کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

گذشتہ دس سالوں کے دوران یعنی 2009میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دئیے جانے والی نیم صوبائی سیٹ اپ اور 2018 میں پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے جاری کردہ آڈر اور اب 2019 میں نئی حکومت کی جانب سے نئے سال کا تحفہ عبوری صوبہ بنانے کی باتیں سن کر مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو اس وقت گلگت بلتستان پرہی فٹ آتی ہے،کہانی کچھ یوں ہے کہ قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دوھ د پلارہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت کم و بیش تیس ہزار ڈالر ہے،خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا،جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا یہ میری پالتو بلی ہے،پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجئے،خاتون نے فورا پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی،لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا، میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کام کا نہیں رہا،برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجئے تاکہ میں اس پیالے میں بلی کو دوھ د پلایا کروں گی،دکان دار نے کہامحترمہ! میں یہ پیالہ آپ کو نہیں دے سکتا،کیونکہ اس پیالے کو دکھا کرمیں اب تک 300بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔اب اس کہانی کے تناظر میں دیکھیں تقریبا ایسی ہی حالت یہاں بھی نظر آرہی ہے، کبھی نیم صوبائی سیٹ اپ دکھا کر کبھی آڈر جاری کرتا ہے تو کبھی عبوری صوبے کے نام پر غیر معمولی اختیارات کا سوشہ دکھاکریہاں کے عوام سے اختیارات مکمل چھین لیا جاتا ہے، پہلے تو ہمیں اکہتر سالوں سے حقوق اور شناخت نہیں مل رہی اوپر سے طرح طرح سے ہمیں بے قوف بھی بنایا جارہا ہے اور ہم ہے کہ خوش ہوتے جارہے ہیں، نام بدل بدل کر جتنے بھی اصلاحاتی پکیجز آئے یہ ہماری منزل نہیں بلکہ ہماری منزل یا تو مکمل آئینی صوبہ ہے یا پھر اقوام متحدہ کی قراداوں کے مطابق خود مختار ریاست اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی ہے،عبوری صوبے کے فوائد اور نقصانات سے ہم واقف نہیں بس چیف جسٹس صاحب کے حکم کے مطابق جس میں انہوں نے فرمایا کہ”جوبھی فیصلہ آئے گاگلگت بلتستان کے عوام کو اس پہ خوش ہونا چاہیے” اس پر من و عن عمل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے،جبکہ یہاں کے عوام کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ عبوری صوبہ کے نام پہ قومی و صوبائی اسمبلی سمیت کسی بھی قومی فورم پر برائے نام نمائندگی ملے بلکہ ہم دیگر صوبوں کے برابرآئینی حقوق اور اپنی شناخت چاہتے ہیں سالوں سے آئینی حقوق کے منتظر یہاں کے عوام کو عبوری صوبہ اور مزید اصلاحاتی پیکجز کے لالی پاپ دیکر کردل بہلانے کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں چونکہ عبوری صوبہ بننے کی صورت میں ٹیکسس کی نفاذ سمیت تمام آئینی شکنجے متحرک ہوجائیں گے اور مطلوبہ حقوق بھی حاصل نہیں ہوگاتویہاں کے عوام کا حشر بلوچستان سے بھی بدتر ہوگااس صورت حال سے پھر مزید الجھنیں پیدا ہوسکتی ہے ہاں اگر عبوری صوبے کا نقشہ جموں کشمیر طرز کا ہوتوہمارے لیے برا نہیں ہوگا کیونکہ وہاں پر مقامی افراد کو بنیادی حقوق حاصل ہے جس کے مطابق ملکی قوانین اور فیصلہ سازی میں وہاں کے عوام کی رائے سنی جاتی ہے اور وہاں ڈیمو گرافی بدلنے کی بھی اجازت نہیں یعنی غیرمقامی افرادوہاں نہیں بس سکتے جسے عام طورپرسٹیٹ سبجیکٹ رول ہی کہا جاتا ہے اگر ایسا نظام گلگت بلتستان میں بھی رائج کیا جائے اور اسے پاکستانی آئین میں واضح کیا جائے تو یہ عوام کی مفاد میں ہے بصورت دیگر ہماری متنازعہ حثیت کو تسلیم کرتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ رول سمیت تمام متنازعہ حقوق بحال کیا جائے تاکہ ہماری زمینیں ہمارے پاس رہیں چند سالوں سے یہاں غیر مقامی افراد کی آمد اور حکومتی سطح پر یہاں کے عوام کی اراضی زمینیوں پر قبضہ گیری نیگ شگون نہیں جس سے ثابت ہورہا ہے کہ یہاں کے عوام کی مستقبل محفوظ نہیں ہے،دوسری جانب بڑی ہوشیاری سے ڈسٹرک سطح پر نمبرداری نضام کو دوبارہ بحال کیا جارہا ہے تاکہ دونوں ہاتھوں سے غریب عوام کو لوٹے اور یہ ڈوگرا راج کو دوبارہ مسلط کرکے عوام کو سیدھا کرنے کی ایک گناؤنی سازش لگ رہی ہے جسے کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ میں عبوری صوبے سے متعلق فیصلہ تو محفوظ ہوگیا لیکن یہاں کے عوام ہمیشہ کیلیے غیر محفوظ ہونے کا خدشہ ہے ۔سمجھ نہیں آرہا اگر گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بن سکتا تو یہ عبوری صوبے کے نام پہ کیا تماشہ کھیلا جارہا ہے؟کیوں قوام متحدہ کے قراداوں کے مطابق فیصلے پر عمل نہیں ہورہا؟پہلے اس عبوری صوبے کی حثیت کو عوام کے سامنے واضح کیا جائے،جمہوری حکومت میں عوامی مسائل سے مربوط ہر فیصلے میں عوامی رائے کا شامل ہونا ضروری ہے لہذا جی بی حقوق کے حوالے سے جو بھی فیصلہ متوقع ہو اس میں عوامی رائے ضرور شامل ہونی چاہیے چونکہ صدیوں سے محروم و محکوم عوام نے اب تک وطن عزیز سے وفاداریوں کی عظیم مثال قائم کی ہے دنیا میں اس وقت علٰحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہے لیکن یہاں کے باوفا لوگ اکہتر سالوں کی محرومیوں کے باؤجود بھی الحاق کی باتیں کررہے ہیں،اس کے باؤجود بھی حکمرانوں کی جانب سے مسلسل نظراندازکرنے کا یہ سلسلہ نہ رکا تو شاید زیادہ دیر تک یہاں کے عوام بھی برداشت نہ کرسکے اور وہ سب کچھ ہوجائے جوہم نہیں چاہتے کیونکہ دشمن بھی اسی تاک میں ہے کی کسی طرح ملک عزیز کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے اور ممکن ہے یہاں کے عوام کی ذہنوں میں بھی احساس محرومی کی باتیں آرہی ہولیکن امید ہے کہ ہم ملک عزیز کے ساتھ وفادار تھے وفادار ہیں ار وفادار رہیں گے۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

ایک جانب سے عبوری صوبے کا سن کر یہاں کے لوگوں میں خوشی بھی پائی جارہی ہے تو دوسری جانب سے ہمیشہ کی طرح دل بہلانے اور مستقبل کی کوئی امید نظر نہ آنے پر دل خون کے آنسو بھی رو رہا ہے ۔اب مایوسی کی آنسو بہاتے ہوئے بظاہر خوشیوں کی تالیاں بجانا ہماری قسمت بن چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments