خود کردہ را علاج نیست!

خود کردہ را علاج نیست!

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

موجودہ صورت حال کو دیکھ ایسا لگتا ہے کہ اس خطے میں جمہور کا بس یہی جرم ہے کہ یہاں جمہوریت کے نام پر جھوٹ کے سہارے بلند بانگ دعوں کے ساتھ عوامی زندگیوں میں تبدیلی کا نعرہ لگا نے والوں کو نمائندہ منتخب کرتے ہیں جو اچھے مراعات اور بہتر پروٹوکول کو سیاست کا نام دیکر حاصل کل سمجھتے ہیں۔یعنی ہم ایسے منجمد معاشرے میں رہتے ہیں جہاں متحرک ہونا جرم ہے اگر ایسا نہیں تو یکم نومبر کی یوم آذادی سے لیکر سولہ نومبرکی کہانی اور پھر معاہدہ کراچی کے نام پر ہمیں محکوم بنانے کاعمل ہمارے منجمد ذہنوں کو کھولنے کیلئے کافی تھا۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم نے تاریخ کو جھوٹا ثابت کرکے اقوام متحدہ کی قردادوں کو مسترد کیا ،پھر یہاں سے سٹیٹ سبجکٹ رول کو ختم ہوتے دیکھا ،اس نظام کی خاتمے کے بعد اُنیس اٹھاسی میں افغان مہاجرین کو گلگت بلتستان میں بسانے کیلئے ریاستی اداروں کی سرپرستی میں یہاں طالبان کو یلغار ہوتے دیکھا ، شگھریلا اور دیگر خوبصور ت سیاحتی مقامات پر زور زبردستی غیر مقامی لوگوں کو قبضہ کرتے دیکھا، بلکہ اُن کی مہمان نوازی کرکے اپنے گھروں کے دروازے اُن کیلئے کھول دئیے۔ہم نے چلتے راہ شناختی کارڈ چیک کرکے لوگوں کو قتل ہوتے دیکھا، حقوق کی راہ میں مسلکی لڑائی کرواتے دیکھا یعنی ہم نے گھر کو لوٹتے دیکھ کر بھی یہی نعرہ لگایا کہ ہمارے آباو اجداد نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا لہذا اس ملک کا آئینی اور قانونی شہری بننا ہمارا خواب اور ہماری منزل ہے۔ صلہ یہی ملا کہ عسکریت پسند لوگ دوسرے شہروں نے آکر یہاں ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے عسکریت پسندی کی تربیت دیتے رہے جو آج بھی جاری ہیں
لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔یعنی آئینی شہری بننے کی خواب نے ہمیں میں وہ سب کچھ دکھائی دیا جو شائد آج کل فلسطین اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔لیکن کوئی بات نہیں ہم ابھی بھی پر عزم ہیں یہی تو ایک وجہ ہے کہ ہم نے کئی ہزار عوامی ملکیتی اراضی سرکار کے نام الاٹ ہوتے دیکھ کر بھی خاموشی اختیار کرلی۔ حالانکہ متازعہ حیثیت کی وجہ سے اس طرح معاملات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ تقسیم کشمیر سے پہلے خلاصہ سرکار سے مطلب ڈوگرہ سلطنت کی زمینیں لیا جاتا تھا لیکن ڈوگروں سے بغاوت کے بعدوہ زمینیں عوامی ملکیت میں شامل ہوگئی کیونکہ پاکستان سے تمام تر وفاداریوں کے باوجود یہ خطہ آج بھی قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں ۔ شھنگریلا جیسے خوبصورت قدرتی سیاحتی مقام جو شائد دنیا میں کہیں ہو لیکن ہم نے ہمارے ہی لوگوں کی زمینوں پر زبردستی غیر مقامی افراد کا قبضہ جمانے کیلئے ریاستی مشینری کا استعمال ہوتے دیکھااور عوام سے ترجمانی کے نام پر ووٹ لینے والے خاموش تماشائی بنے رہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ جیسے میں نے اوپر ذکر کیا کہ ہم نے اس پرُامن خطے میں دہشت گردی کو پروان چڑتے دیکھا۔ لیکن کسی سے نفرت اور محبت نے ہمیں یہاں بھی دھوکھا دیا اورہم خاموش رہے کیونکہ کہا یہ جاتا ہے کہ اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات کو پروان چڑھانے میں مقامی سیاست دانوں کا بھی اہم کردار ہے جو اپنی مفاد کیلئے عوام کو اُکساتے ہیں۔ دیامر میں آپریشن کے دوران آرمی کے جوانوں اور معصوم بچیوں سمیت ایک خاتون کا شہید ہونا ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا لیکن لگتا ایسا ہے کہ یہاں بھی ہم نے ان دیکھی اور ان سُنی کرکے خود کو بری الذمہقرار دیا۔ اس حوالے سے راقم نے خصوصی طور پردیامر امورکے ماہر ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیت جناب ڈاکٹر زمان صاحب داریلی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ وہ داریل کے مسلے کو کچھ اسطرح بیان کرتے ہیں۔کئی برس پہلے کی بات ہے جب میں ایک کمیونٹی فرسٹ ایڈ کی افتتاح کرنے کیلئے چند ڈاکٹروں کے ساتھ داریل کے گاوں بشال گیا تھا روڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں گاڑیاں گیال گاوں کے ساتھ مین روڈ پر چھوڑ کر گھوڑوں پر سوارہو کر گاوں بشال جانا پڑاوہاں پہنچنے ہی روایتی انداز میں ہوائی فائرنگ کر کے استقبال کیا یوں فرسٹ ایڈ پوسٹ کا افتتاح کرنے کے بعد میرے دیگر مہمان واپس چلاس چلے گئے اور میں اپنے گاوں پھوگچ روانہ ہوا۔ وہاں کسی نے مجھے بتایا کہ کمانڈر نیسڑک کے کنارے کھڑی میری گاڑی پر حملہ کیا ہے ،یاد رہے یہ کمانڈر داریل کا نہیں بلکہ پنجاب سے آیا ہوا تھا وہ پھوگچ گاوں اور اپر داریل میں لو گوں کو خاص کر نوجوانوں کو عسکری تربیت دے رہا تھا ،وہ سرکاری تنخواہ حرام قرار دیتا تھا، سرکاری اہلکار اور حکومتی نظام کو اپنا ہدف تنقید بناتا تھا ، مجھے تعجب اس بات پر ہوا کہ سیکورٹی اداروں کی ناک نیچییہ کام جاری تھا۔رفتہ رفتہ اُس کمانڈر کے تربیت یافتہ لوگوں نے مقامی حکومت کے لئے مسائل پیدا کرنا شروع کیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ پنجابی کما نڈر منظر سے غائب ہو گیا اور علاقے میں اس کو کوئی ایجنسی کا بندہ تو کوئی اس کو جہادی طالبان کہتے تھے ان کی اس جہادی کیمپ کے بارے میں نے ایک تفصیلی کالم بھی لکھا تھا اور اس تربیت کے نتیجے میں مستقبل میں ہونے والے سیکورٹی کے خدشات کا ذکر بھی کیا تھا لیکن حکومت وقت نے حسب روایت آنکھیں اور کان بند رکھیں ۔یوں گزرتے دنوں کے ساتھ جی بی میں کہیں بھی حادثہ ہوتا حکومت ان افراد پر الزام لگا کر اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دیتی رہی. جب تانگیر میں ڈی ایس پی عطاء اللہ کا قتل ہوا تو حکومت نے سیدھا الزام اُسی کمانڈر خلیل اور ساتھیوں پر لگا دیا اور داریل پھوگچ میں جا کر کمانڈر خلیل کے گھر کو مسمارکرکے دہشت گردوں کی ہمدردوں میں اضافہ اور اُن کے ہم خیالوں کو انتقام کی آگ میں جھونک دیا اس واقع کے کچھ عرصے بعد چلاس سنٹر میں اُس آپریشن کو کمانڈ کرنے والے پولیس ایس پی ہلال ،ایک کرنل اور ایک کیپٹن کو شہید کر دیا گیا اس کے بعد حکومت کو جس کیس میں ملزم نہ ملتاذمہ دارمقامی عسکریت پسند کمانڈر خلیل ،شاہ فیصل اور حضرت نور کوٹہرایا گیا ان کی سر کی قیمت مقرر کی گئی لیکن ان کو پکڑنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔یعنی مقامی پولیس اس حوالے سے ہمیشہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اسی طرح ایک بار میں چھٹیاں گزارنے پاکستان آیا تھا قربان عید کے دوسرے دن مقامی عسکریت پسند کمانڈر خلیل، شاہ فیصل اور حضرت نور میرے گھر کھنبری آئے تھے لیکن میں گھر پر موجود نہیں تھایوں وہ لوگ مجھے پیغام چھوڑ گئے تھے وہ اپنے آپ کوقانون کے حوالے کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف ہو ۔لہذا میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے جہاں تک میری پونچ تھی اُنکا مطالبہ پونچا دیا مگر بدقسمتی سے کسی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔یعنی یہ لوگ اپنی صفائی پیش کرنے کا ارمان لئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوگیااور سیکورٹی فورسز کے کئی اہلکاروں سمیت ایک معصوم بچی اور ایک خاتون بھی شہید ہوگئی اور دو معصوم بچیاں شدید زخمی حالت میں اس وقت چلاس ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ سیکورٹی ادارے آخر کب تک اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کیلئے کردار ادا کریں گے؟ ریاستی ذمہ داران بشمول عوام کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کئی دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی اگر آئینی اور قومی شناخت کا مسلہ حل کرنے کیلئے کوئی مخلصانہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں یوں ایسا لگتا ہے کہ اس خطے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار سے لگایا جارہا ہے ۔ایسا نہ ہو کہ ایک مرتبہ پھر یہاں کے عوام دہشت گردی کے بھینٹ چڑھ جائے اور سیکورٹی ادارے ہاتھ ملتے رہ جائیں کیونکہ ماضی کے حالات اور واقعات اور موجودہ صورت حال کا مطالعہ کریں تو ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی اور حادثہ رونما خارج ازامکان نہیں۔ اللہ خیر کرے آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔