جی بی آرڈر – لاٹھی سے لاٹھی تک

آج کل گلگت بلتستان آرڈر زبان زدِ خاص و عام ہے۔ عوام و خاص میں شدید الفاظ میں اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ اس مخالفت میں اس وقت شدت آئی جب پُرامن مظاہرین پر آنسو گیس اور فائرنگ کی گئی۔ پھر کل قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے سامنے جو کچھ ہوا۔ وہ حکمران جماعت کی حماقت اور بقول کاکو ایمان شاہ وزیراعلیٰ صاحب کی جذباتی تقریر نے بھی جلتی پہ تیل کا کام دیا۔ اپوزیشن ممبران کی طرف سے آرڈر کی کاپیاں وزیراعظم کے سامنے پھاڑنا اور فوجی (ر) امین کا اپوزشن پہ آوازیں کسنا اور حملہ کرنا جبکہ جواب میں ایک اپوزیشن ممبر جہانزیب کا اپنی لاٹھی سے فوجی (ر) امین کی بھری محفل میں دھلائی کرنا یہ سب باتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ ہمارے پاس لیڈروں کی کال اور ٹھیکیداروں کی بہتات ہے۔ یہ ایک بہتر افہام و تفہیم کے ساتھ اسمبلی فلور پر وزیراعظم کو قائل کرسکتے تھے لیکن سب جذبات کی رو میں بہہ کر آپس میں لڑتے رہے اور دشمن تماشا دیکھتا رہا شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ مجھے جہانزیب صاحب کی لاٹھی سے زیادہ وزیراعلیٰ کی جذباتی تقریر، فوجی (ر) امین کی بے تکی حرکت اور دیگر حکومتی ممبران کی تالیوں اور ’’یس سر‘‘ والے رویے پہ افسوس ہو رہا ہے۔ آپ کو عوام نے تالیاں بجانے کے لیے اسمبلی نہیں بھیجا ہے۔ مجھے فوجی (ر) امین سے گلہ نہیں کیونکہ کچھ لوگوں کی عمریں تالیاں بجھاتے اور سیلیوٹ مارتے گزرتی ہیں۔ لیکن آپ سب سے گلہ ضرور ہے۔ جہانزیب صاحب کے لیے اس لیے بھی داد اور اس کی لاٹھی اس لیے بھی قابلِ برداشت ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد انہی لاٹھیوں کے ذریعے ڈوگرہ راج کو مار بھگایا تھا بس فرق اتنی سی ہے کہ اس وقت لاٹھی کا استعمال دشمن پہ ہوا تھا اب کی بار آپس میں ہوئی اور دشمن تماشا دیکھتا رہا۔ کاش اے کاش ان تمام ممبران میں اتفاق ہوتا وہ اپنی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کم از کم دھرتی ماں کے لیے ایک ہوتے اور وہ نا لائق سہی بات کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا سہی لیکن لاٹھیوں اور گھونسوں سے ایک دوسرے سے برسر پیکار ہونے کی بجائے اگر وزیراعظم صاحب کی توضع اس لاٹھی سے کرتے تو کم از کم کل کی تاریخ میں یہ بات لکھی جاتی کہ ایک غیر منتخب وزیراعظم کو گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں پیٹا گیا۔ اس کے بعد پھر اس طرح کے آرڈرز اور پیکیجز دینے سے پہلے حکمران سو دفعہ سوچتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ وجہ صاف ظاہر ہے ہر کسی کو اپنی کرسی کی فکرکھائی جا رہی ہے۔ دھرتی ماں کی عزت داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ ستر سال گزرنے کے باوجود دھرتی ماں کی شناخت کا مسلہ اٹکا ہوا ہے۔ اور ہم سیاسی وابستگیوں کی آڑ میں کبھی رائیونڈ کی غلامی تو کبھی لاڑکانہ کی اور کبھی بنی گالہ کی۔ میرے خیال میں یہ سیاسی وابستگی نہیں بلکہ غلامی اور سیاسی پستی ہے۔ دوستِ محترم جمشید دُکھی نے بہت پہلے کہا تھا؎

رشتہ کبھی میاں سے کبھی بے نظیر سے

دو دو شکار لوگ کریں ایک تیر سے

انسانیت کے نام پہ کب ہوں گے لوگ ایک

ہے میرا یہ سوال جہاں کے ضمیر سے

یا پھر یہ اشعار؎

بدل دے خو امیرِ وقت ورنہ

سبق اقبال کے شاہین دیں گے

نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں

وہ حاکم کیا ہمیں آئین دیں گے

وزیراعلیٰ صاحب میری طرح اپنے مسلک کے مولوی بھی ہیں۔ ایک اچھے اور ذمہ دار انسان ہیں۔ اب تک بخدا مجھے ان کے کام پر بڑا رشک تھا۔ مجھے ان کی پارٹی سے کوئی سروکار نہیں اور کسی بھی پارٹی سےوابستگی نہیں۔ قلم کار کسی ایک پارٹی کے نہیں ہوتے لیکن کچھ قلم کاروں کی تحریریں دیکھ کر الٹی آتی ہے وہ مخصوص مسلک یا پارٹی کا آرگن بن کر اپنے ضمیر کا سودا تو کر ہی لیتے ہیں لیکن قلم و کاغذ کی حرمت کو بھی داؤ پہ لگاتے ہیں۔ ان دنوں بھی ہمارے ایک قریبی دوست جس کا ہر جملہ حفیظ زندہ باد سے شروع ہوکر مسلم لیگ ن زندہ پہ ختم ہوتا ہے۔ بخدا! اسی ڈر اور خوف سے کہ کوئی مجھے کسی سیاسی پارٹی کا آرگن نہ سمجھے کہہ کر میں سیاسی معاملات پہ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن کئی قدردانوں نے مجبور کیا کہ مجھے بھی دھرتی ماں کے حوالے سے عوامی موقف حکومت کے سامنے رکھنا چاہئیے۔ خیر! یہ بات جملۂ معترضہ کے طور پر بیج میں آئی۔ بات ہو رہی تھی حفیظ سرکار کی۔ میں حفیظ صاحب کو سابق وزیراعلیٰ مہدی شاہ سے کمپئیر کرتا ہوں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ مہدی شاہ خود کہا کرتے تھے کہ وہ انڈر میٹرک ہے اور ’’دیکھیں جی ہم کہتا ھوں۔‘‘ اور ’’آں آں آں‘‘ کہتے کہتے اپنے پانچ سال گزار دیے یا یوں سمجھے کہ گزر گئے کیوں کہ اس کے بعد ان کی اور ان کی پارٹی کی اجتماعی نمازِ جنازہ عوام نے الیکشن میں جس طرح پڑھائی تھی وہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے اور عوامی میڈیٹ کا مثبت اظہار بھی۔ لیکن اس کے مقابلے میں حفیظ صاحب جن کو میں پرسنلی جانتا تک نہیں ہوں اور نہ کبھی ہماری ملاقات ہوئی ہے، نے کئی حوالوں سے کام کرکے دکھایا۔ کام نہ سہی وہ اچھے طریقے سے اردو میں بات تو کرسکتے ہیں۔ اپنا موقف بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان کرسکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس غلامانہ آرڈر کے حوالے سے بھی عوام کی آواز بنتے۔ اس کے لیے عوام اور اپوزشن ممبران کے ساتھ مل کر وزیراعظم کے سامنے احتجاج کرتے تو وہ صرف پانچ سال کے وزیراعلیٰ نہیں اس خطے کے عظیم لیڈر کی صورت میں تاریخ میں رقم ہو جاتے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ یورپ میں کتوں کو جو حقوق حاصل ہیں ہمیں ان کتوں کے برابر بھی حقوق میسر نہیں۔ اس کے باوجود عوام خاموش ہیں لیکن کہتے ہیں خاموشی جب ٹوٹتی ہے تو قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ جمشید دُکھی نے خوب کہا ہے؎

خاموشی میں بھی کوئی مصلحت ہے

میرے اہلِ وطن بزدل نہیں ہیں

جو کتوں کو حقوق یورپ نے بخشے

وہ انسانوں کو یاں حاصل نہیں ہے

دوستِ محترم عبدالخالق تاج کے مزاح میں کہے گئے یہ اشعار بھی دعوتِ فکر دیتے ہیں؎

بڑی مشکل سے آزادی ملی ہے

مگر آئین سے خالی ملی ہے

وہ لے کر چل دئیے آئین کے پھل

ہمیں خالی یہاں تھالی ملی ہے

شہیدو! میرے گلشن کے گلوں میں

تمہارے خون کی لالی ملی ہے

یہی وجہ ہے کہ جب سی پیک کی بات آتی ہے تو ہم پاکستانی، کے ٹو، ہمالیہ، راکاپوشی کی بات آتی ہے تو ہم پاکستانی، وطن کی دفاع کی بات آتی ہے تو ہمارے بچے شہید ہوتے ہیں اور ہم پاکستانی لیکن جب حقوق دینے کی بات آتی ہے تو مسلہ کشمیر سے نتھی، ہم متنازعہ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ حد ہوتی ہے جناب!

اب بھی وقت ہے۔ اس کالے قانون جو آرڈر دوہزار آٹھارہ کے نام سے گلگت بلتستان کے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ صاحب کو اپنی پوری کابینہ کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بن کر اس کی مخالفت کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی وزیراعظم صاحب نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید تبدیلیوں کے لیے تیار ہے بشرط کہ ہمارا موقف ہمارے نمائندے بہتر انداز میں حکومت کو پریذنٹ کرے۔ ورنہ وقت بڑا ظالم اور تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے کہ عوام جب اپنی اپنی لاٹھیوں کو لے کر گھر سے باہر نکلیں گے تو شاید اس عوامی طوفان کے سامنے کرسی جلد یا بدیر ٹوٹ ضرور جائے گی اور لاٹھی سے لاٹھی تک کا یہ سفر بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کسی دل جلے نے خوب ہی کہا ہے؎

وہ وقت بھی دیکھا ہے تاریخ کی گھڑیوں نے

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

جمشید دُکھی صاحب کے ان اشعار کے ساتھ اجازت؎

میری دھرتی تو میری آبرو ہے

تیری تصویر پیہم روبرو ہے

تیری رعنائیوں اور خوشبوؤں میں

میرے اسلاف کا شامل لہو ہے

شبِ ظلمت کا ہوگا کب سویرا

اندھیرا ہی اندھیرا چار سو ہے

پتہ سسرال کا دو تو خبر لیں

میری ماں تو بتا کس کی بہو ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments