عوامی اراضی کو گروہی اور شخصی ملکیت میں دینا قدیمی باشندگان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے، مشترکہ بیان

عوامی اراضی کو گروہی اور شخصی ملکیت میں دینا قدیمی باشندگان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے، مشترکہ بیان

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(خصوصی رپورٹ)دیامر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام مولانا محمد زبور،مولانا محمد ریاض الدین،مولانا گل زرین ،مولانا فضل الرحمان،مولانا اصیل خان،مولانا فضل کریم،مولانا عبدالوہاب،مولانا محبوب اللہ اور عمائدین علاقہ رضی ولی شاہ،عبدالحمید ،تاج محمد،میر افضل ،ظفر و دیگر پر مشتمل کمیٹی نے اپنے ایک مشترکہ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا ہے کہ بٹو گاہ ،کھنر اور گیچی کی عوامی شاملاتی اراضی کو گروہی اور شخصی ملکیت میں دینا صدیوں سے رہائش پذیر اسی فیصدقدیمی باشندگان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔نہ صرف انسانی حقوق سلب کرنے کے مترادف بلکہ اسلام اور نافذ العمل آئین پاکستان سے بھی انحراف ہے۔1973ء کے آئین کے ایکٹ D203میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک میں دستور قرآن اور حدیث کی روشنی میں ترتیب دیا جائیگا۔ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا جو قرآن اور حدیث سے مخالف ہو۔1979ء میں وفاقی شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ وجود میں آیا۔جس میں پانچ ججز چئیر مین جسٹس محمد افضل،اراکین جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ،جسٹس شفیع الرحمان،جسٹس پیر کرم شاہ،جسٹس علامہ محمد تقی عثمانی پر مشتمل بنچ تشکیل دیدی گئی۔اس بنچ کے سامنے شاملاتی بنجر اراضی کو گروہی اور شخصی ملکیت کو قرآن و حدیث سے متصادم قرار دیکر چیلنج کی گئی تھی۔جس پر بنچ نے تمام مکاتب فکر کے دلائل سنے۔اور اسے قرآن و سنت سے متصادم قرار دیکر کالعدم قرار دیدیا۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی ادارے چند با اثر افراد سے مرعوب ہو کر عدالتی احکامات اور آئین پاکستان کو پامال کر رہے ہیں بلکہ قرآن و حدیث کو بھی پامال کر رہے ہیں۔اختیارات اور اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ان کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرنا مسلم حاکم کا اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے حکومت وقت اور قانونی اداروں سے اپیل کی کہ چھبیس سال قبل منسوخ شدہ اور کالعدم قرار دئے جانے والے قانون کو دوبارہ لاگو کر کے علاقے کے اسی فیصد عوام کو انکے حق سے محروم نہ کیا جائے۔بلکہ عوامی شاملاتی اراضی کی ملکیت کے حوالے سے شرعی فیصلہ کروایا جائے۔انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر شریعت میں شاملاتی اراضی پر علاقے کے سب عوام کی ملکیت ثابت نہ کر سکے تو گروہی اور شخصی ملکیت والے فریق سے معافی بھی مانگ لیں گے۔اور آئندہ کے لئے انکا حق بھی تسلیم کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ بٹو گاہ،کھنر،گیچی کی عوامی شاملاتی اراضی اور چراگاہوں اور بنجر اراضی علاقے میں بسنے والے تمام افراد کا مشترکہ حق ہے۔گروہی یا شخصی ملکیت کی نہ دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی آئین پاکستان اس کی کوئی اجازت دیتا ہے۔حکومت فوری طور پر اس فتنے کا حل نکالنے کے لئے اقدامات کرے تاکہ علاقے میں فتنہ فساد اور کسی پر زیادتی نہ ہو ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔