بچھڑا کچھ اس اداسے کہ رت ہی بدل گئی

بچھڑا کچھ اس اداسے کہ رت ہی بدل گئی

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کریم اللہ
آج صبح ہی سے اس کے چہرے پر غیر معمولی مایوسی ،سکوت اور اداسی طاری تھی ناشتے کے دوران بھی باربار اس بابت استفسار ہوا لیکن وہ خاموش رہے ۔۔۔۔ صحت سے متعلق پوچھنے پر بھی لب کشائی نہیں کی ۔ہم نے سمجھا کہ شائد طبعیت میں کچھ خرابی ہو ۔لیکن نہ تو بیماری کا ذکر اور نہ دردکا بیان۔۔ حسب عادت ناشتہ بھی کیا لیکن ان کے چہرے پر موجود تھکان اور اداسی نہ جانی تھی نہ گئی ۔اس روز موسم میں بھی غیر معمولی ٹھنڈک تھی ۔اتنی ٹھنڈک جتنی جنوری یا فروری کے مہینوں میں ہوتی ہے۔ رات کو برف باری بھی ہوئی تھی اور زمین بھی سفید برف کے چادر اوڑھے والد کے ساتھ اس اداسی کو بانٹنے کا سامان کئے ہوئے تھی۔وقت گزرتاگیا اور ہم بھی دنیائی معاملات نمٹانے میں مشغول ہوگئے۔۔۔ دس بجے کی چائے پر بلاوا ہوا لیکن چائے کے رسیہ کی رزق شائد پہلے ہی بند ہوچکی تھی ۔ پھر دوپہر کا کھانا تیار ہوا تو والدصاحب کو اٹھنے کا کہاگیالیکن جواب وہی کہ مجھے بھوک نہیں۔۔ آپ کھائیے میں بعد میں کھاؤنگا۔ نہ ہمیں خبر تھی اور نہ ان کو پتہ کہ دن کا گزرتاہوا ہر لمحہ انہیں ان کی حسین زندگی اور ہمیں ان کے سایہ سے دوربہت دور لے جارہی ہے ۔۔

ابھی شائد تین ہی بج گئے تھے کہ وہ دنیاوی نیند سے بیدارہوکر اٹھا لیکن۔۔۔ ابدی نیند کا غلبہ شروع ہوچکا تھا ۔۔گھر سے باہر نکلا اور چند ہی ساعتوں کے بعد جب واپس آیا تو انتہادرجے کا تندرست وتوانا شخص شدیدترین بیماری میں مبتلا تھا ۔چائے اور اوآر ایس پیش کی گئی۔ لیکن اس وقت تک زندگی دغادے چکی تھی ۔۔چائے کی ایک گھونٹ بھی نوش نہیں کی تھی کہ بیماری تیز ترہوتی گئی ۔۔ناچیز کو اکیلے ہی والد کوسنبھالنا تھا۔ صرف دس منٹ کے اندر دل کے ایک شدید دورے کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے روٹھ گئے۔ ادھر ہسپتال لے جانے کے لئے گاڑی تیار تھی ادھر والد صاحب نے اس داعی اجل کو ہمیشہ کے لئے لبیک کہا اور یوں ہمیں تنہا چھوڑ کر اپنے آباؤاجداد ،والدین اور بھائیوں کے درمیان جاکے سوگیا۔۔
بچھڑا کچھ اس اداسے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
راہ چلتے مسافر کو کیا پتہ کہ وہ جس منزل کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں دراصل اس جانب اٹھایاجانے والا ہر قدم اسے اس کی خوبصورت زندگی سے دوربہت دور ایک ایسے مقام کی جانب لے جارہی ہے جہاں سے واپسی کسی کے بھی نصیب میں نہیں حتیٰ کے بزرگان دین،اولیااللہ،پیغمبران یا عام انسان ۔سب کو ایک نہ ایک دن اس دارِ فانی سے کوچ کرکے جاناہی ہے ۔جس طرح دن اور رات ایک اٹل حقیقت ہے اسی طرح زندگی اورموت بھی حقیقت ہی ہے ۔ دن کے بعد رات یا روشنی کے بعد تاریکی لازمی ہے اسی طرح زندگی کے بعد موت ۔۔موت انسان کے ساتھ ہر لمحہ محوسفر ہوتاہے ۔انسان کی پیدائش کے بعد ہر گزرتا لمحہ اسے موت کے اورزیادہ قریب لے جاتی ہے ۔ بعض اموات اتنی شدید ہوتی ہے کہ چاہتے ہوئے بھی ان کا دکھ دل سے نکالنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی بھی انسان کو انسان بننے میں والدین کا کردارنمایاں ہوتاہے۔ والدین ہی ہے جنہوں نے ابتدائی بچپن میں اپنی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون حرام کرکے اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں ان کی تعلیم وتربیت کے لئے بڑے سے بڑے قربانی سے بھی دریع نہیں کرتے اور یوں اگر کوئی انسان کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس میں ان کی والدین کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہوتاہے ۔۔ایک غریب خاندان سے تعلق کے باؤجود جو تھوڑی بہت کامیابی خاکسار کو نصیب ہوئی ہے اس میں ان عظیم والدین کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے ہماری خاطر اپنا سب کچھ یہاں تک کہ صحت بھی قربان کردی ہمیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرکے تھوڑی بہت جسمانی مشقت سے سکون حاصل کرنے کا وقت آیا تو اس عظیم والد سے زندگی نے وفا نہ کی۔جس نے ہماری خاطر زندگی بھر بلوچستان کے صحراؤں کی خاک چھاننی ۔
19مار چ سن 2016ء ہفتہ کا دن تھا جبکہ تیسرے پہر تین بجے صرف دس منٹ کی بیماری کے بعد میرے والد نے وفات پائی ۔
تہ بزمہ نیشی ہوئے حیاتوراز مہ تے معلوم
ادب چھچھیتاؤبس تو مہ انسان کوری بغاؤ
والد کو مرحوم لکھتے ہوئے دل نہیں کرتا ۔حیرت اس بات کی ہے کہ اتنی صحت مند او رمضبوط اعصاب کے مالک اتنی جلدی زندگی کی بازی کس طرح ہار گئے ۔

دل منتظرکو کیاخبر کہ وہ انمول تحفہ
اب کبھی لوٹ کرواپس نہ آئے گا
والدین سب کے لئے بے انتہا عزیز ہوتے ہیں لیکن میرے قابل احترام والد اپنی ذات میں انسانی صورت کا ایک فرشتہ تھا انتہائی سیدھے سادھے ،پرخلوص اور صداقت کا پیکر جس کی زندگی زہد وتقویٰ سے لبریز تھی ۔شائد انتہائی نامساعد حالات کے باؤجود بھی انہوں نے کبھی عبادت میں کمزوری دکھائی ہو۔ مذہب سے ان کی عشق کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جو وعدہ کرتے نبھانے کو فرضِ منصبی سمجھتے تھے۔ خدمت خلق اور عوامی کاموں میں سب سے پیش پیش۔ ابھی صرف دو سال ہی گزرے تھے نوکری کو چھوڑ کر گھر آئے لیکن ہمیں خدمت کا موقع نہ دیا دل کے دورے نے ان کو ہمیشہ کے لئے ہماری آنکھوں سے اوجھل کردیا ۔ جون ایلیانے زندگی کی کیاخوبصورت منظر کشی کی ہے
اک ناٹک سے زندگی آہ کی جائے واہ کی جائے۔
کیا وہ محض ایک خواب تھا خیال تھافسانہ یا سراب ؟؟ جو موجود ہوکے بھی دکھائی نہیں دیتی ۔کیا زندگی واقعی اتنی ہی دھوکہ دہی کا نام ہے جوکہ ایک ہنستے مسکراتے اور ہزاروں امنگیں لئے انسان کو سکنڈوں میں خاموش کردیتے ہیں۔
نہ دید ہے نہ سخن، نہ حرف ہے نہ بیان
کوئی بھی ہلہء تسکین نہیں اور آس بہت ہے
امیدِ یار ،نظر کا مزاج،درد کا رنگ
تم آج کچھ نہ پوچھوکہ دل اداس بہت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔