بچپن کی شادی پر پابندی کا قانون، اسمبلی کی زمہ داری

بچپن کی شادی پر پابندی کا قانون، اسمبلی کی زمہ داری

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کم عمری کی شادی تیسری دنیا کا اہم مسلہ ہے ۔ ہمارے یہاں راویتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کی شادی کا مقصد لڑکی اور لڑکے کو بے راہ روی سے بچانا ہے۔ مگر یہ نہیں سوچا جاتا ہے کہ اس کے بعد اُس شادی شدہ جوڈے کے سر پر ایک بھاری زمداری بھی آجاتی ہے جس کو نبھا نے کی وہ اگر صلاحیت سے محروم ہو تو ساری عمر وہ شادی کے اس بوجھ تلے دب جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی نسل بھی اسی بوجھ کے منفی نتائج بھگت رہی ہوتی ہے۔ پہلے زمانے میں کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا واحد روزگار ہوتا تھا ، لہذا شادی کے بعد روزگار کی فکر نہیں ہوتی تھی ۔ اس لئے کم عمری میں شادی کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا تاکہ جلد از جلد بچوں کی شکل میں کھیتی باڈی کے لئے ورک فورس تیار ہو سکے۔ مگر اب جب تک تعلیم پوری نہ ہو اور روزگار نہ مل جائے تب تک شادی کرنا بھوک، افلاس اور جرائم کو دعوت دینا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کم عمری میں بچے پیدا کرنا ماں اور بچے دونوں کے لئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔راہنما فیملی پالاننگ ایسو سی ایشن پاکستان کی طرف سے اس موضوع پر ایک معلوماتی کتابچہ شائع کیا جا چکا ہے ۔ جس میں انتہائی مفید معلومات ہیں۔
اس کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ ” بچپن کی شادی اکثر دورانِ زچگی اموات اور کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ پا کستان میں 13فیصد لڑ کیوں کی شادی 15سال سے کم عمر میں اور 40 فیصد کی 18سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔ 15 سال تک کی عمر کی لڑ کیوں میں حمل یا زچگی کے دوران اموات کی شرح 20 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کی نسبت 5 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ 18سال سے کم عمر کی لڑ کیوں کا جسم ابھی نشو نما کے عمل میں ہوتا ہے ۔ ان کا تولیدی نظام اور پیڑو ابتدائی حمل اور بچے کی پیدائش کے بوجھ کو بر داشت نہیں کر تے جو اکثر لڑ کی کی موت کا سبب بنتا ہے۔
ایک لڑکی یاعورت کی حمل کے دوران، بچے کی پیدائش کے دوران یا بچے کی پیدائش کے 42 دنوں کے اندر موت واقع ہونے کو عام طور پر زچگی کے دوران موت کہا جاتا ہے۔ پا کستان میں ان اموات کی شرح 260 فی ایک ہزار خواتین ہے۔ کم عمر کی لڑ کیوں کے جسم ابھی نشونما کے عمل میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پیدائش کے عمل کے دوران تاخیر، ضروری طبی امداد کا فقدان اور زچگی کا طویل عمل فیسٹولا جیسی بیماری کا سبب بنتا ہے ۔ فیسٹولا پیدائش کے دوران اندام نہانی اور مثانے کے ٹشو پھٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 20 لاکھ خواتین اس بیماری کی وجہ سے موت کا شکا ر ہو جاتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال 4سے 6 ہزار خواتین اس کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔
کم عمری کی شادی نہ صرف ماں کی موت کا باعث ہوتی ہے بلکہ بچہ بھی موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے جس کی تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 94فی ایک ہزار بچے ہے۔ 18سال سے کم عمر ماؤں کے بچے وزن میں کم یا مردہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجاتے ہیں۔ کم وزن بچوں میں مختلف بیماریوں اور وٹامن کی کمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں 18فیصد خواتین 18سال کی عمر میں پہلے بچے کو جنم دیتی ہیں۔ 9فیصد خواتین 15سے 19سال کی عمر میں بچے کی پیدائش کا عمل برداشت کرتی ہیں اور 7فیصد اس عمر میں ماں بن چکی ہوتی ہیں۔ نو عمری میں حمل کے دوران لڑکی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ نشونما سے گزرتا جسم، نفسیاتی طور پر تیار نہ ہونا، صحت کی دیکھ بھال میں غفلت اور ناکافی خوراک اور غذائیت بڑی حد تک لڑکیوں کی کمزوری اور غذائیت کی کمی کا شکار ہونے کا باعث بنتا ہے۔ کم وزن، وٹامن کی کمی، خون کی کمی اور آئرن کی کمی کم عمر حاملہ خواتین کا بنیادی مسلہ ہے۔”
کم عمر کی شادی سے نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کو اپنے حقوق کا شعور بھی نہیں ہوتا ۔ وہ غیر محفوظ مباشرت اور جنسی رویوں کو بھی نہیں سمجھ سکتی ۔ جس کی وجہ سے ان کو کئی بیماریوں اور انفیکشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ایچ آئی وی ایڈز وغیرہ شامل ہیں۔ان میں شدید نفسیاتی ، جذباتی ، طبی، مالی اور قانونی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو گھریلو تشدد اور جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔کم عمر جوڈے اکثر اپنی گھریلو زمداریوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نسلوں کی پر ورش میں منفی اثر پڑ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے بین القوامی معاہدوں کے مطابق شادی کی کم از کم عمر 18سال مقرر کی گئی ہے ۔پاکستان نے بھی ان عالمی معاہدوں پر نہ صرف دستخط کیا ہے بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے بہت پہلے یہ قانون منظور کیا جاچکاہے جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 اور لڑکوں کی 18 سال ہے ۔مگر اٹھارویں ترمیم کے بعد اب شادی کی عمر کا تعین کرنے کا اختیار صوبوں کو دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں صوبہ سندھ تمام صوبوں پر سبقت لے گیا ہے جہاں شادی کی عمر لڑکی اور لڑکے دونو ں کے لئے 18سال مقرر کی گئی ہے۔
گذشتہ دنوں گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی حکومت کی طرف سے پارلیمانی سکریٹری برائے قانون ایڈوکیٹ اورنگزیب نے کم عمر شادی کو روکنے کا بل پیش کیا تھا ۔ جس پر مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی نے بل کی مخالفت کی اور دیگر اراکین اسمبلی کی اکثریت نے بغیر سوچے سمجھے ان کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے وہ بل منظور نہیں ہو سکا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی اور قومی سطح پر بھی جی بی اسمبلی کی اس روش پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو چاہیے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں اور اس بل کی منظوری کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ تاکہ اس اہم معاملے میں گلگت بلتستان دیگر صوبو ں کے شانہ بشانہ اپنا کر دار ادا کر سکے۔ یہ صرف چند ماوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کا مسلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کا مسلہ ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔