محکمہ تعلیم بلتستان کے مثبت اقدامات

محکمہ تعلیم بلتستان کے مثبت اقدامات

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : اے۔زیڈ شگری

محکمہ تعلیم کے کرپشن اور اس شعبے کی زبوں حالی کے حوالے سے ہم سنتے آئے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نطام تعلیم کا جو حشر ہوا کسی سے پوشیدہ نہیں اور محکمہ تعلیم جیسے مقدس شعبے نے کرپشن، دھاندلی اور بے ضابطگی کے تمام حدود و قیود پار کیے۔ اس مقدس شعبے کو کرپٹ ترین محکمہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں اور قوم کے مستقبل کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان پڑھ اور گریڈ ون کے متمنی افراد کو بھی ٹیچری سے نوازا گیا۔ دسیوں اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہ لیتے رہے اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا، جیسے یہ محکمہ لا وارث ہو۔ معیار تعلیم کو ادنیٰ ترین سطح تک گرایا گیا۔ اب حال یہ ہے کہ فرسٹ ائیر کا طالبعلم اردو اور انگریزی کی درسی کتب کی رود خوانی بھی ٹھیک طرح سے کر نہیں سکتے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران دیکھا گیا ہے کہ کوئی غیر قانونی بھرتیاں نہیں ہو رہیں جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ اس سال کے شروع ہی سے محکمہ تعلیم بلتستان ریجن کی طرف سے نظام تعلیم کی بہتری کے لیے کچھ عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو کہ قابل ستائش ہیں۔ جن کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ محکمہ تعلیم پھر سے ایک مقدس ادارہ بن رہا ہے۔ اب یہ ادارہ لاوارث نہیں رہا، محکمہ کے آفیسران بالا قوم کے ساتھ مخلص ہیں اور انشاء اللہ اب تعلیمی اداروں میں تعلیم کا عمل بہتر طور پر انجام پذیر ہوگا۔ان عملی اقدامات میں سے چند ایک کا ہم یہاں ذکر کریں گے۔

1۔ یکم مارچ کو اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا

اکثر دیکھا گیا تھا کہ یکم مارچ کو بیشتراسکولز تو کھل جاتے تھے مگر تمام اساتذہ کی حاضری کی کوئی گارنٹی نہیں تھی اور دور دراز کے علاقوں میں تو کبھی اسکول ہی بند رہتا تھا، مگر اس سال محکمہ تعلیم نے یکم مارچ سے ہی تمام اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مانییٹیرینگ ٹیمیں تشکیل دی اور تمام اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا۔ نا صرف اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا بلکہ یکم مارچ کو سکول حاضر نہ ہونے والے اساتذہ کی روزانہ کی اجرت بند کر کے یہ تاثر بھی دیاکہ اب محکمہ لا وارث نہیں ہے اور یہ سب کچھ صرف Formality کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ پریکٹیکل چیزیں ہیں۔

2۔ تعلیمی سال کے شروع کے ہفتوں کا بہتر استعمال

مارچ کے پہلے دو ہفتے سکولوں میں عموماً پڑھائی نہیں ہوتی۔ ان ایام میں عام طور پر نئے داخلے، رجسٹریشن، کورس کی تیاری، سلیبس کی تیاری اور اسی طرح کیدیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں گزر جاتا تھا۔ اس بار محکمہ تعلیم کی جانب سے یکم مارچ ہی کو Basic Literacy and Numeracy کا کورس متعارف کرا کر ان ایام کا بہتر استعمال کیا۔ نیز اس کورس سے پہلے اور بعد میں پری اور پوسٹ ٹیسٹ لیکر اساتذہ کو یہ بھی اندازہ ہوا کہ ان کے بچے کس لیول پر ہیں اور آنے والے تعلیمی سال میں انہیں کن چیزوں کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے بچے کس چیز میں بہتر ہیں اور کس چیزمیں زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

3۔ ڈیٹا کولیکشن کا طریقہ کار

ڈیٹا کولیکشن کے لیے عام طور پر تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو DDO یا کسی مرکزی ہائی سکول میں بلایا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے Single۔Teachered Schools سکولز تو مکمل طور پر بند ہو جاتے تھے، جبکہ ہرچھوٹا بڑا سکول متاثرضرور ہوتا تھا۔ اس بار محکمہ کی جانب سے تمام اساتذہ کو زحمت دینے اور تمام اسکولوں کو متاثر کرنے کی بجایے 12سے 15اسکولوں کے لیے ایک مقامی ٹیچرپر ڈیٹا کولیکشن کی ذمہ داری لگائی۔ جس کی وجہ سے نہ صرف درست ڈیٹا تک رسائی ممکن ہوئی بلکہ اسکولز بھی متاثر نہیں ہوئے اور اساتذہ، والدین اور بچوں کا ادارے پر اعتماد بھی بحال ہوا۔ اور اساتذہ تک یہ تاثر بھی پہنچا کہ کسی بھی لمحے کوئی بھی اس کے اسکول پہنچ سکتا ہے۔

4۔ کلاس ڈائری

کلاس ڈائری کا استعمال شائد پہلے کبھی ہوا کرتا تھا، مگر میں نے اس کا اطلاق کہیں نہیں دیکھا تھا۔ البتہ پچھلے دو تین سالوں سے مڈل اور ہائی سکولز میں کلاس ڈائری مرتب کی جاتی تھی۔ اب تمام اسکولوں کو کلاس ڈائری فراہم کیا گیا ہے اور انہیں مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ یہ ایک بہترین اقدام ہے۔ کلاس ڈائری اساتذہ کو مستعد اور چوکنا رکھتا ہے اور Self۔Accountability کو ensure کرتا ہے۔ لیکن اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سنگل ٹیچرڈ اسکولز میں اساتذہ بچوں کو پڑھائے یا ڈائری مرتب کرے؟ امید ہے کہ ایک ٹیچر والے اسکولوں کے لیے بھی کچھ اقدامات کیے جائیں گے۔

5۔ روزانہ کی حاضری کا SMS

اسکولوں میں اساتذہ کی روزانہ کی حاضری اور بچوں کی فیصد حاضری کو بذریعہ SMS روزانہ کی بنیاد پر ضلعی دفتر یا DDOآفس بھیجنے کے احکامات بھی جارء کیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسکولوں میں اساتذہ کی شرح حاضری میں اضافہ ہوا ہے اور بچوں کی حاضری کے حوالے سے بھی اساتذہ حساس ہوئے ہیں۔ اور بچوں کی حاضری کو بہتر طور پر مانیٹر کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم بلتستان ریجن کے افسران اور تمام ضلعی افسران کے خلوص اور نیک نیتی اور دن رات کی محنت ہی کی وجہ سے یہ تمام عملی اور انقلابی اقدامات ممکن ہوئیہیں جس کے لیے محکمہ تعلیم کے تمام افسران مبارک بادی کے مستحق ہیں اور تعلیم سے ہمدردی رکھنے کے ناطے میں محکمہ تعلیم بلتستان ریجن کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ موجودہ ڈائریکٹر صاحب کی قیادت میں محکمہ تعلیم ، بلتستان میں نظام تعلیم کی بہتری کے لیے مزید مثبت عملی اقدامات کریں گے اور اگلے چند سالوں میں ہمارا معیار تعلیم قابل رشک ہوگا اور ہمارا نظام تعلیم بھی با مقصد ہوگا۔

ایک گزارش

بہت سے اقدامات ہیں جن کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے، مگر ان میں سے انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا مسئلہ تدریسی زبان کا ہے۔ میرے حالیی مشاہدے اور معلومات کے مطابق انگریزی کی ریڈنگ کا مسئلہ تقرباً ہر اسکول میں موجود ہے۔ جماعت ہشتم کے بھی اکثر طلباء4 اپنے کورس کی انگریزی کی عبارت ٹھیک طرح سے پڑھ نہیں سکتے۔ جس کی وجہ سے ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ بچے انگریزی زبان میں سائنس، سوشل سٹڈیز، ہسٹری اور جغرافیہ کے علوم سیکھ سکیں گے۔ لہٰذا میری گزارش محکمہ تعلیم بلتستان ریجن کے افسران سے یہی ہے کہ خدا کے لیے، اور ان ننھے بچوں کے لیے ، اپنے قوم کے مستقبل کے لیے اس مسئلے پر ہمدردانہ غور فرمائیں اور ان مضامین میں اردو زبان میں تدرییس کی اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ ہمارے بچے اسکول کی دس سالہ دور میں کچھ نہ کچھ علم بھی حاصل کر سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔