حسن آباد دو میگا واٹ اور مایون پانچسو کلوواٹس منصوبوں کے ورک آرڈز جاری نہیں کئے گئے تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے، فدا کریم اور نمبردار اسلم

حسن آباد دو میگا واٹ اور مایون پانچسو کلوواٹس منصوبوں کے ورک آرڈز جاری نہیں کئے گئے تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے، فدا کریم اور نمبردار اسلم

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق صدور نمبردار فدا کریم اور نمبردار اسلم نے کہا کہ اگر حسن آباد دو میگاواٹ اور مایون پانچ سو کلواٹ پاور منصوبوں کا سٹارٹ آرڈر نہیں دیا گیا تو شناکی اور سنٹرل ہنزہ کے عوام محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے خلاف شاہراہ قراقرم پر نکل آئیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ برقیات ہنزہ نگر اور بالا حکام اس سے قبل بھی ان منصوبوں کے نام پر مختلف تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے دوسال ضائع کر چکے تھے جبکہ دو سال گز رنے کے ساتھ اللہ اللہ کرتے ہوئے منصوبوں کا ٹینڈر تو کر لیا مگر ان پر کام شروع کروانے کا محکمہ برقیات کا کوئی ارادہ نہیں ۔

انہوں نے ہنزہ میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ پر بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہنزہ میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی تھرمل جنریٹر کو استعمال کرکے قومی خزانے کو سالانہ لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں مگر اس مشکل سے بچنے کے لئے کوئی میگا پاور منصوبے پر کام کرنے کا سوچ بھی نہیں وہاں پر حیران کن یہ بات ہے کہ سابق حکومت کے دور اقتدار میں ہنزہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کم کرنے حسن آباد میں دو میگاواٹ اور شناکی مایون میں پانچ سو کلواٹ کے بجلی منصوبوں کا ٹینڈ ر کر وا دیا مگر اس پر کام شروع کروانے کے لئے محکمہ کے افسران کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دنوں پاور منصوبوں پر کام شروع کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے تھرمل جنریٹر کے نام پر خرچ ہونے والے کرڑوں روپے حکومت کو بچ سکے جبکہ بغیر کسی نقصان سے ہائیڈیل پاور منصوبوں سے بجلی عوام کو مہیا ہوبصورت دیگر محکمہ برقیات ہنزہ نگر بلکہ محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے حکام کے خلاف بھر پور طریقے سے احتجاج کی کال دی جائیگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔