گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے کو ریورس گیر لگ چکاہے ، صرف باتیں کی جارہی ہیں: عارف اسلم، صدر ہوٹلرز ایسوسی ایشن بلتستان

گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے کو ریورس گیر لگ چکاہے ، صرف باتیں کی جارہی ہیں: عارف اسلم، صدر ہوٹلرز ایسوسی ایشن بلتستان

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو( رضاقصیر )ہوٹلز ایسو سی ایشن بلتستان کے صدر عارف اسلم نے کہاہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کیلئے صرف باتیں کی جارہی ہیں عملاً اس کے فروغ کے لئے کچھ نہیں کیا جارہا ہے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کو باہر کی سیر کرنے کا بڑا شوق ہے اور بڑے پیسے خرچ کر کے بیرونی ممالک کے طوفانی دورے کر رہے ہیں مگر ان سے سوال ہے کہ جرمنی اور دوسرے ممالک سے کتنے لوگ یہاں آئے ہیں؟

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جس طرح سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے پانچ سال بیرونی ممالک کے دوروں میں ضائع کئے ہیں اسی طرح حفیظ الرحمن بھی بیرون ممالک کے دوروں پر وقت ضائع کر رہے ہیں ہمیں پتہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے بیرونی دوروں سے سیاحت کے شعبے کو کوئی فائدہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ محکمہ سیاحت کو ریورس گیر لگ گیا ہے یہاں ناتجربہ کا رلوگ بیٹھے ہیں ان کی موجودگی میں گلگت بلتستان کی سیاحت کبھی ترقی نہیں کر سکتی محکمہ سیاحت میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی ہے سیاحت کی ترقی زبانی دعوؤں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے گلگت بلتستان میں سیاحت کے بڑے مواقع ہیں یہاں چین کے شہرکاشغر ،اور مچی سے پرواز یں چلائی جاسکتی ہیں میں نے وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور پی آئی اے کے چیئر مین کو اس بارے میں مکتوب بھی لکھے ہیں امید ہے کہ میرے خطوط کے مثبت جواب ملیں گے انہوں نے کہاکہ کھٹمنڈو سے بھی یہاں پروازیں شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب یہاں بین الاقوامی پروازیں چلیں گی تو علاقے کی تجارت بڑھے گی او سیاحت کو ترقی ملے گی انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت سیاحت کی ترقی کیلئے ایک پیسے کاکام نہیں کر رہی ہے اس کو چاہئے کہ سیاحت کو ترجیح دے اور اس کو سی پیک میں شامل کیا جائے انہوں نے کہاکہ شاہراہ قراقرم پر سکیورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہئے کیونکہ شاہراہ قراقرم کی سکیورٹی ناقص ہونے کے باعث سیاحت کو نقصان پہنچ رہاہے حالیہ بارشوں سے بھی سیاحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے شاہراہیں بلاک ہونے کے باعث کئی پارٹیاں واپس ہوئی ہیں حکومت شاہراہیں کھولنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ورنہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی انہوں نے کہاکہ روں سال سیاح بہت آئیں گے حکومت کو اس حساب سے اپنے انتظامات کو حتمی شکل دینی چاہئے انہوں نے کہاکہ سکردو روڈ سیاحت اور تجارت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے حکومت کو اس کی تعمیر فوری طور پر شروع کرنی چاہئے تاکہ سیاحت اور تجارت کے شعبے کو مزید تباہ ہونے سے بچایا جاسکے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔