کیڈٹ کالج چلاس کے مسائل حل کرنے کے لئے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے جلد رابطہ کیا جائے گا، گورنر

کیڈٹ کالج چلاس کے مسائل حل کرنے کے لئے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے جلد رابطہ کیا جائے گا، گورنر

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت۔ گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان کو سیکریٹری تعلیم، ویمن ڈولپمنٹ ، سپیشل ایجوکیشن ثناء اللہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے محکمہ تعلیم اور اپنے ذیلی اداروں کے مجموعی کارکردگی اور مسائل پرتفصیلی بریفنگ دی ۔

گورنر گلگت بلتستان کو سیکریٹری تعلیم ثناء اللہ نے ا پنے متعلقہ اداروں کی کارکردگی مسائل اور گلگت بلتستان میں تعلیم کے معیار سے آگاہ کیا اورکیڈیٹ کالج چلاس ،کیڈٹ کالج سکردو کے کارکردگی اور مسائل سے بھی آگاہ کیا ۔گورنر گلگت بلتستان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ کالج چلاس کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیئے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے گا اور کیڈٹ کالج چلاس کی مکمل بحالی کے لیئے ٹھو س اقدامات کئے جائیں گے ۔گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ غذر، دیامر اور دیگر اضلاع میں بھی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کیمپس کھولنے کے لیئے محکمہ تعلیم مدد کرے تاکہ دوردراز علاقوں کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مزید آسانیا ں ہو۔

گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گلگت بلتستان کے طالبات کے لیئے 500بیڈ پر مشتمل ہاسٹل اور کلچر سنٹر کی تعمیر کے لیئے 20کنال اراضی مختص کرنے کے لیئے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کئے ہیں اور گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں گلگت بلتستان کو مختص سیٹیں بڑھانے کے لیئے یقین دہانی کرائی ہے اور جلد اس سلسلے میں بھی گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کریں گے ۔محکمہ تعلیم گرلز ہاسٹل راولپنڈی /اسلام آباد اور میڈیکل /انجینئرنگ یونیورسٹیز میں سیٹوں کو بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں اور جلد ان کی بحالی کے لیئے مثبت اور ٹھوس اقدامات کرے اس سے گلگت بلتستان کے پنجاب میں زیر تعلیم طلباء کے لیئے مزید آسانیا ں پید ا ہونگی۔

گورنر میر غضنفر علیخان نے ملک کے دیگر حصوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے لیئے سکالر شپس بڑھانے کے لیئے وفاقی حکومت سے گزارش کی جائے گی اس سلسلے میں بھی جلد طلباء و طالبات کو خوشخبری ملے گی ۔گورنر گلگت بلتستان نے سیکریٹری تعلیم کو ہدایات جاری کئے کہ سیپ اساتذہ کی مستقلی کے لیے ان کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں ۔جلد وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات میں سیپ اساتذہ کی مستقلی کے لیئے گزارش کروں گا۔سیپ اساتذہ پچھلے 21سالوں سے کم تنخواہ پر اپنے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان کی یہ خدمات رائیگاں نہیں جائینگی۔
گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں معیار تعلیم کو مزید فروغ دینے کے لیئے محکمہ تعلیم جدید ادوار پر مشتمل تعلیمی پالسیاں مرتب کرنے کے لیئے عملی اقدامات کریں تاکہ انہیں تعلیمی اداروں سے اچھے اور قابل لوگ پیدا ہوسکیں اور معاشرہ ترقی کرے ۔گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ایک ایسا ادارہ قائم کریں گے جو گلگت بلتستان کے اساتذہ کو معیار ی تعلیم دینے کی تربیت دی جائے گی جس سے سرکاری سکولوں میں اعلیٰ معیار کے تعلیم کے فروغ کے لیئے مثبت پیش رفت ہو گی اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے کے لیئے بھی اقدامات اُٹھائینگے گلگت بلتستان میں زلزلے سے متاثرہ اور پرانے بوسیدہ سکولو ں کی نشاندہی کر کے ان کی مرمت یا متبادل جگے کا انتظام کیا جائے گااور طلباء و طالبات کی جان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔

گورنر گلگت بلتستان نے سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو مزید فعال بنانے لیئے ہدایات جاری کئے اور خصوصی افراد کو معیاری تعلیم مہیا ہوسکے اور معاشرے کے عام افراد کی طرح اپنی زندگی بسر کر سکیں ان کو درپیش تعلیمی مشکلات کے حل کے لیئے میں اور میرا آفس ہر ممکن مدد کریگا۔گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کے لیئے خواتین کا اہم کردار شامل ہے اس لیئے ویمن ڈولپمنٹ کے ادارے کو مضبوط اور موثر بنایا جائے اور گلگت بلتستا ن کے تمام اضلاع میں اس کے دفاتر کھولے جائیں تاکہ گلگت بلتستان کی خواتین بھی علاقے کی تعمیر و ترقی میں مزید اپنا کردار ادا کرسکیں ۔

گورنر گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستا ن میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے اشتراک سے سکول اور کالجز کھولے جائیں گے اس سے گلگت بلتستان میں طلباء و طالبات مختلف ہُنر سیکھیں گے اس سے اپنا کاروبار اور ر وزگار کے ذرایعے بھی پیدا کر سکیں گے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔