چھ دہائیوں سے دانستہ طور پر گلگت بلتستان کو استحصال کا شکار رکھا جارہا ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

چھ دہائیوں سے دانستہ طور پر گلگت بلتستان کو استحصال کا شکار رکھا جارہا ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد(نامہ نگار) قیام پاکستان کے وقت گلگت بلتستان کی پاکستان میں شمولیت حادثاتی نہیں تھی بلکہ یہاں کے عوام کی خواہش کا نتیجہ تھی۔اس کے باوجود ہمیں گزشتہ 67سالوں سے دانستہ طور پر استحصال کا شکار رکھا جا رہا ہے۔گلگت بلتستان کی خوشحالی اور قومی ضروریات کی تکمیل کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈکی منظوری انتہائی اہم ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے جی بی کی 12 مرکزی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہمارا مکمل اتحاد ہو چکا ہے اور ہم نے پُرامن جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولاناسلطان رئیس نے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ محرومیوں کے نام پر آواز بلند کرنے والی مختلف تحریکیں علحیدگی کا مطالبہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن گلگت بلتسان کے محب وطن باسی پاکستانی کے آئین کی پاسداری کے لیے بے تاب ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیرہمیں ہمارا آئینی حق دیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خالصہ سرکار کے نام پر جتنی اراضی گورنمٹ آف گلگت بلتستان کی تحویل میں ہے ۔اسے قومی مفادات کے برعکس تقسیم کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے وزیر اعلی حفیظ الرحمن کی گردن میں اس وقت سریا آیا ہوا ہے لیکن امید ہے کہ بہت جلد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔پاک چین اقتصادی راہدری کے معاملے پر ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے دوسری طرف کشمیر کا حصہ بھی اس میں رکھا ہوا ہے۔سی پیک منصوبے کے حوالے سے گلگت بلتستان کے ساتھ یہ غیر مساویانہ طرز عمل ایک ناروا سلوک ہے۔گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ سمجھنے کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان رقبے کے اعتبار سے کشمیر سے چھ گنا بڑا ہے۔ کشمیر کوگلگت بلتستان کا حصہ کہا جانا چاہییے نہ کہ گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ کہا جائے۔دس نکاتی چارٹر میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہدری میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تسلیم کرتے ہوئے نیا معاہدہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ عائد شدہ تمام ٹیکسز ، ناتوڑ رول، لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری کے خاتمے سمیت میٖڈیکل و انجینئرنگ کالج کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔پریس کانفرنس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ امامیہ کونسل کے فدا حسین ، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ اصغر عسکری،اتحاد علما کونسل کے مولانا غلام رسول ناصر،تحریک انصاف کے ایڈووکیٹ معظم علی، تحریک اسلامی کے ولایت بلتی اور آل یوتھ آف گلگت بلتستان کے صدر حسنین کاظمی بھی شامل تھے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔