حسن کائنات کا تقاضا

حسن کائنات کا تقاضا

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اقبال حیات آف برغذی
اللہ رب العزت نے اس کائنات کوبنی نوع انسان کے لئے بنایا ہیں اس کی تخلیق میں ایسے رنگ بھرے ہیں جس میں ایک طرف انسان کی زیست کے نمایاں پہلو شامل ہیں تو دوسری طرف اس کی رنگینیاں اور رعنائیاں نظروں کو لبھانے کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔جہاں سرسبز وشاداب اور لہکتے ہوئے مختلف النوع اشجار ہیں وہاں رنگ برنگ چہکتے ہوئے پرندے۔دونوں کی حیات ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی بقا کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ انسان اپنی بقا سے وابستہ خالق کی تخلیق کی بیخ کنی کرتے ہوئے کائنات کے بدن سے اس کا لباس اتارنے پر تلاہوا ہے۔اس ضمن میں جہاں جنگلات اور دیگر اشجار کی بربادی کیلئے کلہاڑی کا دھارا تیز کرکے برسر پیکار ہے وہاں کندے پر بندوق سجائے پرندوں کی نسل کشی کی مہم کا بیڑہ اٹھارکھا ہے۔یہاں تک کہ بچوں کے ہاتھوں میں غلیل تھماکر انہیں اس مہم میں شامل کرنا ان کی بنیادی تربیت کا ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے۔اور یوں پدی سے لیکر مارخور تک پرندوں اور جنگلی حیات کی نسل کشی کا افسوسناک عمل جاری ہے۔اور اس بے دردی اور بے رحمی کی انتہا یہاں تک ہے کہ موسمی مرغابیوں کی آمد کے ایام سے قبل ہی دریا کے سنگ سنگ کثیر رقم خرچ کرکے تالاب بنائے جاتے ہیں اور ان تالابوں کے آس پاس گھات لگائے اس خوبصورت مخلوق کی آمد کا انتظار کیا جاتا ہے۔اسی طرح فاختوں کی نقل مکانی کے ایام میں ہر درخت کے نیچے بندوق بردار بیٹھا نظر آتا ہے اور یوں مذکورہ نسل کے پرندوں کا چترال کے خوبصورت موسمی پرندہ ،مایون،کوبھی،انجیرپگنے کے بعد گونگا قرار دے کر نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا جاتا اور ساتھ ساتھ انڈوں پر بیٹھے ہوئے چکور اور تیتر بھی اس ظلم کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ نہیں رہتے۔درحقیقت اسے شکار کانام نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ شکار کے بھی کوئی قواعد وضوابط اور اصول ہوتے ہیں۔اسے انسانی لبادھے میں درندگی سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔اس بے دردی سے کائنات کی رفق کا ایک اہم پہلو بگڑنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے مکینوں کی حیات کیلئے اہمیت کاحامل عنصر بھی معدوم ہوتا جاتارہا ہے۔جس کی وجہ سے انسانی صحت پر اس کے منفی اثرات نمایاں طورپر مرتب ہوتے جارہے ہیں۔اگرچہ کائنات کے اس حسن کو بچانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر مختلف ادارے کام کررہے ہیں۔مگر ان اداروں کی کاوشیں خاطر خواہ نتیجہ خیز ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں خصوصاًکم ترقی یافتہ ممالک جہاں خواندگی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ان اداروں کے مثبت فوائد نکلنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے اس اہم قومی معاملے کی طرف خصوصی دہیان دینا ہم سب کا فرض بنتا ہے جہاں ہمارے یہ خوبصورت علاقے اللہ رب العزت کی عطا کردہ رنگینوں سے سجتا ہیں وہاں سرکار دوعالمﷺ ’’کے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والے تم پررحم کریں گے ارشاد کی تعمیل بھی ہوسکے‘‘۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔