس مقصد کا حصول حکومت کیلے کویے مشکل کام نہیں اس کے لیے اگر چہ اور بھی وسا یل بروے کار لا ے جا سکتے ہیں ،لیکن جو وسیلہ موثر اور معتبر ما نا جاتا ہے وہ زبان و ادب کا وسیلہ ہے ۔دنیاوقف ہے کہ ترقی یافتہ اور مہذب قوموں نے تا ریخ میں اس وسیلے کو خوب آزما یا ہے ۔یہ ایک ایسا نسخہ کیمیا ہے جسکو آزمانے میں ان قوموں نے کافی توا ناییاں اور وقت صرف کیے۔ جس سے ان قوموں کی تقدیر یں یکسر بدل گییں ۔

اس نسخے سے اگر ہماری قوم بھی صحیح معنوں میں استفادہ کرے ،تو شاید یہ آزمود ہ نسخہ ہ ہماری قوم کی تقد یر بھی بدل دے۔زبان وادب کی وسا طت سے ان قوموں نے سا ینس اور فلسفے سے بھر پور انداز مین استفا دہ کیا ۔آج ساینسی اور مادی ترقی کے میدان میں دنیا کی دوسری قومیں ان کی توا نایے و پیشر فت کے آگے دست بستہ سوا لی کی صورت میں کھڑی ہیں۔ان کی یہ ترقی وپیشرفت اس صورت میں ممکن ہویے، کہ ان ترقی یافتہ قوموں نے پہلے مرحلے میں نزبان وادب کی خوب آبیاری کی تمام علوم کو اپنی زبان میں منتقل کیا،جب یہ علوم اپنی زبان میں منتقل ہو گیے پھر انہو ں نے حصول علم کیلیے جان کی با زی لگانا شروع کی ۔تب کہیں جا کر صدیوں بعد یہ قومیں ترقی و پیشر فت کے آسما نوں کو چھو نے لگیں۔اگر دل کی آنکھوں سے ہم ان قوموں کی تر قی و پیشر فت کا مشا ہدہ کریں تو اس نتیجے پہ ضرور پہنچں گیااور یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ترقی و پیشر فت یہ علمی و سا ینسی ایجا دات علاج معا لجے کی سہو لیات ،مشینی آلات سب زبان و ادب کی مر ہون منت ہیں ۔اس کے مقا بلے میں ہمارا سماج غربت،جہالت،اور قتل وغارت گری کا بری طرح شکار ہے ،آج کا ہما را سماج اس نہج پر کھڑا ہے جس نہج پر یہ مذکورہ آگاہ و بیدار قومیں پانچ صدی پہلے حیران و پریشان کھڑی تھیں۔

قوموں کی اس پسما ندگی کی تو جیہات کو ہمیشہ انکی رسم و رواج اور زبان و ادب کے پس منظر میں تلاش کر نے کی ضرورت ہے ۔زبان وادب میں مو جود خا میو ں کی نشاند ہی کرنا ان عام تعلیم یا فتہ یا اعلی تعلیم یافتہ حضرات کے دایرہ قدرت میں نہیں ہے ،جب تک ان کو اس شعبے میں مہارت یا اس سے خاص لگاو نہ ہو۔

بلتی شعری ادب کا اگراجما لی یا سر سری جا یزہ لیا جا ے، تو اس کی مجمو عی کیفیت کا اندا زہ لگانا اگر چہ مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں،بلتی ادب، جسکا اغلب حصہ اشعار پر مشتمل ہے ،اسکی تا ریخ اتنی پرا نی نہیں جتنی اردو کی ہے ،محض زبان کی تا ریخ کافی پرانی ہے ،شاید ادب کی بھی ہو لیکن اس کی کو یے دستا ویزی سند ابھی تک منظر عام پر نہیں آیی ۔ جہاں سے اس زبان کی ادبی حس حر کت میں آیی ہے وہاں سے اس کو مو ضوع سخن بنا یا جا ے،تو اس زبان کی ادبی شان و شو کت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلتی شعرا کی تخلیقی آرا کے ذریعے اس قوم کی تہذیب وتمدن کے گذشتہ عروج و زوال اور گم گشتہ خدو خال کا کسی حد تک سراغ یا اندا زہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ان شعرا نے اپنے محدود وسا یل کے ذریعے گلستان ادب کی پرورش کا خوب اہتمام کیا،اور طبع آزما یے کے جو ہر دکھاے ا ور اپنے اشعار کے ذریعے اپنی تہذ یب و تمدن و تاریخ کی میلا نات ورجحا نات کی کسی حد تک تر جما نی کی۔ آنے وا لی نسوں کے لیے اپنی تہذ یب و تمد نکے حالات و واقعات سے آگاہی کے لیے ضروری سامان و اسباب مہیا کیے۔ان شعرا کی ادبی تخلیقات اگر چہ مذہبی شخصیات کے حالات زند گی سے مر بوط ہیں،چہار دہ معصو مین کی ذوات مقد سہ ان کی ادبی امنگوں کا مر کز و محور ہیں۔ان ذوات کو اپنے لیے اور قا رین کیلیے ایک جامع اور بے مثال رہنما تسلیم کیا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ ان شعرا نے اپنے گردو پیش کے حالت و واقعات اور ماحو ل اور اس پر اثر انداز ہو نے والے عوامل پر اظہار راے پیش کر نے سے گریز نہیں کیا ہے ۔ان کے زریں خیا لات اور اشعار کی مدد سے ہم اس علا قے کے پرانے رسم و رواج اور ثقا فت کے گمنام پہلوو ں کے نا یاب و نادر معلو مات اخذ کر سکتے ہیں۔بلتی شاعری کی تا ریخ پرانی نہ سہی ،ضخیم تو ضرور ہے،اس کی ضخامت کو یکسر نظر انداز کر نا اس زبان کی ادبی شان و شو کت کی تحقیر کے مترا دف ہے۔

بوا شاہ عباس کو بلتی شاعری میں بڑا مقام حاصل ہے،اہل بلتی ان کو ملک الشعرا کے خطاب سے پکار تے ہیں۔انکی شعری استعداد کی مقبو لیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقر یبا ایک صدی کا عر صہ گزر نے کے با و جود اہل بلتی ان کے کلام کے مسا وی کلام تخلیق کر نے سے قا صر ہیں۔ان کی شاعری رنگین بیا نی ،معنی آفر ینی اور بلند خیا لی کا ایک اعلی اور کا مل نمو نہ ہے ۔اردو اہل ادب انیس و دبیر کے فن مر ثیہ گو یی پر جتنا نا زاں ہے اتنا ہی اہل بلتی بوا شا ہ عبا س کے فن قصیدہ گویے پر نازاں ہو نے کے ساتھ ساتھ اس کے قدر دان بھی ہیں ۔ مقامی روایتی علماء،ذاکرین،اور شعراء ان کے علمی اور استعداد کے محض قایل ہی نہیں بلکہ ان کو بلتی شعری ادب کا مو رث اعلی تسلیم کرنے میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔مقامی عام معتقد ین بوا عباس کے فن قصیدہ گو یے کے جذباتی حد تک معتقد ہیں ،ان کے بقول بوا عباس جیسا عالم و فاضل و شاعر اس جہاں میں نہ کبھی پیدا ہوا ہے اور نہ آیندہ ہونے کا امکان پایا جا تا ہے۔بہر حال معتقد ین کا یہ اٹل فیصلہ ناقدین نے بھی من و عن قبول کیا ہے یا مسترد اس بارے میں کسی ادبی ناقد کی ادبی زاویہ نگاہ پر مبنی تجزیہ تحلیل تحر یری شکل میں کبھی نظروں سے نہیں گزری ۔ لیکن چند مقامی غیر روایتی ناقد ین کی رسمی انداز پر مبنی زبانی تجز یے بوا عباس کے بارے میں مثبت آراء پر مشتمل ہیں۔ان نا قدین کی زبا نی تعبیرات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ان آراء سے وہ استفادہ حاصل نہیں کر سکتا جتنا تحر یری مواد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس کالم کی وسا طت سے میں ان گرامی قدرنا قدین ادب سے یہی گذا رش کر نا ضرو ری سمجھتا ہوں کہ بلتی ادب بھی تنقید ی روا یت کو زیدہ سے ز یا دہ فرغ دیا جا ے ناقد ین کی تنقید ی آراء پر مشتمل کتا بیں شا یع کرنے کی بند و بست کی جا ےء، تا کہ ان آراء کی رو شنی میں شعری اور نثری ادب کی پرورش کی جا سکے ،اور ان مین مو جود نقا یص اور خا میوں کی بیخ کنی کی جا سکے ورنہ ناقص شعری اور نثری تخلیقات پر وان چڑ ھتی رہیں گیں اور انہی ناقص ادبی تخلیقات کو مسلسل معا شرے میں فروغ ملتا ر ہے گا۔اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ناقص معا شرہ بھی تشکیل پا ے۔امید ہے کہ اس اہم فریضے کی تکمیل کیلیے مو زون اور ادب سے مربوط شخصیا ت اپنی بے پناہ صلا حیتوں کو بروے کار لانے میں احساس ذمہ داری کا مظا ہرہ کرتے ہوے مو جودہ ادب کی بہتر انداز میں رہنما یے ضرور فر ما یں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔