قوم کو پڑھانا ہے یا پھنسانا؟؟؟؟؟

قوم کو پڑھانا ہے یا پھنسانا؟؟؟؟؟

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : اے ۔ زیڈ شگری
گزشتہ دنوں محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ سلیبس برائے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول دیکھنے کو ملا ۔ دو صفحات پر مشتمل اس سلیبس میں کلاس نرسری تا ہشتم کے کتابوں کی لسٹ بمعہ پبلشر اور ایڈیشن دی گئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں یکساں کورس متعارف کرانا اور ان کی نگرانی کرنا ایک احسن اقدام ہے اور سپریم کورٹ کے اردو زبان کو دفتروں میں رائج کرنے کے حکمنامے کے بعد دفتروں سے انگریزی زبان میں حکمنامہ جاری ہونا اور انگریزی کو تدریسی زبان کے طور پر استعمال کرنے کی تاکید مجھ جیسے کم فہم لوگوں کے سمجھ سے بالا تر ہے۔ شائد اس لئے کہ مجھے میرے محترم اساتذہ نے شروع میں بلتی زبان میں اور بعد میں اردو زبان میں تعلیم دی۔خیر کوئی بات نہیں۔ اس موضوع پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ لیکن فی الحال جو چیز مجھے تنگ کر رہی ہے وہ پورے ایشیاء کی وسعت جتنا پھیلا ہوا کورس ہے۔ کلاس نرسری کے لیے دو کتابیں تجویز کی گئی ہیں۔ ایک تو اردو/انگریزی قاعدہ اور گنتی کا ایک قاعدہ جس میں نرسری کے بچوں کو ایک تا سو ہندسوں میں جبکہ (One to Ten) انگریزی ہجے کے ساتھ سکھایا جائے گا اور یوں یہ بچہ سیدھا جماعت اول میں ترقی کر جائے گا اور وہ اردو زبان میں کہانی، مکالمے ، نظم اور دیگر سبق آموز عبارات پڑھنے اور لکھنے لگے گا۔ انگریزی میں جملے اور پیرا گراف پڑھ کر لکھ بھی لے گا، الفاظ کے معانی لکھیں گے، جملے بنائیں گے۔ حساب میں 10000تک کی گنتی پڑھ اور لکھ سکے گا، اور ہزار تک کے اردو اور انگریزی ہجے لکھ سکیں گے۔ سہ ہندسی اعداد کی جمع تفریق کریں گے۔ سائنس اور معاشرتی علوم بھی خوب پڑھیں گے اور اسلامیات کے مضمون میں ان کو بنیادی عقائد کی تعلیم دی جائے گی، خواہ عقیدہ کچھ بھی ہو۔ یہی سلسلہ دوسری جماعت میں بھی چلے گا اور تیسری جماعت میں جا کر بچے ماشاء اللہ سے کمپیوٹر بھی پڑھنے لگیں گے اور کمپیوٹر بھی سیکھ جائیں گے۔ جماعت چہارم اور پنجم میں اردو گرامر اور انگریزی گرامر میں بھی یکتا ہو جائیں گے۔ اس طرح نرسری میں تین، اول اور دوم میں چھ کتابیں، سوم میں سات کتابیں، چہارم اور پنجم میں نو کتابیں ، ششم تا ہشتم میں گیارہ کتابیں پڑھیں گے۔ یوں ایک پرائمری سکول کا ایک استاد لگ بھگ 100کے قریب بچوں پر مشتمل چھ تا آٹھ کلاسز کو 40سے 43کتابیں روزانہ پڑھائیں گے اور مڈل سکول کے پانچ سے سات اساتذہ نرسری تا ہشتم کل گیارہ کلاسز کو 73 کتابیں روزانہ پڑھائیں گے۔ کونسا استاد ہے جو ان تمام مضامین کو اتنی تعداد میں پڑھا سکتا ہے۔
دوسری طرف سکول کی ٹائمنگ پرائمری لیول پر پانچ گھنٹے اور مڈل لیول پر چھ گھنٹے ہوتے ہیں۔ اس میں سے لگ بھگ ایک گھنٹہ دعا و حاضری، اور تفریح کے لئے مختص ہے ۔ باقی پرائمری سکول کے 43مضامین کے لیے صرف چار گھنٹے یعنی 240منٹ بچتے ہیں۔ 43 مضامین پر دستیاب وقت کو تقسیم کریں اور استاد یا طلباء ایک سیکنڈ بھی ضائع نہ کریں تو فی مضمون 5.5منٹ ملتے ہیں۔ پانچ منٹ میں ایک بے چارہ استاد کیا کرے گا۔ ایسا کرتے ہیں کہ استاد بہت قابل ہے۔ وہ تائم مینیجمنٹ میں ید طولی رکھتا ہے۔ مضامین کو اس کی ضخامت کے لحاظ سے ووٹیج دیتا ہے۔ اور یوں وہ کسی نہ کسی طرح سے ہر مضمون کے لئے دس منٹ مہیا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں اوسطاً ہر کلاس میں اگر 20بچے بھی رکھ لیں تو آپ بتائیں کہ ایک استاد دس منٹ کے مقررہ وقت میں کون کون سا کام کرے گا؟ بچوں کو پڑھائے گا،؟ ان کا جائزہ لے گا؟ بلند خوانی کریں گے، یا بچوں سے کروائیں گے؟ کام دیں گے؟ کام دیکھیں گے؟ اصلاح دیں گے؟ کوئی انسان تو چار گھنٹے میں اتنا کام نہیں کر سکتا، شائد محکمہ تعلیم نے ان اساتذہ کو مشین سمجھ رکھا ہے اور بچوں کو سمارٹ فون سمجھ لیا ہے استاد کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ تھکاوت اور غلطی اس کی ڈکشنری میں موجود ہی نہیں، اور بچے بھی سمارٹ فون کی طرح ہدایات کے مطابق خود بخود سمجھ لیتا ہے اور ہمیشہ کے لیے اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتا ہے۔
کیا محکمہ تعلیم کے متعلقہ شعبے کے ممبران و ہیڈ کو اس بات کا یقین ہے کہ مضامین کی تعداد میں اضافہ بچوں کی تعداد پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ وہ موجودہ وسائل کے ساتھ کار آمد ہوں گے؟ اگر ہے تو برائے مہربانی یہ طریقہ اپنے تمام پرائمری سکولوں کے اساتذہ کو بتایا جائے اور خود کر کے دکھائیں کہ ایک استاد روزانہ 43 مضامین کیسے پڑھا سکتا ہے ؟ کیونکہ لیڈر کر کے دکھاتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے ۔ اگر آپ کے مطابق کورس کی وسعت میں کوئی فائدہ ہے اور اس کے پیچھے کوئی فلسفہ موجود ہے تو برائے مہربانی اپنے اساتذہ کو آگاہ کریں اور اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد کو بڑھائیں تا کہ قوم کا مستقبل ضائع ہونے سے بچ جائے۔ ایسا ممکن نہیں تو میرا مانیں اور سوائے ضروری مضامین کے تمام غیر ضروری مضامین کو کورس سے خارج کیا جائے۔ میرے مطابق ضروری مضامین حسب ذیل ہیں۔
جماعت اول ادنیٰ یا نرسری کے بعد کلاس پریپ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ کلاس نرسری تا ون کے لیے اردو، انگریزی اور میتھ کا پڑھانا کافی ہے۔ دوسری جماعت میں جنرل نالج کا اضافہ کیا جائے اور تیسری تا پانچویں کے جماعتوں میں جنرل نالج کو سائنس کے مضمون سے بدلا جائے۔ ششم تا ہشتم جغرافیہ، ڈرائینگ اور اگر نہایت ضروری سمجھیں تو کمپیوٹر کا اضافہ کیا جائے ورنہ بہتر تو یہ ہوگا کہ کمپیوٹر پڑھانے کی بجائے سکھایا جائے۔ اسلامیات یا دینیات تو ہر بچہ دینیات سنٹر یا مدرسہ جا کر پڑھتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ جی بی میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں اور اسلامیات کے کورس کو سکول میں پڑھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ سوشل سٹیڈیز یا معاشرتی علوم کی کتابیں کیا واقعی ہمارے معاشرے کی تربیت کر رہی ہیں؟ کیا ان کتابوں میں تاریخ کو مسخ نہیں کیا گیا؟ کیا غلط تاریخ اور غلط روایات پڑھا کر ہم آنے والی نسل سے یہ توقع کریں گے کہ وہ محب وطن شہری بنیں گے؟ وہ معاشرے کے لیے مفید بنیں گے؟ کیا تاریخ ان سے ہمیشہ کے لیے چھپی رہے گی؟ ہرگز نہیں۔ رہی بات انگریزی اور اردو گرامر کی، جی ہاں کسی زبان کو سیکھنے کے لیے اس زبان کی قواعد کا جاننا بہت ضروری ہے اور گرامر کا پڑھایا جانا بھی ضروری ہے اور اسی ضرورت کے پیشِ نظر اردو اور انگریزی کی کورس کی کتابوں میں ان کے درجے کے مطابق گرامر کے مناسب اسباق شامل کیے گئے ہیں جس میں قواعد کے علاوہ خطوط نویسی، مضمون نویسی، دعوت نامے، اور زبان دانی کے دیگر لوازمات شامل ہیں۔ لہٰذا گرامر کی الگ سے کوئی کتاب پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ زبان کو بطور زبان پڑھایا جائے اور اس مقصد کے لیے اساتذہ کی مناسب تربیت کا انتظام کیا جائے اور اسکولوں کو مناسب وسائل فراہم کیا جائے بجائے اس کے کہ کورس کو چوڑا کیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ بچے اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے تو یوں لگتا ہے کہ قوم کے بچوں کو پڑھانے کی بجائے پھنسانے کی سازش ہو رہی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔