کالمز

پرائیویٹ سکولز پر کرونا کے اثرات

سید شرف الدین کاظمی
اسسٹنٹ ریجنل ڈائیر یکٹر پاکستان ایجوکیشنل کونسل گلگت

المصطفیٰ پبلک سکول سسٹم ایک قدیمی تعلیمی ادارہ ہے جو گلگت میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس وقت اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جب گلگت میں پبلک سکول اور الاظہر سکول کے علاوہ کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھاجو شرح خوادگی کی اضافے میں حکومت وقت کا ساتھ دے۔والدین میں اتنی سکت نہیں تھی کہ ان سکولوں میں بھاری فیسوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ دریں اثناء شہر کے معززین اور تعلیم سے محبت کرنے والے لوگ یہ سوچنے لگے کہ غریب بچوں کیلئے کم فیسوں پر معیاری تعلیم کا ادارہ ہونا چاہئے۔ اس سوچ کے نتیجے میں

1991ء ؁میں المصطفیٰ سکول کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں پر کم فیسوں کے ساتھ معیاری تعلیمی نظام مرتب کیا گیا تھا۔س لئے کم عرصے میں اس ادارے نے علاقے میں اپنامقام بنایا۔ ادارے میں میرٹ پر تعیناتیوں کی وجہ سے اچھے مدرس ملے اور پانچ چھ سالوں کے اندر ادارے سے طلباء ملک کے بڑے بڑے ادارے جیسے رزمک، برن ہال، کیڈٹ سکول ایبٹ آبادکیلئے میرٹ پر منتخب ہوئے ادارے نے علاقے کے غریب عوام کی دہلیز پر نہ صرف معیاری تعلیم بہم پہنچائی بلکہ شرح خواندگی میں حکومت وقت کا ساتھ دیا اور علاقے کے کئی بیروزگاراعلیٰ تعلیم یافتہ جوانوں کو روزگار فراہم کیا۔ ادارے کی مقبولیت اور علاقے میں نظام تعلیم کو فروغ دینے کیلئے 1996 میں پاکستان ایجوکشنل کونسل اسلام آباد کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا۔اور گلگت میں تمام سکولوں کو اس کے ساتھ منسلک کیا گیا۔جس کے تحت گلگت میں سکول کی مین کیمپس کیلئے اس ادارے نے رمبر باغ (مجینی محلہ)میں آٹھ کنال زمین خریدی اور ایک عالی شان بلڈنگ بنائی جوکہ کسی بھی سرکاری بلڈنگ سے کم نہیں۔جس میں کھیلوں کیلئے ایک وسیع و عریض گراوند موجود ہے۔بس یوں ہی نہیں اس ادارے نے جلال آباد میں AKES کے تعاون سے جدید بلڈنگ بنائی جہاں آج 500 طلباء و طالبات معیاری تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں اور تقریباً 35 کے لگ بھگ ملازمین ہیں جن کو یہاں سے روزگار مل رہا ہے اسی ادارے نے مچوکال دنیور میں ایک پرائمری سکول بنائی اور العصرکالونی سکوار میں ایک پرائمری سکول کی بلڈنگ بناکرتعلیمی نظام کو مذید بہتر بنایا۔

اسی طرح گلگت میں چھ سکولز کم فیسوں پر میعاری تعلیم کے ساتھ ساتھ سینکڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں۔اس کے علاوہ دنیور میں کرائے کی بلڈنگ میں سیکنڈری لیول اور نگرل گلگت میں مڈل سطح تک طلباء اور طالبات کیلئے معیاری تعلیم کی سہولیات دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے مختلف اوقات میں شیڈول پروگرام باقائدگی سے ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے اکثر اوقات میں ضلع گلگت اور صوبائی سطح پر سکول کے طلباء نے کئی موقعوں پر نمایاں کارکردگی دیکھائی ہے ان سکولوں میں نہ صرف دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ طلباء اور طالبات کو اخلاقی و روحانی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ یہ طلباء یہاں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی عملی زندگی میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

اس ادارے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ بلا رنگ،نسل، مذہب اپنی خدمات انجام دے رہا ہے، جہاں اس ادارے میں مختلف مسلک کے پڑھے لکھے جوانوں نے خدمات پیش کی ہیں جن میں پروفیسر عبدالزاق جسکا تعلق چلاس سے تھا یہاں خدمات انجام دی ہیں عبیداللہ صاحب ریاضی کا ٹیچر تھا گوہرآباد سے انکا تعلق تھا دو سال تک یہاں بحیثیت معلم کام کرتا رہا ہے عثمان غنی صاحب جس کا تعلق شیرقلعہ سے تھا اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔مظفر ولی کمپیوٹر کے ٹیچر تھے جن کا بوبر سے تعلق تھا یہاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس ادارے کی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس ادارے سے فارغ التحصیل طلباء ملک کے مختلف اداروں میں بحیثت ڈاکٹرز، انجینیئرز، کمیشن آفیسرز، سوفٹ ویئر انجینئرز اور ایڈمنسٹریشن میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں ان اداروں سے فارغ ہونے والے طلباء کا تعلیمی معیار ملک کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے میعار سے کم نہیں اسی وجہ سے کسی بھی سطح کے امتحان میں اس ادارے کے طالب علموں نے نمایاں پوزیشن حاصل کرکے ان سکولوں کی اہمیت اور افادیت دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اسی طرح یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اس وقت اس ادارے کی طلباء کی کثیر تعداد ملک کے دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں دنیا کے جدید علوم سے فیضیاب ہورہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ بیرون ملکوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔جوکہ اس ادارے کیلئے ایک اعزاز ہے۔بلاشبہ ایک پڑھا لکھا معاشرہ ہی ملکوں کی تقدیر بدل سکتا ہے اور گلگت بلتستان جیسے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں المصطفیٰ پبلک سکولز نیٹ ورک ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہے جس کے ثمرات سے عوام مستفید ہورہے ہیں۔

گلگت بلتستان بھر میں گورنمننٹ سکول سسٹم کے ساتھ پرائیویٹ سکولز بھی جدید علوم سے عوام کو مستفید کررہے ہیں اور علاقے میں شرح خواندگی میں اضافے میں ان سکولوں کا بڑا کردار ہے جہاں کے اساتذہ کرام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نہایت قلیل تنخواہ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن کو ہمارا سلام ہو جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے غریب طلباء و ظالبات کا بہت نقصان ہورہا ہے۔کرونا وائرس نے جہاں تمام دینا کو متاثر کیا ہے وہاں نظام تعلیم کو بھی مفلوج کیا ہے۔ کرونا کے نام سے جو وباء پھیلی ہے اس نے نہ صرف پوری دینا کو پریشان کیا ہے بلکہ وطن عزیز پاکستان اور گلگت بلتستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح گلگت بلتستان کے حکومت نے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولز 28 فروری 2020 سے 31 مئی 2020 تک بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان اداروں میں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین پریشان حال ہیں فیسیں وصول نہیں ہورہی ہیں نہ صرف ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آئی ہے بلکہ پوری علاقے میں تعلیمی لحاظ سے طلباء کا بڑا نقصان ہورہا ہے

ایسے میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے ارباب اختیار سے یہ گزارش ہوگی کہ وہ دیگر معاملات کے ساتھ تعلیمی معاملات کو بھی درست سمت میں لائے اور تمام پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو خصوصی گرانٹ دیکر ان کی حوصلہ افزائی کریں چونکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے تمام تر اخراجات اور تنخواہوں کی ادائیگی کا انحصارصرف طلباء کے فیسوں کی وصولی پر ہوتا ہے مگر اس وقت تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور سکولوں کی فیسیں وصول نہیں ہورہی ہیں جس کی وجہ سے ملازمین کو سخت مالی مشکلات درپیش ہیں اس لئے حکومت کا اپنی غریب عوام کیلئے ایک ریلیف پکیج کے تحت طلباء کی فیسوں کی ادائیگی اور ان پرائیویٹ سکولوں کے اخراجات کیلئے ایک خصوصی گرانٹ منظور کرکے اس مشکل کی گھڑی میں مدد کرے تاکہ ان سکولوں میں کام کرنے والے غریب ملازمین اپنی ضروریات کو پوری کرسکیں۔اس مشکل دور میں تمام پرائیویٹسکولز کی انتظامیہ اپنے ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ ساتھ حکومت وقت سے مکمل تعاون کررہے ہیں اور امید ہے کہ حکومت بھی ان اداروں کے ساتھ اپنا مثبت تعاون جاری رکھیں گے۔تاکہ اداروں کو پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں کے انتظامیہ کو دوبارہ سہارا مل سکیں اور وہ علاقے کے غریب طلباء کو زیور علم سے آراستہ کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: