ننھے شہزادے کے نام کا معمہ، ایک وضاحت اور چند تلخ حقائق

ننھے شہزادے کے نام کا معمہ، ایک وضاحت اور چند تلخ حقائق

41 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سب سے پہلے ان تمام احباب کا از حد شکریہ جوہمارے ننھے شہزادے، ہمارے نورِنظر سمیر اذین کریمی کی پیدائش پر بنفس نفیس ہماری رہائش گاہ تشریف لاکر ہماری خوشی میں شامل ہوئے، کالز کئے، خطوط بھیجے، سوشل میڈیا پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے، منظوم تاثرات سے نوازا، اخبارات میں خصوصی مضامین لکھے اور ہر طرح سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یقین کیجئے گا آپ کی آمد اور آپ کے پیغامات نے ہماری خوشی کو دوبالا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے۔ چلتے چلتے ان احباب کا بھی شکریہ جو ہمارے فیس بک فرینڈز لسٹ میں شامل تو ہیں لیکن احساس شمولیت سے یکسر عاری۔۔۔ شاید ایسے ہی حالات میں مجھے کہنا پڑا تھا:

کھلا یہ مجھ پہ بہت کچھ یہاں مقابل ہے
کبھی زمیں تو کبھی آسماں مقابل ہے

کریمی! کتنی بلندی پہ ہے ذرا دیکھو!
کہ میں اکیلا ہوں سارا جہاں مقابل ہے

میں ایسے لوگوں کی بہت قدر کرتا ہوں جو مجھ سے اختلاف رکھتے ہیں، میرے پیش نظر بشیر بدر کا یہ شعر ہوتا ہے:

مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
میں دُشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں

اس خوبصورت شعر پر ہم نے بھی گرہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ جیسے:

ملا ہے اُن کی بدولت ہی یہ مقام مجھے
“میں دُشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں”

سچی بات تو یہ ہے کہ زندگی کے سفر میں آگے بڑھنے کے لیے ایسے لوگوں کا وجود بھی ازحد ضروری ہے۔ کہنے والے نے تو یہاں تک کہا ہے کہ “جو لوگ تم سے جلتے ہوں اُن کی جلن کی قدر کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو تم کو خود سے بہتر سمجھتے ہیں۔”

میرزا غالب کے حوالے سے ایک قصہ مشہور ہے جو نصاب کی کتابوں کا حصہ ہے۔ کہتے ہیں غالب کی ایک غزل پر ان سے جلنے والوں نے ان کی غزل کو چربہ اور سرقہ سازی کا نتیجہ کہا۔ جس پر غالب کے کسی چاہنے والے نے ان سے شکایت کی کہ “حضرت کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے آپ کی غزل کی آڑ میں آپ پر طرح طرح کے الزامات لگائے اور آپ نے جواب تک نہیں دیا۔” غالب ہنسے اور برجستہ بولے: “جب گدھا آپ کو لات مارے تو آپ کیا جواب دینگے۔” سچ پوچھئے تو اس ایک جملے میں ہی ان کے دشمنوں کو جواب مل گیا تھا۔ وقت اور تاریخ کا کارنامہ تو دیکھئے غالب کے دُشمنوں کا نہ اب نام ہے نہ نشان لیکن غالب تاریخ میں امر ہوگئے۔ ونسٹن چرچل نے بڑے پتے کی بات کی ہے: “آپ اپنی منزل پر کبھی بھی نہیں پہنچ پائیں گے اگر آپ راستے میں بھونکنے والے ہر کتے کو پتھر ماریں گے۔”

سفر طویل ہو اور بامقصد بھی ہو تو ایسے لوگوں سے واستہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ مولانا رومی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ “جو مجھے سمجھ نہیں سکا اُسے حق ہے کہ مجھے برا ہی سمجھے۔” اسی طرح شیخ سعدی فرماتے ہین:

“میرے پاس وقت نہیں ہے ان لوگوں سے نفرت کرنے کا جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ میں مصروف رہتا ہوں ان لوگوں میں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”

جس معاشرے سے میرا تعلق ہے وہاں بدقسمتی سے حالات کچھ ایسے ہیں:

رُکتا ہوں تو ہر شخص ہی کرتا ہے ملامت

بڑھتا ہوں تو آگے کوئی بڑھنے نہیں دیتا

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ یہ وضاحت جملہ معترضہ کے طور پر آئی۔ اینی ویز بات ہو رہی تھی ننھے شہزادے کے نام کی۔ جن کے لیے میرے ہر عزیز نے ایک الگ نام اور میری بہنیں اپنی اپنی پسند کا نام لے کر حاضر ہوئی تھیں۔ ایک دفعہ پھر میرا ماضی میرا روبرو تھا۔ میرا بچپن میرے سامنے تھا۔ میرے لیے بھی محبتوں کا اظہار مختلف ناموں سے ہوا تھا۔ ان ناموں سے ابھی تک میری بہنیں مجھے پکارتی ہیں مثلاً دفتر کاکا، منشی کاکا، افسر کاکا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جن کا اظہار میں نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے کیا ہے۔ خیر ننھے شہزادے کا نام سمیر اذین کریمی رکھا گیا، سمیر کا مطلب ہے افسانہ گو، داستاں سنانے والا جبکہ اذین کا مطلب حسین اور خوبصورت، اور کریمی کے معنی ہردلعزیز اور نرم مزاج کے ہوتے ہیں۔ مگر میرے عزیزوں اور خاندان کے افراد کو شکایت ہے کہ میں نے اپنے بچوں کے نام کے ساتھ خاندانی پس منظر کا اظہار نہیں کیا ہے۔ جہاں ابا جان کو شیخانی خاندان کے فرزند ہونے پہ فخر ہیں تو وہاں امی جانی خاندانِ سادات کی دختر نیک اختر ہونے پہ نازاں۔ سو، نھنیال اور ددھیال کے تمام عزیزوں کا اسرار ہے کہ بچوں کے ناموں کے ساتھ شیخ، شیخ زادے یا شہزادے لکھنا چاہئے۔ مگر میں جو ٹھہرا روایت شکن۔ اپنے کسی شعر میں اس کا اظہار بھی ہوا ہے:

روایتوں سے کریمی کو انحراف رہا
اسی لیے تو زمانہ رقیب ہوتا ہے

انسانیت خاندان سے نہیں اچھی تربیت سے پروان چڑھتی ہے۔ بعض اونچے خاندانوں کی اولاد اس لیے بگڑ جاتی ہے کیونکہ ان کے والدین نے ان کو تہذیب سکھانے کے بجائے صرف خاندانی بڑھائی کا درس دیا جس کی وجہ سے ان میں انسانیت کم اور حیوانیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ میری دلی خواہش اور دُعا ہے کہ میرے بچے دوسروں کی طرح اپنے پُرکھوں کی ہڈیوں پہ زندگی نہ گزارے بلکہ وہ خود ایسا کام کرے کہ زمانہ ان کے ساتھ چلے، وہ رُکے تو وقت تھم جائے وہ چلے تو سارا جہاں ان کا ہمرکاب ہو۔ وہ اٹھے، بیٹھے، چلے اور بولے تو لگے کہ یہ کسی اچھے خاندان کے ہیں۔ یہ تب ممکن ہے جب ہم ان کی صحیح تربیت کرکے ان کو انسان بنانے میں کامیاب ہوں۔ بڑے بڑے خاندان اور بڑے بڑے ناموں اور قومیتوں کے ایسے لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے جن کے پاس اپنے آباو اجداد کی جھوٹی شان اور بوسیدہ ہڈیوں کے سوا کچھ نہیں۔ ہاں تعلیم تو ہے مگر تہذیب نہیں۔ شاعر کہتے ہیں:

تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس کرپٹ، مغرور اور عیاش سیاست دان، بیوکریٹس، ڈاکٹرز، انجینئرز اور آفیسرز تو وافر مقدار میں موجود ہیں مگر تہذیب یافتہ اور باکردار لوگ ندارد۔۔۔  اگر ہیں تو ان کی تعداد اتنی کم کہ اُنگلیوں پہ گنی جاسکتی ہے۔ ایک  بے حس بیوروکریٹ کی غضب کہانی یاد آئی۔ ہماری ایک دوست جو اُن کی محفل میں بیٹھی تھی۔ ہم نے ایسی محفلوں سے خود کو دُور رکھا ہے۔ دیکھئے یہ شعر:

ہمیں پاؤگے حاضر دوستو! با ذوق لوگوں میں
ہر اِک کم ظرف کی محفل میں ارزاں ہم نہیں ہوں گے

جی ہاں ہماری ایک دوست جو اُن کی محفل میں بیٹھی تھی ان کی زبانی ہم نے سنا کہ جب وہ بیٹھے تھے ان کے بقول اتنے میں کچھ اساتذہ آئے، محفل میں موجود تمام لوگ ان کی تعظیم میں کھڑے ہوئے، مگر بڑے آفیسر نے کھڑا ہونا تو دُور کی بات، سلام کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بڑا آفیسر بھی ان اساتذہ کا شاگرد رہا تھا۔ ہماری دوست کا کہنا ہے جب اساتذہ چلے گئے تو ہم نے بڑے آفیسر سے وجہ پوچھی کہ “جناب کیا وجہ ہے آپ اساتذہ کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوئے لیکن سلام کا جواب تو دیتے، آخر آپ ان کے شاگرد رہے ہیں۔” بڑے آفیسر ایک شانِ بے نیازی سے گویا ہوئے “یہ میری نوکری کی نیچر، پروٹوکول اور ریکوائرمنٹ ہے اساتذہ کیا میرا باپ بھی آجائے تو میں کھڑا نہیں ہوسکتا۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صاحب کو ایک بڑے خاندان کے چشم و چراغ ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور بڑی شان سے کچھ عرصے سے اپنے نام کے ساتھ راجہ بھی لکھ رہے ہیں۔ شاید ایسے لوگوں سے مخاطب ہوکر کسی شاعر نے کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے:

ہر لمحہ بڑے ہونے کا احساس ہے ان کو

یہ لوگ کسی اونچے گھرانے کے نہیں ہیں

مگر سچ تو یہ ہے:

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ماتھے پہ کسی کے کچھ نہیں لکھا ہوتا۔ حالیہ ایک تحقیق کے مطابق ایسے لوگوں کے بارے میں دلچسپ انکشافات ہوئے ہیں جو مغرور ہوتے ہیں، بات بات پہ بدتمیزی کرتے ہیں، جن کی اپنی عزت ہوتی ہے نہ خاندان وہ دوسرے باعزت لوگوں کو بھی نہیں بخشتے بلکہ ان کی بھی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں، مولا علی علیہ السلام کے بقول ہمیشہ مکھی کی طرح گندھی چیزوں پر بیٹھتے ہیں تو یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ایسی اولاد اپنے باپ سے نہیں بلکہ اپنی ماں کے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ڈرٹی پکچر سے ڈرٹی پکچرز ہی جنم لیتی ہیں ناں۔ اس حوالے سے فلم ڈرٹی پکچر یا باغبان دیکھی جائے تو مزید وضاحت ہوگی۔

ہم نے اس لیے آشا سوزین کریمی اور سمیر اذین کریمی کے ناموں کے ساتھ خاندانی پس منظر کا اظہار نہیں کیا۔ اگر ہم ان کی صحیح تربیت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کا کردار بتا دے گا کہ وہ واقعی انسانی صورت میں فرشتے ہیں اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہوتا تو انہیں اپنے اونچے خاندان کے بگڑے شہزادے/شہزادی ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔ اللہ پاک ان کا حامی و ناصر ہو کہ آشا اور اذین اچھے انسان بن جائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments