لکھاری

لکھاری

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج صبح بچے داخلہ فیس مانگ مانگ کے تھک ہار کے اکھیوں سے نیر بہا بہا کے سکول سدھا رے ہیں ۔بچے صرف دو ہیں وہ بھی گورنمنٹ سکول میں پڑھتے ہیں فیس بورڈ کے سالانہ امتحان کے لئے 1000,1000 روپے ہیں ۔ ماں بڑبڑا رہی ہے۔ لکھاری نے آج رات کل کے لئے اپنا کالم تیار کیا ہے موضوع غربت ، ناانصافی بے روزگاری ، طبقاتی تقسیم اور آگے اس بات کا رونا روتا ہے ہ اہل قلم اہل دانش اور اہل علم سہولیات ، پیسوں ، چھپر اور کسی زمانے میں ایک بے مثال عوامی لیڈر جو جاگیردار بھی ہو ا کرتے تھے آپ کے سیاسی نعرے ’’ روٹی ،کپڑا ،مکان ‘‘ سے محروم ہیں ۔ انہوں نے اپنے کالم میں اہل قلم کا رونا رویا ۔۔لکھا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اہل قلم کو ’’ شوشل ڈاکٹر ‘‘ کہا کرتے ہیں کیونکہ وہ معاشرے کی خرابیوں ، کمزوریوں اور برائیوں کی نشاند ی کرتے ہیں ۔مسائل دریافت کر کے ان کا حل ڈھونڈتے ہیں یہ انسانی معاشرے کے نباض ہوتے ہیں ۔گائیڈ ہوتے ہیں۔روشنی کے مینار ہوتے ہیں۔فخرموجوادت ؐ نے اہل قلم کی روشنائی کو مجاہد کی تلوار اور شہید کے لہو کی مانند کہا ہے زند ہ قو میں ان کو سرپہ بیٹھاتے ہیں ۔کالم نگار نے اپنے کالم میں لکھا ہے ۔کہ انگریزوں کے محبوب شاعر جون کیٹس لنگڑا کر چلتے تھے معاشرے کے نوجوان ان کی دیکھا دیکھی لنگڑا لنگڑا کے چلتے ۔۔ کالم نگار آہ بھرتا ہے کہ معاشر ے میں اس کے قلم کی قد ر نہیں ۔نہ اس روشنائی کی قدر ہے۔ نہ ان الفاظ کی قدر ہے ۔کتنے قلم کار ہیں جودردر کی ٹھو کریں کھارہے ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ ان کے قلم کی قدر کرے زندہ قوموں کو زندہ رکھنے کے لئے اہل قلم ہراول دستے کاکردار ادا کرتے ہیں ۔ان کو ’’ گھر ‘‘ چاہیے ۔ ان کے ’’ گھر ‘‘ روشنی کے مینار ہوتے ہیں ۔یہ وہ گھر ہیں جن میں اہل قلم رہتے ہیں علم والے۔۔۔۔۔۔بے اختیار اللہ کی کتاب کی یہ آیت اس کی زبان سے تلاوت ہوتی ہے۔۔ ’’ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوتے ہیں ہر گز نہیں۔۔۔
کالم نگار کے کالم اخبار میں چھپتے ہیں مگر اس کو ایک روپیہ بھی نہیں ملتا ۔اس کو اپنے الفاظ کی بے قدری ، اپنے جملوں کی بے احترامی پہ غصہ آتا ہے۔۔ وہ گھر سے نکلنے کی تیار ی کر رہا ہے کالم تہہ کر کے جیب میں ٹھو نستا ہے ۔۔جب جوتا پہنے کے لئے اُٹھا تاہے تو ہنسی آتی ہے ڈپٹی نذیر احمد کے جوتے یاد آتے ہیں جو مہینوں پالش سے محروم ہوتے ہیں ۔قہقہالگا تا ہے کتاب کا ٹائٹل یاد آتا ہے ۔۔ ’’نذیر آحمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ اپنی زبانی ‘‘ ۔۔ دونوں جوتے زور سے آپس میں ٹکر ا کے جھاڑتا ہے۔۔ اس لمحے اس کو وہ سارے ٹھکیدار ،نمبر دار ، تھانیدار ، جاگیردار ، سرمایہ دار یاد آتے ہیں ۔ ان کی چمکتی گاڑیاں اور چمکتے جوتے بھی ۔ پھر ایک لخت لرزہ برآند ام ہوتا ہے ۔اپنی جیب ٹٹولتا ہے ۔اور اپنے قلم کو مضبوطی سے پکڑتا ہے ۔نیلی چھت والے سے مخاطب ہوکر کہتا ہے ۔میرے آقا! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔ کہ تو نے انہیں دولت دی اور مجھے قلم دیا میرے مولیٰ میں تیری تقسیم سے راضی ہوں۔ گھر سے نکل کر اخبار کے دفتر پہنچتا ہے ۔ایڈیٹر سر اُٹھا تا نہیں مگر آج سراُٹھا تاہے سلام کاجواب دیتا ہے وہ اپنا کالم اس کی میز پہ رکھتا ہے ۔جناب سنا ہے کہ حکومت لکھا ریوں کو مراعات سے نواز نے کا سوچ رہی ہے اخبار میں خبر آئی ہے کہ یہ مہذب معاشرہ ہے یہ اسلامی جمہوریہ ہے ۔ یہ فلاحی ریاست ہے اس کے حکمران بے حس، بے زرد ، بے خبر ، بد مزاق نہیں ۔یہ اپنے ملک کے اہل دانش اور اہل قلم کو مراعات سے نوازدیں گے ۔ا ن کے جوتے بھی چمکیں گے ۔ا ن کے بچو ں کی فیس بھی بروقت ادا ہوگی ۔ ان کورہنے کو گھر ہوگا وہ کالم لکھیں گے تو کالم کا اعزاز یہ ان کو ملے گا وہ ان پیسوں سے زندگی کی گاڑی چلائیں گے ۔مزید جذبہ اُبھرے گا خوبصورت کالم لکھیں گے الفاظ سے خوشبو آئے گی ۔۔ پتہ نہیںآج ایڈیٹر صا حب کو کیا ہوگیاتھا ۔۔کالم نگا رکے لئے یہ الفاظ خواب سے کم نہ تھے کہ انکے کالم کا کوئی معاوضہ ان کو ملے گا ۔حکومت ان کی خبر گیری کرے گی ۔ا ن کے قلم کی حرمت کا لحاظ رکھا جائے گا ۔وہ فرشی سلام کر کے دفتر سے نکلتا ہے ۔ا ن کے دماغ میں ایک ہلکا سا سرور اور ایک ہلکی سی احساس برتری آگئی ہے ۔وہ اس سمے چمکتی گاڑیوں ، جاگیر وں اور دولت سے مرغوب نہیں لگتا ۔ اس کو پہلی بار اپنے پیارے پاکستان اور اپنی پیاری سرزمین پہ بہت پیار آتا ہے ۔اس کو لگتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اسمبلی فلور پہ جائے اورہر ہر کرسی کو چھومے ۔وزیراعظم کے اس قلم کو بوسہ دے جس سے لکھاریوں کے لئے مراعات کے ارڈرپہ دستخط ہوا ہے ۔وہ خیالات میں نوٹ گنتا ہے ۔ اس کے بچوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ چمک ہے ۔اس کی بیوی اس کے احترام میں کھڑی ہوتی ہے ۔اب اس کا اپنا کمرہ ہے ۔ کمرے میں لکھنے کی میز ہے ۔کرسی ہے ۔پورا سکون ہے ۔دور کہیں سے آواز آتی ہے لکھاری کو ڈسٹرپ نہ کر و ۔ اس کو پرسکون ماحول چاہیے۔ انہی خیالات میں اسے یاد آتا ہے کہ لکھتے ہوئے اسے چو ہا رہ کھا نے کی عادت ہے ۔وہ ریڑھی بان کی ریڑھی کے قریب کھڑا ہوتا ہے ۔اس کے سامنے چوہارے بھی ہیں اور پرانے خبار بھی ۔وہ چوہارا خریدنے اپنی جیب سے دس کا اکلوتا نوٹ نکالتا ہے ۔مگر پرانے اخبار کے ٹکڑے پر اپنا کالم دیکھ کر تڑپ اُٹھتاہے ۔چوہارے کی جگہ اخبار اُٹھا تاہے ۔اخبار ریڑھی بان مفت دیتا ہے ۔وہ دس کا نوٹ واپس جیب میں ڈالتا ہے ۔اور اخبار کا ٹکڑا اُٹھا کر روانہ ہوتا ہے ۔مگر یہ خبر اُمید بن کر اس کی روح میں سراہت کرگئی ہے کہ حکومت انشاء اللہ لکھاریوں کو مراعات سے نواز ے گی ۔ اس لئے کہ اس کو اہل قلم کی قدر کا احساس ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔