شاہراہ قراقرم پر کانوائے ۔۔۔۔؟؟؟؟

شاہراہ قراقرم پر کانوائے ۔۔۔۔؟؟؟؟

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شاہراہ قراقرم پر یکم فروری سے کانوائے ختم کر دیا جائے گا اور تمام مسافرگاڑیاں کسی جگہ پر نہیں رکیں گی اور نان سٹاپ چلیں گی اور کسی مقام پر گاڑیوں کانوائے کی بناء پر نہیں روکا جائے گا ۔ یہ خبر15جنوری کو اخبارات میں لیڈ سپر لیڈ کے طورپر شائع ہوئی تھی اور یہ خبر صوبہ خبیر پختونخواہ میں اپیکس کمیٹی کے خصوصی اجلاس کی اہم کارروائی کا حصہ تھی ۔ اجلاس میں وزیرا علیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن بھی خصوصی شریک ہوے تھے ۔ اجلاس کے بعد حفیظ الرحمن نے فوراً کہہ دیا کہ شاہراہ قراقرم پر کانوائے میری درخواست پر ختم کردیا گیا اب شاہراہ پر کانوائے نہیں ہوگا بلکہ شاہراہ کی حفاظت کیلئے سپیشل فورس تعینات ہو گی ۔ اور شاہراہ کی سکیورٹی کی غر ض سے 20نئی گاڑیاں گشت پر مامور ہوں گی اس شاہراہ کی سکیورٹی پر کسی صورت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا ۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے تواتر کے ساتھ کانوائے کے خاتمے کو حکومت کا نہایت اہم اقدام قرار دیتے ہوئے بیانات بھی اخبارامیں شائع ہوتے رہے مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے بعض حلقوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ کانوائے صرف ہماری حکومت کی کاوشوں کی وجہ سے ختم ہوا ۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ شاہراہ قراقرم پر کانوائے ختم ہوا اور نہ ہی سکیورٹی نام کی کوئی چیز ہے ہے۔ 10فروری کو اسلام آباد سے سکردو کیلئے بائی روڈ سفر کرنے کا اتفاق ہوا ۔ ہم سہہ پہر ساڑھے 3بجے راولپنڈی سے سکردو کے لئے روانہ ہوئے۔ رات کے ٹھیک ڈیڑھ بجے ہم بشام پہنچے ، بشام پہنچنے کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ شکائی چیک پوسٹ سے آگے گاڑیاں نہیں بھیجی جارہی ہیں کیونکہ سکیورٹی تھرڈ ہے سخت بارش بھی ہو رہی تھی ۔ بس میں موجود بچے ، خواتین اور بزرگ شدید بارش اور سردی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار تھے رات بھر بشام ہوٹل کے بار بس میں خوار وہتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے آگے جانے کی کوشش کی مگر ہمیں 7بجے سے پہلے آگے جانے سے روکا گیا ۔ کیونکہ 7بجے سے پہلے ہم نکلتے تو ناشتہ سے پہلے نکلنا ہوتا ۔ اس طرح ہوٹل کا دھندا ٹھپ ہو جاتا ۔ ہمیں 7بجے تک خواہ مخواہ سکیورٹی کے بہانے بشام میں روکا گیا 7بجے ہم بشام سے دوبارہ گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو ئے شکائی کے مقام پر پہنچے تووہاں پہلے ہی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی تھیں۔ ہماری بس میں سوار اکثر لوگ بھی اتر گئے یہاں بھی اتنی شدید برف باری اور بارش ہور ہی تھی کہ ہم مکمل بارش کے پانی سے بھیگے تھے ہم نے سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ ہمیں کیوں روکا گیا ہے جواب ملا کہ انہیں خود پتہ نہیں کہ مسافروں کو کیوں روکا گیا جب بار بار استفسار کیا گیا تو دوبارہ جواب دیا کہ ہمیں ڈی پی او کا حکم ہے کہ گاڑیا ں روکی جائیں جب سکیورٹی اہلکاروں سے پوچھا گیا کہ ڈی پی او نے گاڑیاں روکنے کا حکم کیوں دیا ہے ۔تو سکیورٹی اہلکاروں نے اس دفعہ بہت ہی خوبصورت اور عمدہ جواب دیا اور کہا کہ ہم ساری چیزیں آپ لوگوں کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے ہمارے باوس کی بھی یہی ہدایت ہے لیکن معلوم نہ ہوسکا وہ کونسی چیزیں تھیں جو سکیورٹی اہلکارہم سے شیئر کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے تھے ۔ خیر بڑی تگ ودو کے بعد ہمیں شکائی چیک پوسٹ سے چھوڑ دیا گیا ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ شکائی چیک پوسٹ سے جگلوٹ پہنچنے تک راستے میں ہمیں کہیں کوئی سکیورٹی نظر نہیں آئی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سکیورٹی کا خطرہ تھا توبشام سے لیکر جگلوٹ تک سکیورٹی کی تعیناتی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی تھی؟ کیا ہوٹلوں کے سامنے گاڑیاں روک کر ہوٹلز مافیاز کو فائدہ پہنچانا ہی دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے کافی تھا؟ یا پھر سکیورٹی فراہم کر کے گاڑیوں کو روکے بغیر کوہستان کے علاقے سے گلگت بلتستان کی جانب چھوڑدینا چاہئے تھا ۔ کہتے ہیں کہ جب بھی کانوائے کے خاتمے کی کوئی بات ہو تی ہے تو مافیاز سرگرم ہو جاتے ہیں اور وہ حکومت کیلئے چیلنج بن جاتے ہیں اور حکومت انہی مافیاز کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے۔ اور گاڑیاں ان مقامات پر کسی نہ کسی بہانے روک لی جاتی ہیں جہاں سے مافیاز کے مفادات وابستہ ہیں طاقتور مافیاز کے سامنے حکومت بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور وہ اپنی تسلی وتشفی کیلئے کانوائے کے خاتمے کی باتیں کر رہی ہے ۔اگر شاہراہ قراقرم پر سکیورٹی تھرڈ بھی ہے تو اس کا حل یہ تو نہیں کہ گاڑیاں روکی جائیں۔ سکیورٹی تھرڈ ہے تو ریاستی اداروں کا کام ہے کہ وہ مسافروں کو سکیورٹی فراہم کریں اگر گاڑیاں ہی روکنا حکومت مسئلے کا حل سمجھتی ہے تو پھر دہشت گردوں کی بڑی کامیابی ہے ۔ دہشت گرد یہی تو چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے حکومت کو خوف دلا یا جائے اور اپنا مقصد پور ا کریں اگر کسی تعلیمی ادارے کو کوئی خطرہ ہو تو اس کا حل یہ تو نہیں کہ اس ادارے کو ہی بند کر دیا جائے بالکل اسی طرح شاہراہ پر سکیورٹی خدشے کے پیش نظر گاڑیاں ہوٹلوں کے سامنے روک کر مافیاز کو فائدہ پہنچانا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے دہشت گردی کے ہر خطرے پر شاہراہ قراقرم پر مسافروں کے سفر پر پابندی عائد کی جائے گی یا پھر تعلیمی ادارے بند کر دئے جائیں گے تو نفسیاتی طورپر دہشت گرد اپنے مقاصد کی تکمیل میں سو فیصد کامیاب ہونگے ۔بات بہت دور نکلی تحریر کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شاہراہ قراقرم پر کانوائے ختم ہو ا ہے اور نہ ہی اس اہم شاہراہ پر سکیورٹی نام کی کوئی چیز ہے راولپنڈی سے گلگت بلتستان آنے والی گاڑیاں بشام میں روک لی جاتی ہیں سکردو سے آنے والی گاڑیوں کو جگلوٹ کے مقام پر رات 12بجے سے دوسرے روز صبح 7بجے تک روک لیا جاتا ہے اور صبح7بجے سے پہلے گاڑیاں راولپنڈی نہیں بھیجی جاتی ہیں سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ جگلوٹ اور بشام میں جس جگہ گاڑیاں کھڑی ہو ں گی اس جگہ کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تو پھر حکومت کیا کرے گی ؟ اگر ایسا ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ جگلوٹ اور بشام کے جس مقام پر گاڑیاں روک لی جاتی ہیں وہاں بھی کوئی سکیورٹی نہیں ہوتی ہے ۔مسافر اللہ اللہ کر کے رات گزار تے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنی بات کی لاج رکھتے ہوئے شاہراہ قراقرم پر زبانی نہیں عملی طورپر سکیورٹی کا مناسب بندوبست کرے ۔ اور ان 20گاڑیوں کی شاہراہ قراقرم پر موجودگی کو یقینی بناے جو حکومت نے محض اس شاہراہ کی حفاظت کیلئے خرید نے کا دعویٰ کیا ہے اور سپیشل فورس بھی گشت کرتے ہوے نظر آنی چاہئے تاکہ گلگت بلتستا ن کو مستقبل میں ایک بہت بڑے سانحے سے بچایا جاسکے۔ امید ہے کہ حکومت اپنے اعلان کی لاج رکھتے ہوئے شاہراہ قراقر م کو عملی طورپر مسافروں کیلئے ایک محفوظ شاہراہ بنانے کیلئے عملی کردار ادا کرے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔