تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے، ابراہیم ثنائی وزیر تعلیم

گلگت( سٹاف رپورٹر) وزیرتعلیم گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں خواتین میں تعلیم کا معیار کم ہونے سے معاشرے میں مشکلات جنم لے رہے ہیں۔ خواتین کی تعلیم سے پورے معاشرہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔ خواتین ہمارے اقدار کی قدر کرتے ہوئے تعلیم کے حصول کے لئے کوشش کرے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے امبسڈر مونٹوسوری سکول کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ ہمارے دور حکومت میں سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے۔اب سرکاری سکولول کی حالات پہلے سے بہتر ہے اور والدین سرکاری سکولول پر یقین کر نے لگے ہیں۔ محکمہ تعلیم نے گلگت بلتستان میں سرکاری سکولول میں داخلہ مہم کا آغا ز کر دیا ہے والدین محکمہ تعلیم کے ساتھ تعاون کر ے اور اپنے بچوں کو سرکاری سکولول میں داخل کرائے تاکہ صوبہ بھر میں شرح تعلیم کے معیار کو بلند کر سکے۔

7

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر محفل صوبائی وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نجی سکولوں بہت زیادہ کھل گئے مگر معیاری تعلیم کی کمی ہے معیاری تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نجی سکولوں میں چیک اینڈ بیلنس کا ریکارڈ ہو نا چاہیے۔ سکول کی عمارت ، ماحول اور اساتذہ کی تربیت کی طرف توجہ دینے چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دہشت گردی پھیل گئی اسکی وجہ 80کے دہائی میں ہمارے نصاب میں نفرت سکھائی گئی ۔ جس کی وجہ سے بچے بڑے ہو کر دہشت گردی میں ملوث پائے گئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے آپریشن کے ذریعے ملک سے دہشت کردی کا خاتمہ کیا۔ اب ملک پرامن بن گیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان بھی اس کا حصہ ہے۔ کل ہی قانون ساز اسمبلی میں بل پاس کیا ہے کہ لووڈ سپیکر کے غلط استعمال پر بھی سزا ہو گی۔صوبائی وزیر تعمیرات نے کہا کہ خواتین میں خواتین کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔اسلامی ممالک میں ایران سب سے زیادہ کواتین تعلیم یافتہ ہیں۔ ایران میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی ہیں ہے۔ہمارے ملک کو بھی ایران کے خواتین کی تعلیم پر آزادی کو فالو کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اخوت میں خواتین کے لئے 40کروڑ لون مختص کیا ہے۔ میں نے اپنے حلقے میں سب سے پہلے خواتین کے لئے ڈگری کالج کی منظوری کی ہے۔ خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنے خطے کی تعمیروترقی میں حصہ لیں۔ اس موقع پر مہمان خصوصی اور میر محفل نے چھوٹے بچوں میں انعامات بھی تقسیم کی۔ بچوں میں خاکے اور ٹیبلو بھی پیش کئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments