اٹھارہ سالوں سے لکڑی کے برتن اور دیگر آلات بنانے والے ساٹھ سالہ ہنرمند میون خان کی کہانی

اٹھارہ سالوں سے لکڑی کے برتن اور دیگر آلات بنانے والے ساٹھ سالہ ہنرمند میون خان کی کہانی

105 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (فرمان کریم)  گزشتہ اٹھارہ سالوں سے ضلع گلگت کے علاقے جگلوٹ (گورو) کا رہائشی میون خان شاہراہ قراقرم کے کنارے بیٹھے لکڑی کے شاہکار برتن بنا رہا ہے۔ ان کی عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ ہے۔ لکڑی کے برتن بنانے کا ہنر انہوں نے اپنے والدسے سیکھا، جو اسی پیشے سے وابستہ تھے۔

میون خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فن میں 28 سے زیادہ شاگردوں کو تربیت دی ہے

میون خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فن میں 28 سے زیادہ شاگردوں کو تربیت دی ہے

میون خان کا کہنا ہے کہ یہ اُس کا خاندانی پیش ہے۔

“والد کے بعد میں نے یہ پیشہ کل وقتی طور پر اپنایا ہے۔ اس پیشے سے گھر کا خرچہ پورا تو نہیں ہوتا ہے لیکن میں اس ہنر کو کھونا بھی نہیں چاہتا ہوں۔ اپنے آباو واجداد کا ہنرزندہ رہنا چاہتا ہوں۔”

میون خان کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں بجلی کی قلت کے باعث انہوں نے جگلوٹ کے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے نالے کے کنارے اپنا چھوٹا سا کارخانہ بنایا ہے۔

“نالے میں اوپر سے بہتے پانی کا دھارا مشین چلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے لیکن یہ جگہ محفوظ نہیں ہے۔ 2010 کے بدترین  سیلاب میں میرا یہ چھوٹا سا فیکٹری بھی سیلاب کی نذر ہو چکا تھا۔”

“سیلاب نے میرا فیکٹری تو تباہ کردیا لیکن میرا حوصلہ پست نہ کر سکا۔ میں نے ہمت نہیں ہاری، بلکہ اسپرمشقت کام میں مزید دلچسپی لی۔ کیونکہ یہ میرے پسند کا کام ہونے کے ساتھ ساتھ میرے معاش کا زریعہ بھی تھا۔”

میون خان کا کارخانہ شاہرہ قراقرم کے کنارے پر جگلوٹ نامی گاوں میں میں واقع ہے

میون خان کا کارخانہ شاہرہ قراقرم کے کنارے پر جگلوٹ نامی گاوں میں میں واقع ہے

میون خان کا کہنا ہے مہنگائی کی وجہ سے لکڑی کی قیمت بھی زیادہ ہو گئی ہے جس سے برتنوں اور دیگر آلات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

“لکڑی کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ آج کل لوگ لکڑی کے برتن بھی زیادہ استعمال نہیں کرتے ہیں۔ لوگ سٹیل، پلاسٹک اور شیشے کے برتن استعمال کرتے ہیں۔ محنت زیادہ ہونے کی وجہ سے لکٹری کے برتنوں کی قیمت بھی نسبتا زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لئے طلب کم ہے۔پھر بھی  لوگ  میرے پاس آتے ہیں۔ میرے کام کو دیکھتے ہیں۔ میرے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ صاحب استطاعت لوگ میرے بنائے ہوے برتن خرید بھی لیتے ہیں۔”

اُن کا مزید کہنا ہے کہ اب تک انہوں نے 28 شاگرد اس پیشے میں تیار کئے ہیں۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس پیشے کی طرف توجہ نہ ہونے اس وقت ان کے شاگرد اس میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔

“سوائے قراقرم بنک کے کوئی بھی مالیاتی ادارہ یا بینک اس پیشے کی ترقی کے لئے قرضہ جات کی فراہمی میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔”

برتنوں کو دیکھ کر یہ بالکل بھ ینہیں لگتا ہے

برتنوں کو دیکھ کر یہ بالکل بھی نہیں لگتا ہے کہ انہیں اتنی صفائی کے ساتھ انسانی ہاتھوں نے تخلیق کیا ہے

میون خان کا عزم جوان ہے کہ وہ بہت جلد اس مشکل حالات سے نکل کر اس ہیشے کو اپنے آنے والے نسلوں کے لئے مزید مستحکم اور بہتر معاش کا زریعہ بنائے گا۔

میون خان نے اب تک لوک ورثہ اسلام آباد ، سلک روٹ فیسٹیول کے دوران اپنےتخلیق شدہ چوبی برتنوں اور دیگر اوزار کو نمائش پر رکھا ہے۔ انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں اپنے ہنر کو بہتر بنانے کے لئے ایک تربیتی کورس میں بھی حصہ لیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت گلگت بلتستان اس ہنر مند محنت کش بزرگ کی سرپرستی کر کے اسے سیاحوں اور دیگر خریداروں تک رسائی حاصل کرنے میں کس طرح مدد فراہم کرتی ہے۔

میون خان کے ہنر مندہاتھ اپنا جادو جگا رہے ہیں

میون خان کے ہنر مندہاتھ اپنا جادو جگا رہے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔