گانچھے میں اولین دو روزہ ضلعی تعلیمی کانفرنس اختتام پزیر

گانچھے میں اولین دو روزہ ضلعی تعلیمی کانفرنس اختتام پزیر

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 گانچھے(حبیب الرحمان) پہلی ضلعی تعلیمی کانفرنس دو یوم جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگی دوسرے روز کانفرنس کے میر محفل محمد ابراہیم ثنانی وزیر تعلیم تھے دوسرے روز کے تیسرے سیشن میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے اپنے مسائل اور تعلیمی کارکردگی و تجاویز سے شرکاء تقریب و ارباب اختیار تعلیم کو آگاہی فراہم کی ۔دوسرے روز کے اس کانفرنس میں غلام حسین ایڈوکیٹ MLAطارق ،طارق حسین ڈی سی گانچھے ڈائریکٹر ایجوکیشن مجید خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر حاجی محمد ابراہیم نے شرکت کی۔

پریس کلب گانچھے کے صدر زوہیر اسدی نے کہا کہ امید سحر محکمہ تعلیم میں انتظامیہ میں تبدیلی کی بدولت ہو چکی ہے اس میں پریس اور میڈیا آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔غلام حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے تقریبا تمام سکولوں کا دورہ کر چکا ہوں ایک سکول میں دن کے 10بجے ہیڈ ماسٹر کے آفس میں مصلہ بچھا پایا انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اساتذہ کا ادب و احترام کرتے ہیں انہی اداروں سے ہم نے تعلیم پائی ہیں اور ہمیں اساتذہ اور اداروں پر فخر ہے انہوں نے دوران خطابت یہ بھی انکشاف کیا کہ ناظم تعلیم مجید خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد ابراہیم کو بلتستان زون میں لانے کا درپردہ ان کا اور وزیر تعلیم کا ہاتھ ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد ابراہیم نے اپنے مختصر خیالات میں گلگت سکردو شگر اور دیگر اضلاع سے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ادنی کارکن ہوں اور ساحل پر بیٹھ کر سمندر کی لہروں کا نظارہ کرنے کا عادی ہوں تعلیم کی فروغ کیلئے ہر اول دستے کی حثیت سے خدمات سر انجام دیتا رہوں گا اور ضلع گانچھے کو تعلیمی بلندیوں کیلئے کوشان رہونگا ۔ صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کہا کہ ایجوکیشن سٹریٹیجی جی بی اسمبلی پاس کر چکی ہے اس کے بدولت بہت جلد 750اساتذہ 90لیکچرار میرٹ پر بھرتیوں کا عمل شروع ہو جائے گا اور اساتذہ کو سیاست اور مذہبی امور میں دلچسپی کو میں نے اپنی سیاسی کیریر میں مشاہدہ کیا ہے ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں ادارے کے سربراہان برداشت نہ کریں ، ماضی کی حکومت نے ایجوکیشن کے ساتھ دہشتگردی کی ہے جس کی وجہ سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں غیر قانونی بھرتیوں کو ہم نکال بھی نہیں سکتے نہ ہی ان کو ایسے چھوڑ کے رکھ سکتے ہیں کیونکہ غیر قانونی طور پر بھرتی کئے گئے اکثر اساتذہ پڑھا نہیں سکتے۔

ڈائریکٹر مجید خان نے میزبانی کرتے ہوئے شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا انہوں نے وزیر تعلیم اور غلام حسین ایڈوکیٹ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے دعوت دی کہ محکمہ تعلیم کے خامیوں کی نشاندہی کریں انہوں نے کہا کہGBمیں 30فیصد بچے سکول نہیں جاتے ان پر بھی علم کے دروازر ے کھولنے کے لئے کوشاں ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔