ایک ہفتے میں حسن آباد اور مایون ہنزہ میں پاورہاوس کی تعمیر کے لئے ٹینڈر شدہ کاموں کا آغاز ہوگا، سیکریٹری برقیات ظفر تاج کی یقین دہانی

ایک ہفتے میں حسن آباد اور مایون ہنزہ میں پاورہاوس کی تعمیر کے لئے ٹینڈر شدہ کاموں کا آغاز ہوگا، سیکریٹری برقیات ظفر تاج کی یقین دہانی

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) میڈیا سروے پر ایکشن، سیکرٹری برقیات ظفر وقار تاج نے علاقہ نمبرد اران سے ملاقات کی، حسن آبادنالے میں 2میگاواٹ اور مایون شناکی میں 500کلو واٹ کے پاور منصوبوں پر ایک ہفتے کے اندر ٹینڈر شدہ کام شروع کرنے کی یقین دہانی، عانتظار کی گھڑیاں ختم ہو نے کا امکان ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق، ہنزہ میں بجلی لوڈ شیڈ نگ کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ برقیات گلگت بلتستان نے حسن آباد میں دو میگا واٹ اور مایون شناکی میں پانچ سو کلو واٹ بجلی منصوبوں پر ٹینڈ رتو کیا گیا تھا مگر کام شروع کرنے کے لئے محکمہ برقیات گلگت بلتستان نے ہنزہ نگر کے متعلقہ اداروں کو حکم نہیں دیاتھا، جسکی وجہ سے علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔

تاہم سیکرٹری پاور اینڈ واٹر گلگت بلتستان نے نمبردار ن اور عمائدین سے ملاقات میں کہا کہ انشااللہ آئندہ چند روز کے اند ر ہنزہ میں بجلی کی لو ڈ شیڈنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان دونوں اہم منصوبوں پر کام کا آغازہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام ہنزہ کے لئے ایک میگاواٹ کے اضافی تھرمل جنریٹر کا بھی بندوبست کیا گیا ہے، جسے بہت جلد نصب کر دیا جائے گا۔

نمبرداران نے سیکرٹری برقیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ کے نہ صرف عوام بلکہ ملکی و غیر ملکی سیاح بھی پچھلے کئی سالوں سے بجلی کی لوڈ شیڈ نگ سے متاثر ہو رہے ہیں ان مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مختلف بجلی کی منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے انشاللہ ان کی کاوشوں کو ہم صدق دل سے سہراتے ہے اور عوام ہنزہ کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔